Saturday , September 23 2017
Home / مذہبی صفحہ / حضرت محدث دکن رحمہ اللہ۔شخصیت ،علمی ودینی خدمات

حضرت محدث دکن رحمہ اللہ۔شخصیت ،علمی ودینی خدمات

اللہ سبحانہ وتعالی نے ہر دور میں تجدید واحیاء دین او ر اسلامی تعلیمات کی اشاعت اور اس کو عملی طور پر پیش کرنے کیلئے ایسے باکمال افراد پیدا فرمائے جنہوں نے اپنی مجاہدانہ کوششوں اور داعیانہ جہد وسعی سے اسلام اور اہل اسلام کیلئے حیات وزندگی کاسامان کیا ہے، اسلام اور اسلامی احکامات جن کی زندگی کا محور ومرکز رہا ہے ،ان صلحاء امت نے اسلامی تعلیمات پر عملی طور پر چلتے ہوئے نہ صرف روحانی ترقی حاصل کی بلکہ اپنے حال وماحول کو اپنے غیر معمولی ایمان ویقین اور روحانی کیفیات، سادگی ٔ ظا ہر ،پاکیزگی ٔ باطن ،بے نفسی وبے غرضی ،ایثار وقربانی ،عبادات وریاضات کے غیر معمولی اہتمام سے اس درجہ متاثر کیا کہ سارا حال وماحول بھی انہیں کیفیات کا مظہر دکھائی دینے لگا ، دین کی تعلیمات کا اہم مأخذ و منبع ا ورمخزن قرآن وسنت اور اجماع امت ہی ہیںلیکن اس کی عملی جلوہ گری کہیں نظر آتی ہے تو وہ یہی خاصان خدا ہیں جنہوںنے واللہ خیر وابقی (اللہ سبحانہ وتعالی کی ذات ہی خیر کا سر چشمہ اورباقی رہنے والی ہے )  والآخرۃ خیر وابقی ( اور البتہ آخرت ہی خیر مملو اور باقی رہنے والی ہے) کو اپنی زندگی میں کچھ اس طرح سمو لیا تھا کہ خیر ہی خیر ان کی زندگی کا حاصل بن چکا تھا اور ان کی پاکیزہ زندگیوں نے سارے ماحول ومعاشرہ کو خیر ہی خیر سے بھر دیا تھا ،ہر زمانہ میں اللہ کی یہ سنت رہی ہے کہ دین کی اصل روح اور اس کی صاف اور واضح تصویر کو دنیا والوں کے سامنے پیش کرنے کیلئے اس نے کسی نہ کسی اپنے نیک اور صالح بندے کو اپنے ہی بندوں میں سے ظاہر فرمایا ہے اور ان کے ذریعہ دین اور اس کے تقاضوں کی حفاظت اور بندگان خدا کو راہ دین پر لگانے کی سنت پوری کی ہے،بے دینی کی ہر اٹھنے والی لہر کو دور کیاہے اور یہ امت بے دینی والحاد کے داخلی وخارجی فتنوں سے محفوظ رہ سکی ہے ۔بیسویں صدی کے اوائل میںخاندان نبوت کے چشم وچراغ نسبی ونسبتی مبارک سلسلوں سے منسلک ،خاندانی شرافت ونجابت ،علمی وروحانی وراثت کے حامل علمی وعملی سعی وجہد کے پیکر ،سوز دروں ومومنانہ تڑپ کی حامل ،خدا کے بندوں کی خدا سے دوری پر کرب واضطراب کی کیفیت میں ڈوبی ہوئی دردمند ذات ، وہبی وکسبی علوم ومعارف کا بیش بہا خزانہ لئے ہوئے بر صغیر ہند وپاک کے اہم علمی ودینی مرکز حیدرآباد کے افق پر جلوہ ا فگن ہوئی جس کو ساری دینی و اسلامی ،علمی وروحانی دنیا محدث دکن ابوالحسنات حضرت عبد اللہ شاہ قد س سرہ کے نام سے جانتی وپہچانتی ہے ،جنہوں نے امت مسلمہ کے بے جان جسم میں ایک نئی روح پھونکی اور تاریک دلوں میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کے چراغ روشن کئے ،یوں تو دنیا میں تقریر وتحریر کے د ھنی بہت پیدا ہوئے لیکن جہاں تک کردار کا تعلق ہے وہ ہر دور میں نایاب رہا ہے ،اخلاق وکردار کے ایسے سانچے موتی ہمیشہ ہی کمیاب رہے ہیں۔ اللہ سبحانہ وتعالی نے قرآن نازل فرماکر اس کی عملی تفسیر سید الکونین عالم ماکان ومایکون محمد رسول اللہ ﷺکے ذریعہ ظاہر فرمائی ہے چونکہ نبوت کا سلسلہ ختم ہوچکا ہے اس لئے علماء وصالحین کی ایک جماعت ہر دور میں اللہ سبحانہ کی حکمت بالغہ کے تحت اپنے آقا ومولی سیدنا محمد رسول اللہ ﷺکے نقوش پا پر اپنی پلکیں نچھا ور کرتے ہوئے اپنی بساط کے مطابق قرآن وسنت کی عملی تصویر بنی رہی ہے،نظام کائنات میں ایسے نیک بندوں کی حیثیت ہمیشہ ایک ستون کی رہی ہے ،یہ وہ چندہ منتخب افراد انسانی ہے جواللہ کے مقرر کئے ہوئے نظام قدرت کل نفس ذائقۃ الموت ( ہرنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے )کے مطابق عالم دنیا سے عالم جاودانی کی طرف رخصت ضرور ہوتے ہیں لیکن حیات اخروی کے ساتھ ساتھ انسانی سینوں میں وہ ہمیشہ زندہ ٔجاوید رہتے ہیں،زمانہ کے تغیرات وحوادث ان کی زندگی کو کبھی نہیں مٹاتے بلکہ جوں جوں زمانہ گزر تا جاتا ہے ان کی اس حیات میں اضافہ ہی اضافہ ہوتا رہتا ہے اور ان کے مجاہدات ان کے کارنامے او ران کے ذکر ہائے خیر کا تسلسل امت کی زبانوں پر جاری وساری رہتا ہے، انہیں تاریخ ساز وعہد ساز شخصیات میں حضرت محدث دکن رحمہ اللہ کا نام نامی واسم گرامی بھی سرفہرست آتا ہے،یوں تو دنیا میں محققین ومفکرین کی کوئی کمی نہیں ہے ،ہر ایک فن میں اس کے ماہرین مل جاتے ہیں مفسرین وشارحین حدیث بھی بہت پائے جاتے ہیں،مسند فقہ وافتا پر بھی بہت سے افراد متمکن ہیں زبان وادب کے شہسواروں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے ،موجودہ حالات اور اس کے تقاضوں پر گہری نظر رکھنے والے افرادبھی بیشمار ہیں، لیکن ان سب خوبیوں کے حامل کئی ایک افراد مل کر بھی دل کی حیات وزندگی کا سامان نہیں کرسکتے کیونکہ ان سب علوم وفنون میں مہارت کے ساتھ تعلق مع اللہ ظاہر وباطن کی شریعت وروحانیت سے ہم آہنگی کے بغیر یہ عظیم کام سرانجام نہیں پاسکتا، اللہ سبحانہ وتعالی کے بنائے ہوئے نظام کے تحت فطرت کا یہ اصول ہے کہ گفتار کے ساتھ جب تک کردار ہم آہنگ نہ ہو ،زبان سے نکلے ہوئے الفاظ لغت میں اپنے معنی رکھنے کے باوجود بے حیثیت ہوجاتے ہیںاور اس کی پذیرائی کانوں کی راہ سے دلوں تک نہیں ہوسکتی ،آج ساری انسانیت سچائی سے دور ہونے کی وجہ سے کرب واضطراب میں مبتلا ہے ،ایمان ویقین، پاکیزگی،محبت ومروت ،درد مندی ودل سوزی ، نصح وخیر خواہی انسانیت ویگانگت ہر ایک سچے دل کی آواز ہے ،ضرورت ہے اس کی عملی پیکر ان کے سامنے آئیں تو وہ آج بھی اپنی تشنگی وپیاس بجھانے کیلئے تیار ہیں ،ان کے دل کی کھیتیاں ایسے ہی ابر وباراں کی منتظر ہیں ،آج دنیا ترقی کی انتہائی منزلوں پر پہنچ چکی ہے جس کی وجہ سے ہماری راتیں دن کا منظر پیش کررہی ہیں لیکن دل کی روشنی بجھی ہوئی ہے ان کو روشن کرنے والا اور اس کی لو کو بڑہانے والا کوئی نہیں ہے،ہر طرح کے سامان عیش وراحت میں دنیا کو جنت کا نمونہ بنادیا ہے لیکن دلوں کو چین اور روحوں کو کوئی راحت نہیں ہے ،بے چینی وبے قراری نے سامان عیش وراحت سے استفادہ کرنے اور مسرت حاصل کرنے کی کو ئی گنجائش باقی نہیں رکھی ہے،زر وجواہر کے انبار پڑے ہیں لیکن یہ کسی کی روحانی پیا س بجھانے کی اپنے اندر صلاحیت نہیں رکھتے ،جس طرح ایک پیاسے کو چلو بھر پانی راحت وسکون بخش سکتا ہے اسی طرح روحانی تشنگی وپیاس رکھنے والے کی تشنگی الہی قانون واسلامی نظام حیات کے صاف وشفاف چشمۂ حیات ہی سے بجھ سکتی ہے اسلام کے اس چشمۂ صافی سے خلق خدا کی پیاس بجھانے کا کام کرنے والی بے لوث ومخلص باخدا وبزرگ ہستی محدث دکن رحمہ اللہ کی ہے ۔آپ اپنی پاکیزہ عملی زندگی کے ذریعہ مجسم اسلام کا ایک عملی نمونہ بنے رہے ہیں ۔اور آپ کو دیکھنے والے بہت سے باخدا اصحاب نے صرف آپ کو دیکھ کر اپنی اصلاح کرلی ہے اور اپنی زندگی کا رخ متعین کرلیا ہے،اس کے ساتھ آپ نے اسلامی طرز فکر اور اسلامی افکار واقدار کو تقریروں اور تحریروں کے ذریعہ بھی عام کر نے کی سعی فرمائی ہے چنانچہ عوام الناس کی ہدایت اور ان کی صلاح وفلا ح کیلئے کئی ایک تحریرات چھوڑی ہیں جو شائع ہوکر قبولیت حاصل کرچکی ہیں،ان تحریرات کی شان یہ ہے کہ وہ بہت ہی سادہ اور سلیس زبان میں لکھی گئی ہیں لیکن وہ ظاہر وباطن کی اصلاح کیلئے عمدہ مضامین پر مشتمل ہیں ، اور وہ ایک گنج ہائے گراں مایہ سے کم نہیں ہیں آپ نے اپنی تحریرات سے دین حق کا پیغام عام کیا ہے اور ایک انسان کو حقیقی معنی میں انسان بنانے کی سعی کی ہے ،اسلامی احکامات کتاب وسنت کی سادہ زبان میں تشریحات آپ کا خصوصی امتیاز رہا ہے ۔ آپ کی کتب کا مطالعہ قلب ونگاہ کو روشنی بخشتا ہے ،تحریرکی سادگی وسلاست قاری کو اپنی طرف متوجہ رکھتی ہے ،سطرسطرسے درد مندی وجگر سوزی کی کیفیات جھلکتی ہیں ۔آ پ کی تحریرات علمی مواد،حکم ونصائح کے ساتھ اردوادب کا شہکارہیں،اسلامی ،علمی اورادبی دنیا میں آپ کی گراں مایہ تصانیف قابل قدراضافہ ہے جوقدرکی نگاہوں سے دیکھی جاتی ہیں،آپ کی مایہ نازتصانیف میں ’’مواعظ حسنہ‘‘ ’’علاج السالکین‘‘ ’’کتاب المحبۃ‘‘  ’’یوسف نامہ‘‘  ’’گلزاراولیاء‘‘ ’’سلوک مجددیہ‘‘ ’’معراج نامہ‘‘ ’’میلاد نامہ‘‘ وغیرہ دل کی دنیا میں فکرانگیزانقلاب برپا کرتی ہیں۔دنیا کی بے ثباتی اوراخرت کی حقیقی زندگی دلنشین ہوتی ہے،قلب ونظرکو جلا ملتی ہے ،تربیت وتزکیہ نفس کے مراحل طے ہونے لگتے ہیں،ایک سالک کیلئے سلوک کی منزل طے کرنا آسان ہوجاتاہے ۔حدیث کی خدمات نے آپ کوبرصغیرکے علاوہ عالم اسلام میں بڑی شہرت عطاکی ہے ، ’’زجاجۃ المصابیح‘‘ کے نام سے احادیث مبارکہ کی ترتیب وتبویب اوراس پر آپ کا وقیع علمی حاشیہ آپ کی حیات کا ایک عظیم کارنامہ ہے ،حاشیہ کی مددسے حدیث پاک کی تفہیم آسان ہوجاتی ہے اوراسکے معانی ومطالب کھلنے لگتے ہیں ،ظاہرہے عربی داں علماء وصلحاء نے اس سے بھرپوراستفادہ کیا اوراب بھی اس سے استفادہ کررہے ہیں،اردوداں اصحاب کے استفادہ کی غرض سے اسکا ترجمہ الحمدللہ مکمل ہوچکا ہے سال گزشتہ تک جسکی اشاعت کا سلسلہ جاری رہا اوراب ’’نورالمصابیح ‘‘کے نام سے احادیث پاک اوراسکے حاشیہ کا ترجمہ شائع ہوچکا ہے ۔اس عظیم علمی وتحقیقی سرمایہ سے استفادہ کرنا دل ونگاہ کوٹھنڈک بخش سکتاہے اوراسمیں محفوظ علمی جواہرپاروں سے روشنی حاصل کرکے دنیا وآخرت کو کامیاب بنایا جا سکتاہے ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT