Friday , August 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ کا مقام و مرتبہ

حضرت سیدنا فاروق اعظم ؓ کا مقام و مرتبہ

قاضی محمد حمید الدین

حضرت خلفیۂ دوم کا نام مبارک عمر، کنیت ابوحفص اور لقب فاروق اعظم ہے۔ آپ کے والد کا نام خطاب اور والدہ کا نام عنتمہ ہے، جو شہام بن مغیرہ کی بیٹی ہیں۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اشرافِ قریش میں بہت ممتاز ہیں۔ آپ کا سلسلۂ نسب آٹھویں پشت میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلۂ نسب سے جا ملتا ہے۔ آپ واقعۂ فیل کے تیرہ سال بعد مکہ مکرمہ میں پیدا ہوئے اور اعلان نبوت کے چھٹے سال ۲۷برس کی عمر میں مشرف بہ اسلام ہوئے۔ آپ بے شمار کمالات کے حامل اور بے شمار خوبیوں کے مالک تھے۔ آپ زہد و تقویٰ کے پیکر، بہادری اور دلیری کے مظہر اور عدل و انصاف کے خوگر تھے۔ آپ کے عدل و انصاف کا اعتراف نہ صرف اپنے بلکہ غیر بھی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اگر کسی کو کامیاب حکمرانی کرنی ہو تو وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دورِ خلافت کو پیش نظر رکھے۔ یہ سب کچھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دعا کا صدقہ ہے، جس میں آپﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ ’’اے اللہ! اسلام کو عزت و بلندی عطا فرما، بطور خاص عمر بن خطاب کے ذریعہ‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے اس دعا کو قبول فرمایا، جس کی گواہی تاریخ اس طرح دیتی ہے کہ کبھی یہ دعا عدل و انصاف کی شکل میں نظر آئی تو کبھی علانیہ ہجرت کی شکل میں۔
خلیفۂ دوم حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فضائل و مناقب بے شمار ہیں۔ قرآن کریم کی بہت سی آیات آپ کے فضائل و کمالات کے بارے میں نازل ہوئیں۔ قرآن کریم میں ۲۱مقامات ایسے ہیں، جہاں اللہ تعالیٰ نے آپ کی رائے کے مطابق احکامات نازل فرمائے، جس سے رب العزت کی بارگاہ میں آپ کے مقام و مرتبہ اور آپ کی علمی لیاقت کا اظہار ہوتا ہے۔
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک تم سے پہلے کی امتوں میں محدث ہوا کرتے تھے، اگر میری امت میں کوئی محدث ہے تو وہ عمر ہے‘‘ (متفق علیہ) حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا کہ ’’میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دودھ کا پیالہ لایا گیا۔ میں نے پیا، یہاں تک کہ سیرابی کو اپنے ناخنوں سے نکلتے ہوئے دیکھا۔ پھر بچا ہوا دودھ میں نے عمر بن خطاب کو دے دیا‘‘۔ لوگ عرض گزار ہوئے: ’’یارسول اللہ! آپ اس سے کیا مراد لیتے ہیں‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’علم‘‘۔ آپ ہی سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بے شک اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور دل پر حق جاری فرمادیا ہے‘‘۔ (ترمذی)

حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا کہ ’’میرے دو وزیر آسمانوں میں جبرئیل و میکائیل ہیں اور زمین میں دو وزیر ابوبکر و عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہما) ہیں‘‘ (ترمذی) حضرت محمد بن سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اے ابن خطاب! مبارک ہو، اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے، جس راہ سے عمر گزرتا ہے شیطان اس راہ سے ہٹ جاتا ہے‘‘ (بخاری) حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے فاروق اعظم سے محبت کی، گویا اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے عمر کو ناراض کیا، اس سے میں بھی ناراض ہوں‘‘۔ (نزہۃ المجالس)
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ’’عمر بن خطاب جنتیوں کے آفتاب ہیں‘‘۔ ایسی بہت سی احادیث ہیں، جن سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا مقام و مرتبہ نگاہِ مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم میں کیا تھا۔ آپ کے تنہا فضائل میں بھی احادیث موجود ہیں اور اٹھاسی (۸۸) احادیث ایسی ہیں، جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے فضائل بیان فرمائے ہیں۔
حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے علاوہ ہم کسی ایسے شخص کو نہیں جانتے، جس نے علانیہ طورپر ہجرت کی ہو‘‘۔ جس وقت آپ ہجرت کی نیت سے نکلے تو آپ نے اپنی تلوار گلے میں لٹکائی، کمان کندھے پر اور ترکش سے تیر نکال کر ہاتھ میں لے لیا۔ پھر بیت اللہ شریف کے پاس حاضر ہوئے، جہاں بہت سے اشراف قریش بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ نے اطمینان سے کعبہ شریف کا طواف کیا، پھر بہت ہی اطمینان سے مقام ابراہیم کے پاس دو رکعت نماز پڑھی۔ اس کے بعد اشراف قریش کی جماعت کے پاس آکر فرمایا: ’’جو شخص اپنی ماں کو بے اولاد، اپنے بچوں کو یتیم اور اپنی بیوی کو بیوہ کرنے کا ارادہ رکھتا ہو، وہ اس وادی کے اس طرف آکر میرا مقابلہ کرے‘‘۔ آپ کے اس طرح للکارنے کے باوجود کسی ماں کے لال کو ہمت نہ ہوئی کہ وہ آپ کا پیچھا کرتا۔ اس طرح آپ نے پورے اطمینان کے ساتھ مدینہ منورہ ہجرت فرمائی۔ یعنی ایسے ماحول میں جب کہ کفار مکہ مسلمانوں کے کھلے دشمن تھے، آپ نے بہادری اور دلیری کے ساتھ ہجرت کی۔ (تاریخ الخلفاء)

امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تمام غزوات میں شریک رہے اور آپ وہ بہادر ہیں کہ غزوۂ احد میں جب جنگ کا نقشہ بدل گیا اور مسلمانوں میں افرا تفری پیدا ہوئی تو اس حالت میں بھی آپ ثابت قدم رہے۔ (تاریخ الخلفاء)
آپ کی شہادت کی پیشین گوئی پہلے ہی کردی گئی تھی، چنانچہ ایک روز حضور سرورعالم صلی اللہ علیہ وسلم احد پہاڑ پر تشریف فرما ہوئے تو پہاڑ اپنے مقدر پر ناز کرتے ہوئے فرط مسرت سے جھومنے لگا، حبیب پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے قدم مبارک مارکر اس سے فرمایا: ’’اے احد! تھم جا، تجھ پر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں (یعنی حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہما)‘‘۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ فجر کی نماز کے لئے مسجد نبوی میں تشریف لائے۔ آپ کا طریقۂ کار یہ تھا کہ تکبیر تحریمہ سے پہلے فرمایا کرتے کہ ’’صفیں سیدھی کرلو‘‘۔ یہ سن کر ابولولو مجوسی آپ کے بالکل قریب صف میں آکر کھڑا ہو گیا اور آپ کے پہلو اور کندھے پر خنجر سے وار کیا، جس سے آپ گرپڑے۔ اس کے بعد اس نے دیگر تیرہ نمازیوں کو بھی زخمی کیا، جن میں سے بعد میں چھ افراد کا انتقال ہو گیا۔ اسی دوران ایک عراقی نے ابولولو پر کپڑا ڈال دیا، جب وہ اس کپڑے میں اُلجھ گیا تو اس نے اسی وقت خودکشی کرلی۔ یہ حملہ آپ پر ۲۶؍ ذی الحجہ ۲۳ھ چہار شنبہ کو ہوا اور تین دن بعد یکم محرم الحرام ۲۴ھ کو بعمر ۶۳ سال شہادت نصیب ہوئی۔ آپ کو خلیفۂ اول حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پہلوئے مبارک میں دفن کیا گیا۔

TOPPOPULARRECENT