Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / حضرت سیدنا علیؓ کی تعلیمات اور خطبات مسلمانوں اور نوع انسانی کیلئے مشعل راہ

حضرت سیدنا علیؓ کی تعلیمات اور خطبات مسلمانوں اور نوع انسانی کیلئے مشعل راہ

کل ہند نہج البلاغہ سوسائٹی کا سمینار، جناب زاہد علی خان ، آغا حسن نوریان و دیگر کا خطاب
حیدرآباد 8 جنوری (سیاست نیوز) حضرت سیدنا علی ابن ابی طالبؓ کا تصور حکومت انصاف، مساوات، رواداری اور حق و صداقت کی بنیادوں پر قائم تھا۔ دنیا کی تاریخ میں اس طرز حکومت کو حقیقی اسلامی طرز حکومت قرار دیا جاسکتاہے جس میں حاکم خود کو اللہ کا بندہ اور عوام کا خادم سمجھتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار مقررین و دانشوروں نے آج کل ہند نہج البلاغہ سوسائٹی کے زیراہتمام ’’تصور حکومت ۔ علیؓ اور نہج البلاغہ کی روشنی میں‘‘ کے موضوع پر ویسٹرن بلاک آڈیٹوریم، سالار جنگ میوزیم میں منعقدہ سمینار میں کیا۔ ڈاکٹر شوکت علی مرزا صدر کل ہند نہج البلاغہ سوسائٹی نے صدارت کی۔ قونصل جنرل اسلامی جمہوریہ ایران متعینہ حیدرآباد جناب آغا حسن نوریان نے کہاکہ عصر حاضر میں دنیا کے کئی ممالک کامیاب حکمرانی کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن اِس کے باوجود عوام کی بڑی تعداد اضطراب، سیاسی بحران، اخلاقی و اقتصادی گراوٹ سے دوچار ہے۔ کتنے ہی مستحق افراد حقوق سے محروم ہیں۔ انھوں نے کہاکہ مولائے کائنات حضرت علیؓ نے اپنے دور خلافت میں مصر کے گورنر کو ہدایت دی تھی کہ وہ حاکم اور محکوم کے تصور کو مٹاکر رعایا کے ساتھ انصاف کرے اور خود کو بندگانِ خدا کا خدمت گذار سمجھے۔ اسلامی تصور حکومت میں عفو و درگذر اور غیر مسلموں کے ساتھ بہتر حسن سلوک کی تلقین کی گئی ہے۔ دوسروں کے مذہبی جذبات کا احترام کرنا حکمرانوں کا اولین فریضہ ہے۔ جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے کہاکہ شہرحیدرآباد ہمیشہ ہی سے مولائے کائنات حضرت سیدنا علیؓ کے چاہنے والوں کا مرکز رہا ہے۔ حضرت سیدنا علیؓ کی تعلیمات اور آپ کے فکر انگیز خطبات نہ صرف مسلمانوں بلکہ نوع انسانی کے لئے مشعل راہ ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ کل ہند نہج البلاغہ سوسائٹی کی سرگرمیاں قابل ستائش ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سوسائٹی کی جانب سے حضرت سیدنا علیؓ کے ابدی پیام کو دنیا کے گوشے گوشے تک پھیلایا جائے۔ آج کا ترقی یافتہ انسان مادی آسائشوں کے باوجود روحانی تشنگی سے دوچار ہے اس لئے ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ ہم حضرت علیؓ کے پیام کو عام کریں اور اُن کے تصور حکومت کو اُجاگر کیا جائے تاکہ موجودہ حکمرانوں کو حقیقی ہدایت اور روشنی حاصل ہوسکے۔ سوسائٹی کی سرگرمیوں سے واقف کروانے کے لئے ویب سائٹ کا آغاز کیا گیا ہے۔ جناب زاہد علی خاں نے کہاکہ حیدرآباد میں نہج البلاغہ سوسائٹی بھون تعمیر کیا جانا چاہئے۔ اس سلسلہ میں حکومت تلنگانہ کو توجہ دلوانے کی ضرورت ہے۔ اُنھوں نے اِس موقع پر حضرت سیدنا علیؓ سے اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے حضرت شاہ خاموشؒ اور شجیع کے اشعار کے حوالے سے کہاکہ حضرت سیدنا علیؓ مشکل کشا ہیں اور ہر مشکل میں اِن کی یاد سے مشکلیں آسان ہوجاتی ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ آج 1400 برس کے بعد بھی حضرت سیدنا علیؓ کی تعلیمات اور آپ کا پیام ہم سب کے لئے سرچشمہ ہدایت ہے۔ اُنھوں نے سیاست کی سرگرمیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ دو بہ دو ملاقات پروگراموں کے ذریعہ سینکڑوں لڑکوں اور لڑکیوں کے رشتے طے پائے۔ اسی طرح کپڑا بینک کے قیام کے باعث مستحق اور غریب افراد میں ملبوسات کی تقسیم کا باقاعدہ نظم قائم ہے۔ اب سیاست اور فیض عام ٹرسٹ ساڑھے چار کروڑ کی مالیت سے اولڈ ایج ہوم قائم کرنے جارہا ہے۔ جس سے معمر والدین کی نگہداشت بہتر طور پر کرتے ہوئے اُسے یقینی بنایا جاسکے۔ ڈاکٹر شوکت علی مرزا نے سوسائٹی کی کارکردگی کا ذکر کیا اور کہاکہ سوسائٹی کی جانب سے ایک بورڈ کی تشکیل کا منصوبہ ہے۔ جبکہ ویب سائٹ کا بھی آغاز کیا گیا ہے۔ ڈاکٹر سید امتیاز اسوسی ایٹ پروفیسر شعبہ عربی نیو کالج چینائی نے کہاکہ مولائے کائنات نے عدلیہ کے احترام، عدلیہ کی عظمت کو واضح کیا ہے کیوں کہ وہی حکومت کامیاب قرار دی جائے گی جس میں آزادی، مساوات کے ساتھ ساتھ کمزوروں کا تحفظ کیا جائے۔ حضرت سیدنا علیؓ نے انسانی حکومت کے فاسد تصور کو ختم کرکے حکومت الٰہیہ کا پیغام دیا ہے۔ سردار نانک سنگھ نشتر نے کہاکہ حضرت سیدنا علیؓ نے اقتدار کو بندگانِ خدا کی خدمت کا وسیلہ بنایا۔ مذہب کے نام پر استحصال کی شدید مخالفت کی گئی۔ انھوں نے کہاکہ حضرت سیدنا علیؓ کا پیام آج بھی صاحب اقتدار افراد اور اداروں کے لئے سرچشمہ ہدایت ہے۔ مولانا آغا مجاہد حسین نے کہاکہ حضرت سیدنا علیؓ نے حکومت کا جو تصور پیش کیا وہ فرد کے حدود کو لامحدودیت اور محکومیت کو آزادی سے ہمکنار کرتا ہے۔ آج کے اِس پُرآشوب دور میں عدل و انصاف اور نیکی و صداقت کے تصورات مفقود ہوتے جارہے ہیں اور بعض مواقع پر حکومت کی کمزوری کے بناء عوام کا استحصال ہوتا ہے۔ حضرت علیؓ نے حکومت الٰہیہ کا وہ تصور پیش کیاکہ جس کے ذریعہ ایک ادنیٰ شخص بھی حکومت کے تمام مراعات سے مستفید ہوسکے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان اللہ کی زمین سے شیطانی طاقتوں کا قلع قمع کردے۔ جناب تقی عسکری ولا نے سمینار کی کارروائی چلائی اور شکریہ ادا کیا۔ اس سمینار کا آغاز قرأت کلام پاک سے ہوا۔ سمینار میں جناب افتخار حسین، عباس حسین خان، مجتبیٰ حسین، ڈاکٹر مجید بیدار، جناب علی رضا صدر سیرت الزہرہ کمیٹی، سید امتیازالدین کے علاوہ کئی معززین، دانشوروں، اصحاب و خواتین اور طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

TOPPOPULARRECENT