Friday , August 18 2017
Home / مذہبی صفحہ / حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا مجاہدانہ کردار

حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کا مجاہدانہ کردار

خاتون جنت حضرت سیدہ بی بی فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے متعلق جو احادیث میں وارد ہوئی ہیں‘ اس کے پیش نظر آپ کو تعظیم و توقیر‘ عزت و شرافت میں دنیا کی عورتوں میں افضل و اعلیٰ مانا جاتا ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا ’’جنتی عورتوں میں حضرت خدیجہ اور حضرت فاطمہ (رضی اللہ عنہما) افضل ہیں‘‘ (سیراعلام النبلاء ۲:۹) ایک دوسری حدیث میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم دنیا کی تمام عورتوں میں سے حضرت خدیجۃ الکبریٰ‘ حضرت فاطمۃ الزہرا‘ حضرت مریم اور حضرت آسیہ کو بہترین خواتین فرمایا (نفس کتاب) بعض روایات میں حضرت ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔
حضرت بی بی فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہما کو محققین نے دنیا کی تمام خواتین میں افضل قرار دیا‘ اس لئے کہ حضرت بی بی فاطمہ زہرا رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کا ایک جز ہیں (البخاری ۴:۲۱) نیز نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے بی بی فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے متعلق فرمایا کہ ’’آپ خواتین جنت کی سردار ہیں‘‘ (الاستیعاب لابن عبدالبر ۴:۲۷۶) واضح رہے کہ علماء نے اہل بیت‘ آل الکساء‘ آل لعباء کی تعبیرات خصوصیت کے ساتھ نجران کے عیسائیوں کے خلاف مباہلہ میں بی بی فاطمۃ الزہرا کی شمولیت سے بھی آپ کی افضلیت پر استدلال کیا ہے۔ مخفی مبادکہ بی بی فاطمۃ الزہرا کے علاوہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی دیگر صاحبزادیوں کو بھی جزو بدن ہونے کا اعزاز حاصل ہے‘ تاہم محققین نے بی بی فاطمہ کو متعدد وجوہات کی بناء اپنی حقیقی بہنوں میں بھی افضل قرار دیا ہے۔

الذہبی نے ابوجعفر الباقر سے روایت کیا ہے کہ بی بی فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کی ولادت باسعادت اس وقت ہوئی جب قریش خانہ کعبہ کی تعمیر میں مصروف تھے (سیراعلام النبلاء ۲:۹۳) تعمیر کعبہ کا واقعہ بعثت سے پانچ سال پیشتر کا ہے‘ اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی عمر شریف ۳۵ برس تھی۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے جب نبوت کا اعلان فرمایا اور اشاعت اسلام کے اہم فریضہ کو انجام دینا شروع کیا تو اس وقت نہ صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کے لئے مشکلات کھڑی کی گئیں بلکہ آپ کے ساتھ آپ کے خاندان کو بھی مصائب و مشکلات سے گزرنا پڑا۔ شعب ابی طالب میں عرب کے سماجی بائیکاٹ کے صبر آزما ایام میں بی بی فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا اپنے والد ماجد کے ساتھ کٹھن مراحل سے گزریں۔
بی بی فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے بچپن میں ایک دن جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم صحن کعبہ میں عبادت الٰہی میں مشغول تھے کہ ابوجہل کے اشارہ پر عقبہ بن ابی معیط نے مذبوحہ اونٹ کی اوجھڑی کو سجدہ کے دوران آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی گردن پر رکھ دیا۔ حضرت فاطمہ دوڑتی ہوئی پہنچیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے اذیت و تکلیف کو دور کیں۔

(البخاری ۱:۶۴۳)
حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بھی اعلائے کلمۃ اللہ و اشاعت اسلام میں بھرپور حصہ لیا اور اسلام کی سربلندی میں مجاہدانہ کردار نبھایا۔ چنانچہ جنگ احد میں بی بی فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا شریک رہیں‘ احد کے مجاہدین کو پانی پلانے کی ذمہ داری ادا کیں اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم زخمی ہوئے تو بی بی فاطمہ نے آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی مرہم پٹی کی۔ نیز بی بی فاطمۃ الزہرا فتح مکہ کی مہم میں بھی شریک کار رہیں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے اشارہ غیبی سے اپنی لخت جگر خاتون جنت بی بی فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لئے اپنے چچازاد بھائی حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ کو منتخب فرمایا‘ اس طرح یہ افضل الانبیاء کی محبوب صاحبزادی بی بی فاطمہ کی شادی جنگ بدر کے بعد نہایت سادگی سے انجام پائی اور اللہ تعالیٰ نے اس رشتہ میں ایسی برکت عطا فرمائی کہ حضور پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی نسل پاک کا سلسلہ آپ کی اولاد امجاد میں صرف اور صرف بی بی فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جاری ہوا۔
حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ‘ بی بی فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا بڑا لحاظ رکھتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم ہمیشہ بی بی فاطمہ کو اپنے شوہر کی اطاعت و فرماں برداری اور امور خانہ داری کے بارے میں تقسیم کار کی نصیحت فرمایا کرتے‘ جس کے سبب بی بی فاطمہ کی ازدواجی زندگی نہایت آسودگی اور مکمل راحت و سکون سے گزری۔ عرب میں تعدد ازدواج کا رواج تھا لیکن حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ وجہہ نے حضرت بی بی فاطمہ کے وصال تک کوئی دوسری شادی نہیں کی۔

حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا شکل و صورت میں اپنی والدہ ام المومنین حضرت سیدہ بی بی خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مشابہ تھیں اور آپ کی رفتار و گفتار نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم سے سب سے زیادہ ملتی جلتی تھی۔ آپ بلند پایہ شاعرہ بھی تھیں۔ چوں کہ بی بی فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا وصال ۲۸ برس کی عمر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کی رحلت سے چند ماہ بعد ہوا‘ اس لئے آپ سے بہت کم احادیث مروی ہیں۔ محدثین نے آپ کی روایت کردہ احادیث کی تعداد اٹھارہ اور انیس بتائی ہیں‘ جنہیں بی بی فاطمہ سے حضرت علی‘ حضرت حسن‘ حضرت حسین‘ حضرت عائشہ‘ حضرت سلمیٰ‘ حضرت ام ہانی‘ حضرت انس نے روایت کی ہے۔ (رضی اللہ عنہم و اجمعین)
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو تین صاحبزادے حضرت حسن‘ حضرت حسین‘ حضرت محسن اور دو صاحبزادیاں حضرت زینب اور حضرت ام کلثوم تھیں۔ حضرت زینب کا نکاح حضرت عبداللہ بن جعفر بن ابی طالب سے ہوا اور حضرت ام کلثوم کا عقد حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہوا۔ تاہم بی بی فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نسل صرف حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے ذریعہ دنیا میں باقی رہی۔

TOPPOPULARRECENT