Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / حضرت سیدنا علی ؓخلیفہ چہارم، باب علماور سر چشمہ فیضان ولایت

حضرت سیدنا علی ؓخلیفہ چہارم، باب علماور سر چشمہ فیضان ولایت

اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا کا اجلاس۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی اورپروفیسرسید محمدحسیب الدین حمیدی کے لکچرس
حیدرآباد ۔9؍اپریل( پریس نوٹ) حضور انور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آغوش رحمت میں نشو و نما پانے والے بنو ہاشم کے روشن چراغ،شجاع اعظم، شیر خدا، امیر المومنین ، خلیفہ چہارم حضرت سیدنا علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہٗ کو نو عمروں میں سبقت اسلام کا منفرد اعزاز اور ابتداء ہی سے خدمات دین حق کا شرف حاصل ہوا ۔ فہم قرآن مجید، روایت و کتابت احادیث اور استنباط مسائل میں حضرت علی ؓ بے مثل و بے نظیر تھے آپ کی مجتہدانہ شان، عادلانہ مزاج، عمدہ فیصلوں اور بلند تر علمی مرتبہ کا معاصر صحابہ کو اعتراف تھا۔ حضرت علی ؓ  قران شریف کی آیات کے نزول کے موقع و محل اور جملہ تفصیلات سے واقف تھے کہ کونسی آیت مبارکہ کب، کہاں اور کس کے بارے میں اتری ہے، فقہی احکام پر مبنی احادیث نبویؐ کا ایک مجموعہ ہمیشہ آپ کے پاس رہا کرتا تھا۔ حضرت علی کرم اللہ وجہٗ علم و حکمت کے بحربے کنار، فصاحت و بلاغت میں یکتاے روزگار تھے حضرت علی المرتضیٰؓ کے خطبات علم و حکمت، تدبر و دانائی، زبان و بیان، روانی و سلاست ،جامعیت اور تاثیر ہر لحاظ سے شاہکار ہوا کرتے تھے اس عہد میں لکھنے کا بہت کم رواج تھا اس کے باوجود حضرت علی ؓ  کو تحریر میں کمال حاصل تھا۔شجاعت و بہادری کا کوئی تذکرہ ہو حضرت علی ؓ کے نام مبارک کے بغیر پورا نہیں ہوتا۔ آپ نے تبوک کے سوا تمام غزوات مقدسہ میں اپنی بے پناہ قوت ، دلاوری، جراء ت و حوصلہ مندی، مہارت حرب کا سکہ بٹھا دیا اور اپنی سیف کے جوہر دکھاے۔ باب علم، شیر خدا حضرت علی  ؓ حضور رحمتہ للعلمین ؐ کے چہیتے اور ابن عم،خلیفہ چہارم اور خلفاے ثلاثہ کے رفیق و مشیر و معاون، فاتح خیبر، قاضی یمن اور سلاسل طریقت کے امام اور سر چشمہ فیضان ہیں۔ ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح 9 بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن ،سبزی منڈی اور 11.30بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی، مالاکنٹہ روڈ،روبرو معظم جاہی مارکٹ میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل (انڈیا) آئی ہرک کے زیر اہتمام منعقدہ’1246‘ویں تاریخ اسلام اجلاس کے  دونوں سیشنس میںرسول اللہؐ کے ابن عم، امیرالمومنین حضرت سیدنا علی کرم اللہ وجہہ ا کے احوال شریف پر مبنی توسیعی لکچر دئیے۔ قرا ء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے دونوں سیشنس کا آغاز ہوا۔ بعدہٗ انھوں نے انگلش لکچر سیریز کے ضمن میں حیات طیبہؐ کے مقدس موضوع پراپنا  ’۹۷۹‘ واں سلسلہ وار لکچر دیا۔بعد ازاں انھوں نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی حیات مبارکہ کے مختلف نورانی پہلو پیش کرتے ہوے کہا کہ حضرت علی ؓکی نسبی شرافت مسلمہ ہے وہ رسول اللہ ؐ کے چچا حضرت ابو طالب کے فرزند جلیل اور سردار مکہ حضرت عبدالمطلب کے پوتے تھے اور بچپن میں حضور اکرم ؐ نے ان کی کفالت فرمائی۔ ساری زندگی رسول اللہؐ کی خدمت اقدس میں گزارنے کا شرف پایا رسول اللہ ؐ  کی چھوٹی صاحبزادی شہزادی کونین سیدۃ النساء عالمین ،خاتون جنت حضرت بی بی سیدہ فاطمہ ؓ  زہرا سے تزوج آپ کے کلاہ افتخار کا امتیازی طرہ ہے۔ رسولؐ اللہ کی ذات اطہرؐ کے ساتھ سچی وارفتگی، جاں نثاری کے روح پرور مظاہراور بے پایاں محبت کے باعث ساری امت کے قلوب میں حضرت علی ؓ کی محبت نے گھر بنا رکھا ہے۔ حضور اکرم ؐ سے تقرب خاص، برادر عم زاد، داماد اور نہایت چہیتے رفیق ہونے کے باوصف حضرت سیدنا علی ؓ نے اپنی زندگی کے ہر پل میں آداب و احترام رسالتؐ  کو ملحوظ رکھا اور جاں نچھاور کرنے کے کسی موقع کو ہاتھ سے جانے نہ دیا۔ حضرت علی  ؓ کو ہمیشہ حضور انور ؐ  کی خدمت اقدس کی سعادتیں ملتی رہیں یونہی رحلت شریف کے بعد خدمات خاص کا شرف بھی ملا۔انھوں نے بتایا کہ بعثت شریف سے تقریباً دس سال قبل۱۳؍ ماہ رجب المرجب کو حضرت علی ؓ کی ولادت با سعادت ہوئی ۔ کم عمری میں سعادت ایمان سے ممتاز ہوے اور پھر نصرت دین کے لئے وقف ہو گئے۔ شب ہجرت بستر رسول ؐ پر استراحت کا شرف پایا۔ بعدازاں خود بھی ہجرت کی۔ماہ رمضان المبارک 40 ھ میں شہادت کا جام نوش فرمایا۔

TOPPOPULARRECENT