Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / حضرت سہلؓ بن حُنَیْف غزوات میں ثابت قدم، حسن و جمال میں بے مثال تھے

حضرت سہلؓ بن حُنَیْف غزوات میں ثابت قدم، حسن و جمال میں بے مثال تھے

اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا کا تاریخ اسلام اجلاس۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی کا خطاب

حیدرآباد ۔7؍فبروری( پریس نوٹ) غزوات مقدسہ کے موقعوں پر ذات اطہرؐ پر اپنی جانوں کو نچھاور کر دینے کے لئے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی روح پرور کوششیں ناقابل فراموش ہیں بالخصوص احد کے اضطراب آمیز لمحات میں مہاجرین و انصاریوں کی وہ جماعت جس نے محافظت کے فرائض انجام دیتے ہوے ثابت قدمی اور جاں نثاری کے جو منور نقش چھوڑے ہیں ان کے اجالوں سے فدائیان حبیب کبریاؐ کے بطون ہمیشہ روشن رہیں گے اس مبارک جماعت میں حضرت سہلؓ بن حنیف کو بھی شامل رہنے کا دائمی شرف حاصل ہوا۔ ان حقائق کے اظہار کے ساتھ ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح ۹ بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن ،سبزی منڈی اور دو بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی، مالاکنٹہ روڈ،روبرو معظم جاہی مارکٹ میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا (آئی ہرک) کے زیر اہتمام منعقدہ ’1185‘ویں تاریخ اسلام اجلاس کے علی الترتیب پہلے سیشن میں احوال انبیاء علیھم السلام کے تحت حضرت ایوب علیہ السلام کے مقدس حالات اوردوسرے سیشن میں ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے ضمن میں صحابی رسول اللہؐ حضرت سہل بن حُنَیْفؓ کے احوال شریف پر مبنی توسیعی لکچر دئیے۔ قرا ء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے دونوں سیشنس کا آغاز ہوا۔ڈاکٹر حمید الدین شرفی نے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوے بتایا کہ حضرت سہلؓ کو رسول اللہؐ کے ہمراہ بدر اور تمام مشاہد میں شرکت کا اعزاز ملا۔ احد کے روز ثابت قدم رہے اور اس دن انھوں نے عزم شہادت کے ساتھ دست اقدس پر بیعت کی تھی اور رسول اللہؐ کی طرف سے تیر اندازی کا شرف پا رہے تھے اور محافظت و مدافعت کا فریضہ نہایت شجاعت اور خوبی کے ساتھ انجام دے رہے تھے۔ان کے متعلق یہ ارشاد مبارک ملتا ہے کہ حضورؐ نے فرمایا ’’سہل کو تیر دو کیوں کہ وہ سہل(نرم) ہیں‘‘۔حضرت سہلؓ نہایت قوی، وجاہت والے اور بے حد حسین و جمیل تھے ان کا بدن بہت خوبصورت تھا ایک بار وہ رسولؐ اللہ کے ہمراہ مجاہدین کے زمرہ میں شامل تھے ان کا گزر ایک نہر پر ہوا انھوں نے اس میں غسل کیا ۔دوران غسل ان کے ایک ہم قوم نے ان کا خوبصورت جسم دیکھا اور حسرت کرتے ہوے چلے گیا۔ حضرت سہلؓ نہا کر نکلے تھے کہ بیمار پڑ گئے اور انھیں تیز بخار چڑھ گیا بخار کی حالت میں رسول اللہؐ کی خدمت میں لاے گئے تو حضور ؐ نے فرمایاکہ جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی میں خوبی دیکھے اور خوش ہوتو چاہئیے کہ برکت کی دعا کرے کیوں کہ نظر کا لگنا حق ہے۔ ڈاکٹر حمید الدین شرفی نے کہا کہ حضرت سہلؓ کی کنیت ابو سعد تھی ان کا شجرہ نسب ان کے دادا واہب بن عکیم سے ہوتا ہوا حنش بن عوف بن عمرو بن عوف سے جا ملتا ہے۔ قبیلہ اوس سے تعلق تھا ان کی والدہ ہند بنت رافع بن عمیس تھیں۔ رسول اللہؐ نے حضرت سہلؓ بن حنیف اور حضرت ابو دجانہؓ سماک بن خزشہ کو اموال بنی نضیر میں سے حصّے عطا فرمائے ۔یہ دونوں مساکین انصار میں سے تھے۔ حضرت سہلؓ بن حنیف منفرد اوصاف حمیدہ سے متصف تھے محبت خدا و رسول سے مالا مال تھے خوف الٰہی اور اتباع رسالتؐ میں اپنی مثال آپ تھے۔ حسن صورت و سیرت ہر دو سے بہرہ مند نہایت شجیع، بہادر اور فنون حرب سے واقف تھے غزوات و مشاہد میں ان کے کارنامے خود اس کی دلیل ہیں۔ حضرت عمر بن خطابؓ انہیں بے حد چاہتے تھے اور فرماتے میرے لئے سہل بے غم کو بلائو۔ حضرت سہلؓ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ساتھ رہتے تھے۔ ایک بار انھیں مدینہ میں اپنا قائم مقام بھی بنایا تھا حضرت سہلؓ  صفین میں حضرت علیؓ کے ساتھ تھے۔ وہ بلاد فارس کے والی بھی مقرر کئے گئے تھے۔ حضرت سہلؓ نے 38ھ میں بمقام کوفہ وفات پائی۔ چوں کہ وہ بدری صحابی تھے اس لئے ان کا بڑا اکرام تھا ان کے جنازہ کی نماز حضرت علیؓ نے پڑھائی اور چھ تکبیریں کہیں ایک روایت میں پانچ تکبیروں کا ذکر ہے۔ حضرت سہلؓ کے دو فرزند تھے ابو امامہ اور عبد الملک۔ ان دونوں اور دیگر اصحاب نے حضرت سہلؓ سے روایت کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT