Wednesday , August 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا

حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا

قاری محمد مبشر احمد رضوی القادری

شہزادیٔ رسول، خاتون جنت، سیدۃ النساء العالمین کا نام نامی اسم گرامی ’’فاطمہ‘‘ اور لقب زہرا و بتول ہے۔ حضور اقدس صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صاحبزادیوں میں سب سے چھوٹی، لیکن سب سے زیادہ پیاری اور لاڈی صاحبزادی تھیں۔ آپ کی تاریخ ولادت کے تعلق سے اختلاف ہے۔ علامہ ابن جوزی نے تحریر فرمایا کہ آپ کی ولادت باسعادت اعلانِ نبوت سے پانچ سال قبل (جب کہ خانہ کعبہ کی تعمیر ہو رہی تھی) ہوئی اور آپ ام المؤمنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن پاک سے عالم وجود میں آئیں۔
مشہور روایت کے مطابق ۱۸ سال اور دیگر روایتوں کے مطابق ساڑھے پندرہ سال کی عمر میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنہا کا نکاح سنہ ۲ھ میں حضرت مولائے کائنات، فاتح خیبر، علی حیدر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ہوا۔
حضور انور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی کو جو جہیز دیا، وہ دراصل حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کے سامانِ حرب کی فروخت شدہ رقم تھی۔ اسی رقم سے ایک چارپائی، چمڑے کا گدا (جس میں روئی کی بجائے کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے)، ایک چھاگل، ایک مشکیزہ، دو چکیاں اور مٹی کے دو گھڑے دیئے گئے۔
جب حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا نئے گھر میں تشریف لے گئیں تو حضور پُرنور شافع یوم النشور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بڑی مسرت و انبساط کے ساتھ فرمایا کہ ’’میرے خاندان میں جو شخص سب سے بہتر ہے، میں نے اس سے تمہارا نکاح کیا ہے‘‘۔ (زرقانی)
حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا، شہنشاہِ کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی صاحبزادی ہونے کے باوجود امور خانہ داری کو بحسن و خوبی انجام دیتیں۔ اپنے ہاتھ سے چکی پیستیں اور مشکیزہ سے پانی بھرتیں۔
حضرت سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے فضائل احادیث شریفہ سے ثابت ہیں، چنانچہ حضور انور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’فاطمہ میرے گوشت کا ایک ٹکڑا ہے، جس نے فاطمہ کو غضبناک کیا، اس نے مجھے غضبناک کیا‘‘ (بخاری و مسلم) آپﷺ نے فرمایا ’’حضرت فاطمہ زہرا جنتی عورتوں کی سردار ہیں‘‘۔ (بخاری شریف)
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم نے عرض کیا ’’یارسول اللہ! ہم میں سے کون آپ کو زیادہ محبوب ہے، میں یا فاطمہ؟‘‘۔ آپﷺ نے فرمایا: ’’فاطمہ مجھے تم سے زیادہ محبوب ہے اور تم میرے نزدیک ان سے زیادہ عزت والے ہو‘‘۔ (اشرف المؤید، صفحہ۵۳)
سرکار دوعالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے وصال فرمانے کا حضرت سیدہ فاطمہ کو اس قدر صدمہ ہوا کہ اس کے بعد آپ کبھی ہنستی ہوئی نہیں دیکھی گئیں، یہاں تک کہ چھ ماہ بعد ۳؍ رمضان المبارک سنہ ۱۱ھ کو آپ نے بھی وصال فرمایا۔ حضرت علی یا حضرت عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے آپ کی نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع (مدینہ منورہ کا مشہور قبرستان) میں تدفین عمل میں آئی۔ آپ کے بطن مبارک سے تین صاحبزادے حضرت امام حسن حضرت امام حسین اور حضرت محسن رضی اللہ تعالیٰ عنہم اور تین صاحبزادیاں حضرت ام کلثوم، حضرت زینب اور حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہن پیدا ہوئیں۔
واضح رہے کہ ہر دَور کی مسلم خواتین کے لئے حضرت سیدہ فاطمہ زہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی سیرت طیبہ قابل تقلید اور جنت میں لے جانے والی ثابت ہوگی، بالخصوص دورِ حاضر کی خواتین کو ان کی حجابانہ زندگی سے سبق لینا چاہئے کہ آپ نے انتقال سے قبل یہ وصیت فرمائی تھی کہ ’’میرا جنازہ دن کی روشنی میں نہ لے جایا جائے، تاکہ اس پر کسی غیر محرم کی نظر نہ پڑے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT