Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کو غزوہ احد میں شہادت کا اعزاز

حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کو غزوہ احد میں شہادت کا اعزاز

اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا کا تاریخ اسلام اجلاس۔ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی کا خطاب
حیدرآباد ۔27؍ڈسمبر( پریس نوٹ) غزوات مقدسہ میں تعمیل احکام نبوی ؐ  میں صحابہ کرام نے جو بے مثال نقش چھوڑے ہیں ان کی اثر انگیزی قیامت تک اہل محبت کو جذبہ اطاعت کی حرارتوں سے نوازتی رہے گی ۔ اپنی جانوں کو نچھاور کردینا گوارا تھا لیکن حکم نبوی ؐ  سے بال برابر تجاوز صحابہ کو منظور نہ تھا انہی عظیم المرتبت ہستیوں میں حضرت عبد اللہ بن جبیر ؓ  کانام نامی بھی نمایاں ہے جنھوں نے غزوۂ احد میں پابندیٔ ارشاد نبویؐ میں اتنی استقامت اور مستعدی دکھائی کہ اپنی جان کی بھی پرواہ نہ کی ۔ان حقائق کے اظہار کے ساتھ ڈاکٹر سید محمد حمید الدین شرفی ڈائریکٹر آئی ہرک نے آج صبح ۹ بجے ’’ایوان تاج العرفاء حمیدآباد‘‘ واقع شرفی چمن ،سبزی منڈیؤ اور دو بجے دن جامع مسجد محبوب شاہی، مالاکنٹہ روڈ،روبرو معظم جاہی مارکٹ میں اسلامک ہسٹری ریسرچ کونسل انڈیا (آئی ہرک) کے زیر اہتمام منعقدہ ’۱۱۷۹‘ویں تاریخ اسلام اجلاس کے علی الترتیب پہلے سیشن میں احوال انبیاء علیھم السلام کے تحت حضرت سلیمان علیہ السلام کے مقدس حالات اوردوسرے سیشن میں ایک مہاجر ایک انصاری سلسلہ کے ضمن میں صحابی رسول اللہؐ حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کے احوال شریف پر مبنی توسیعی لکچر دئیے۔ قرا ء ت کلام پاک، حمد باری تعالیٰ،نعت شہنشاہ کونین ؐ سے دونوں سیشنس کا آغاز ہوا۔اہل علم حضرات اور باذوق سامعین کی کثیر تعداد موجود تھی۔ڈاکٹر حمید الدین شرفی نے سلسلہ کلام کو جاری رکھتے ہوے بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے غزوہ احد کے پچاس تیراندازوں پر حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ  کوامیر بنایا اور آپ نے تمام تیراندازوں کو پابند فرمادیا کہ تمہیں جس مقام پر متعین کیا جارہا ہے وہاں سے ہرگز نہ ہٹنا۔ وہ لوگ عینین پر جو قناہ میں ایک پہاڑ ہے کھڑے کردئیے گئے یہ لشکر اسلام کے پشت کا مورچہ تھا جو جنگی نقطہ نظر سے نہایت اہم اور حساس محاذ تھا اسی بناء پر حضورؐ نے تیراندازوں کو نہایت شدید تاکید فرمادی تھی کہ کسی حال میں اپنے مورچہ کو نہ چھوڑنا خواہ تم اپنی آنکھوں سے جنگ کا کوئی بھی نتیجہ دیکھو فتح وشکست ہو نے کی صورت میںبھی اپنے مورچہ پر ڈٹے رہنا ۔ جب مشرکین کو شکست ہوئی اور مسلمانوں نے ان کا تعاقب کرکے جہاں چاہا انھیں تہ تیغ کیا اورغنائم لینے لگے تو بعض تیر اندازوں نے کہا کہ اللہ نے دشمن کو شکست دے دی لہذا اپنے بھائیوں کے ساتھ ہم بھی شریک ہوجائیں حضرت عبداللہ بن جبیر ؓ نے جو تیراندازوں کے امیر اور سردار تھے ان لوگوں کو ایسا کرنے سے روکا اور اپنی جگہ چھوڑنے سے سختی سے منع کیا اور کہا کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ رسول اللہ ؐ نے فرمایا ہے کہ ہماری پشت کی حفاظت کرنا یعنی لشکر کے عقبی حصہ کی محافظت کی ذمہ داری تم لوگوں کو سونپی گئی لہذا تم اپنی جگہ سے مت ہٹو ۔ لیکن چند لوگ دشمن کی پسپائی اور مسلمانوں کی کامیابی دیکھ کر اپنی جگہ چھوڑ بیٹھے اور دیگر مجاہدین کے ساتھ جاملے ۔ ڈاکٹر حمید الدین شرفی نے کہا کہ حضرت عبد اللہ بن جبیر ؓنے لاکھ منع کیا لیکن تقریبًا چالیس تیرانداز مال غنیمت کے حصول میں فاتح مسلمانوں کا ہاتھ بٹانے چلے گئے ۔درہ پہاڑ میں خلاء دیکھ کرخالد بن ولید اور عکرمہ بن ابو جہل نے مشرکین کے لشکر کا رخ اس طرف کردیا یہاں مدافعت کے لئے لوگوں کی قلت نے ان کے حملہ کو شدید بنادیا ۔ دونوں تیراندازوں کے مقام تک آگئے اور حملہ کردیا ۔حضرت عبداللہ بن حبیر ؓ اور باقیمامذہ سات یا دس تیراندازوں نے نہایت پامردی کے ساتھ مدافعت کی لیکن دشمن آگے بڑھتارہا یہاں تک کہ اس نے اس شدت کے ساتھ تیر چلاے کہ مسلمان تیراندازیکے بعد دیگرے شہید ہوے یہ حملہ پشت سے ہوا تھا اس اچانک حملہ سے جیتی ہوی جنگ کا نقشہ بدل گیا۔ حضرت عبداللہ بن جبیرؓ نے آخر وقت تک اعداء دین سے مقابلہ کیا ۔ ان کے پاس جتنے تیر تھے وہ چلاے جب تیر ختم ہوگئے تو نیزہ بازی کی۔ جب وہ بھی ٹوٹ گیاتو اپنی تلوار کا میان توڑڈالا اور شدت کے ساتھ لڑے یہاں تک کہ راہ حق میں شہید ہوگئے ۔عکرمہ بن ابوجہل نے انھیں قتل کیا۔ جب وہ گرپڑے تو مشرکین نے ان کی نعش کا مثلہ کیا۔حضرت عبداللہ بن جبیرؓ نے رسول اللہ ؐ کے حکم کی تعمیل میں اس مورچہ سے سرموہٹنا گوارا نہ کیااور اپنی جان نچھاور کرکے محبت واتباع رسولؐ  کا روشن نشان چھوڑا۔ڈاکٹرحمید الدین شرفی نے بتایا کہ حضرت عبداللہ بن جبیرؓ کے دادا نعمان بن امیہ تھے ان کا خاندان عمروبن عوف سے تعلق رکھتاتھا حضرت عبداللہ کی والدہ بنی عبداللہ بن عطفان سے تھیں آپ قبیلہ اوس کے فرد تھے اور انصارمدینہ میں ممتاز حیثیت کے حامل تھے۔عقبہ میں سترانصارکے ساتھ حاضر ہوے تھے ونیز غزوۂ بدر میں شرکت کا اعزاز بھی تھا۔

TOPPOPULARRECENT