Monday , August 21 2017
Home / مذہبی صفحہ / حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ اور تحریک ِاحیائے دین

حضرت غوث اعظم رحمۃ اللہ علیہ اور تحریک ِاحیائے دین

مولانا محمد ہاشم قادری

حضرت پیرانِ پیر شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ کی مبارک حیات طیبہ کے مختلف گوشے اہلِ اسلام کے لئے راہِ ہدایت ہیں۔ آپ کی پاکیزہ زندگی اور تعلیمات کو پڑھنا اور سننا طالبانِِ راہِ حق کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ ایمانیات، تصوف، اصلاحِ عقائد، بندگیِ رب العزت، بندگانِ خدا کو راہِ راست پر لانا، اسلام کا پیرو بنانا اور احیائے دین حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی کے اہم کارنامے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی مظلومیت نے آپ کو آتشِ زیرپا بنا دیا تھا اور آپ دین کو ازسرِنو زندہ کرنے کے لئے ہمہ تن مصروف ہوگئے۔ آپ اپنے ملفوظات میں فرماتے ہیں کہ ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی دیواریں پے در پے گر رہی ہیںاور اس کی بنیاد بکھر گئی ہے، اس کو درست کردیں۔ یہ چیز ایک سے پوری نہیں ہوگی(سب کو مل کر کام کرنا چاہئے)۔ اے سورج! اے چاند! اور اے دن! تم سب آؤ‘‘۔ اس مختصر سے ملفوظ میں احیائے اسلام اور اقامت دین کے لئے کتنی تڑپ اور کتنا سوز و درد چھپا ہوا ہے، جس کو پڑھ کر قاری کا دل ہل جاتا ہے۔ پکارنے والا دین کی اقامت کے لئے پوری کائنات کو پکار رہا ہے، یعنی احیائے اسلام اور اقامت دین کی جد وجہد کے لئے اجتماعیت کا کتنا شدید احساس ہے۔
آپ ایک دوسرے ملفوظ میں فرماتے ہیں: ’’صاحبو! اسلام رو رہا ہے اور ان فاسقوں، بدعتیوں، گمراہوں اور مکر کے کپڑے پہننے والوں اور ایسی باتوں کا دعویٰ کرنے والوں کے ظلم سے جو ان میں نہیں ہیں، اپنے سر کو تھامے ہوئے فریاد مچا رہے ہیں‘‘۔
حضرت قطب ربانی رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: ’’جس نے اللہ تعالیٰ کے دین بر حق کی خدمت اور تبلیغ و اشاعت صدق و خلوص کے ساتھ کی، اللہ تعالی خود اس کا اجر و ثواب بن جاتا ہے اور دنیا و عقبیٰ میں اسے عزت و آبرو عطا فرماتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: اے ایمان والو! تم دین خدا کی مدد کرو اللہ تعالیٰ تمہاری مدد کرے گا اور تمہارے قدم جمادے گا‘‘۔ اللہ کی مدد کرنے سے مراد اللہ کے دین کی مدد ہے، کیونکہ وہ اسباب کے مطابق اپنے دین کی مدد اپنے مومن بندوں کے ذریعہ ہی کراتا ہے۔ جب بندۂ مؤمن اللہ کے دین کی حفاظت اور اس کی تبلیغ کے کام انجام دیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان کی مدد فرماتا ہے۔ یعنی انہیں کافروں پر فتح و غلبہ عطا کرتا ہے، چنانچہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین اور قرونِ اولیٰ کے مسلمانوں کی یہ روشن تاریخ ہے، وہ دین کے ہوگئے تو اللہ بھی ان کا ہوگیا۔ انہوں نے دین کو غالب کیا تو اللہ تعالی نے انہیں بھی دنیا پر غالب فرمادیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر رب تعالی نے فرمایا: ’’اللہ اس کی مدد ضرور کرتا ہے، جو اس کی مدد کرتا ہے۔ جو اللہ کے دین کی مدد کرے گا، اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مدد کرے گا۔ بے شک اللہ تعالیٰ بڑی قوتوں والا ہے‘‘۔ فرمایا: ’’تم اللہ کی مدد کرو (یعنی اس کے دین کی نشر و اشاعت کرو) وہ تمہیں صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رکھے گا اور تمہاری ہر طرح کی مدد فرمائے گا۔ پس میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ اللہ کے کلام کی تبلیغ و اشاعت کرو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور تسلیم و رضا کو اپنا شعار بناؤ۔ جو مسلمان اللہ کے کلام اور اس کے نبی کی سنت کی تبلیغ و اشاعت کے لئے اپنی زندگی وقف کردیتا ہے، اس کا اجر و ثواب فی سبیل اللہ جہاد کرنے والوں سے بھی زیادہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی نصرت و اعانت ہمیشہ اس کے شاملِ حال رہتی ہے‘‘۔ (فتوح الغیب، مقالہ نمبر۳۸، صفحہ۱۰۶)
سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ’’اگر حدودِ الٰہی (احکامِ شرعی) میں سے کوئی حد ٹوٹتی ہے تو سمجھ لو کہ تم فتنہ میں پڑگئے اور شیطان تم سے کھیل رہا ہے۔ فوراً شریعت کی طرف رجوع کرو، اسے تھام لو، نفس کی خواہشات کو جواب دو، اس لئے کہ ہر وہ حقیقت جس کی شریعت تائید نہیں کرتی، باطل ہے‘‘۔
حضرت محبوب سبحانی سیدنا شیخ عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی ساری زندگی خلق خدا کا رشتہ خالق سے جوڑنے میں گزری۔ انہوں نے اللہ کے بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی بندگی میں لگایا۔ آپ اپنا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’ایک مرتبہ ایک بڑی عظیم روشنی ظاہر ہوئی، جس سے آسمان کے کنارے بھر گئے۔ اس سے ایک صورت ظاہر ہوئی اور اس نے مجھ سے خطاب کرکے کہا: اے عبد القادر! میں تیرا رب ہوں، میں نے تیرے لئے سب محرمات (حرام) حلال کردیئے ہیں۔ میں نے کہا: دُور ہو مردود۔ یہ کہتے ہی وہ روشنی ظلمت میں بدل گئی اور صورت دھواں بن گئی اور ایک آواز آئی: عبد القادر! خدانے تمہارے علم و تفقہ کی وجہ سے تم کو بچا لیا، ورنہ اس طرح میں ستر صوفیوں کو گمراہ کرچکا ہوں۔ میں نے کہا: اللہ کی مہربانی سے میں بچا ہوں‘‘۔ کسی نے عرض کیا: حضرت! آپ نے کس طرح سمجھا کہ یہ شیطان ہے۔ فرمایا: اس کے یہ کہنے سے کہ ’’میں نے حرام چیزوں کو تمہارے لئے حلال کر دیا‘‘۔
حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ نے ایک مجلس میں توحید کے مضمون کو اس طرح بیان فرمایا کہ ’’ساری مخلوق عاجز ہے، نہ کوئی تمھیں نفع پہنچا سکتاہے نہ نقصان۔ جو کچھ تمہارے لئے مفید یا مضر ہے، اس کے متعلق اللہ کے علم میں قلم چل چکا ہے۔ اس کے خلاف نہیں ہوسکتا۔ جو نیکو کار ہیں وہ باقی مخلوق پر اللہ کی حجت نہیں۔ بعض ان میں ایسے ہیں جو ظاہر اور باطن دونوں اعتبار سے دنیا سے دور ہیں، گو دولت مند ہیں مگر حق تعالیٰ ان کے اندر دنیا کا کوئی اثر نہیں پاتا۔ یہی قلوب ہیں جو صاف ہیں، جو شخص  اس پر قادر ہو اسے مخلوقات کی بادشاہی مل گئی۔ جو اپنے قلب کو مقلب القلوب سے وابستہ کرتا ہے، شریعت اس کے ظاہر کو تہذیب سکھاتی اور توحید و معرفت باطن کو مہذب بناتی ہے‘‘۔
محبوب سبحانی قطب ربانی رحمتہ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: ’’ہم تمھیں تاکیدکرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے جو امور تمہارے لئے ظاہر ہوں، ان کے خلاف کسی کے سامنے شکایت نہ کرو اور اللہ تعالیٰ نے جیسا اور جو سلوک تم سے کیا ہو اس فعل کے باعث مخلوقات میں اسے متہم نہ کرو (تہمت نہ لگاؤ) اگر کسی دور میں تم مبتلائے مصائب و آلام رہے ہو تو تمھیں یہ سمجھنا چاہئے کہ مصیبت کے بعد راحت و آرام ہے اور غم و الم کے بعد مسرت و شادمانی بھی اللہ کی طرف سے موعود ہے۔ جیسا کہ اس نے اپنے کلام مقدس میں فرمایا: ’’بلاشبہ مصیبت کے بعد راحت ہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں بہت وسیع و بسیط ہیں، اتنی بسیط کہ بندہ انہیں شمار نہیں کر سکتا۔ حق تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور اگر تم اللہ کی نعمتیں شمار کرنا چاہو تو انہیں ہرگز شمار نہ کر سکو گے‘‘۔ پس جب اللہ تعالیٰ کی اتنی نعمتیں نوع انسانی کے لئے مقدر ہیں کہ تم ان کا احاطہ نہیں کر سکتے تو اس کی فیاضی اور رحمت و بخشش سے ہرگز مایوس نہ ہوؤ۔ خالق کے علاوہ مخلوق سے باطنی ربط و تعلق نہ رکھو۔ تمھیں محبت ہو تو اسی سے ہو، عرض حاجت ہو تو اسی کے حضور ہو اور کسی قسم کا شکوہ و شکایت نہ ہو، کیونکہ دنیا میں جتنے اور جس نوعیت کے بھی عوامل اور واقعات ہیں وہ سب اس کے اذن اور حکم سے ظہور پزیر ہوتے ہیں۔ پس احوالِ تقدیر پر شکوہ شکایت نہ کرو اور مشیت ایزدی کے خلاف واویلا چھوڑ دو، کیونکہ مختلف مصائب میں کتنے مصائب ایسے ہیں، جو انسان پر اپنے پروردگار کی شکایت کے باعث نازل ہوتے ہیں‘‘۔

TOPPOPULARRECENT