Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / حضور اکرمؐ کی شان میں گستاخی ناقابل برداشت

حضور اکرمؐ کی شان میں گستاخی ناقابل برداشت

توہین کے مرتکب کملیش تیواری کو سخت سزا دینے کا مطالبہ، مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ کا شدید ردعمل
حیدرآباد 6 ڈسمبر (سیاست نیوز) شان رسالتمآب ﷺ میں گستاخی کسی علاقہ، خطہ، صوبہ یا ملک کے مسلمانوں کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ یہ عالم اسلام کے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کرنے والا عمل ہے۔ روئے زمین پر بسنے والا کوئی مسلمان خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی کو برداشت نہیں کرسکتا اور نہ ہی اس پر خاموش رہا جاسکتا ہے۔ ہندو مہا سبھا کے کملیش تیواری کی جانب سے شان رسالت میں کی گئی گستاخی کے خلاف اترپردیش کے علاوہ مہاراشٹرا میں بھی سخت احتجاج جاری ہے۔ مفکر اسلام مولانا مفتی خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ نے شان رسالت میں کی گئی گستاخی کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہر مسلمان کا یہ عقیدہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کی شان میں گستاخی ناجائز اور حرام ہے۔ اس طرح کے عمل کا شدید ردعمل ظاہر ہوسکتا ہے۔ شیخ الجامعہ نے بتایا کہ یہ مسئلہ کسی ایک علاقہ کا نہیں ہے بلکہ یہ خبر جہاں تک جائے گی اُس پر ردعمل ظاہر ہوگا۔ مولانا مفتی خلیل احمد نے بتایا کہ یہ ذمہ داری ہم پر عائد ہوتی ہے کہ ہم دستور کے دائرہ میں رہتے ہوئے اس طرح کی ناجائز اور جذبات کو مجروح کرنے والی حرکتوں کو روکنے کے لئے منصوبہ بندی کریں۔ انھوں نے کہاکہ اس منصوبہ بندی کے لئے سب کو مل کر غور کرنا چاہئے کہ کس طرح سے اس طرح کے واقعات کے تدارک کو یقینی بنایا جاسکے۔ مولانا نے بتایا کہ یہ مسئلہ دنیا بھر کے مسلمانوں کا مسئلہ ہے جس پر ردعمل کا اظہار فطری ہے۔ ندوۃ العلماء کی جانب سے ناظم ندوۃ العلماء لکھنؤ مولانا محمد رابع حسنی ندوی نے چیف منسٹر اترپردیش اکھلیش یادو کو سخت الفاظ میں روانہ کردہ ایک مکتوب میں کہاکہ حکومت کا فرض ہے کہ وہ توہین رسالتؐ کے مرتکب شخص کے خلاف کارروائی کرے اور قانونی شکنجہ کستے ہوئے سزا دے۔ نہیں تو یہ مسئلہ ملک کے امن و امان کے لئے شدید خطرہ بن سکتا ہے۔ انھوں نے چیف منسٹر یوپی کو روانہ کردہ مکتوب میں واضح طور اِس اُمید کا اظہار کیا ہے کہ اس معاملہ کو نظرانداز نہ کرتے ہوئے ہرممکن کارروائی کی جائے گی۔ گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران اترپردیش کے مختلف مقامات بالخصوص دارالعلوم دیوبند، میرٹھ کے علاوہ ندوہ وغیرہ کے پاس مسلمانوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا جاچکا ہے۔ جمعہ کے دن جموں و کشمیر میں کملیش کے بیان پر شدید احتجاج کیا گیا جبکہ ممبئی میں اہلسنت والجماعت کی جانب سے توہین رسالت کے مرتکب کو سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر احتجاج کیا گیا۔ مولانا رابع حسنی ندوی نے چیف منسٹر کو روانہ کردہ مکتوب میں کہاکہ شان رسالت میں گستاخی کے اس بیان میں تمام حدیں پار کرتے ہوئے قابل سزا کام کیا گیا ہے۔ حکومت کی جانب سے اس گستاخ کو جیل بھیجتے ہوئے اِس معاملہ کو ہلکا کرنے کی کوشش کی گئی ہے جبکہ اس سنگین جرم کی سزا صرف جیل بھیجنا نہیں ہوسکتی۔ یہ معاملہ نہ صرف اترپردیش، ہندوستان کا نہیں بلکہ دنیا کے کسی بھی خطہ میں رہنے والے مسلمان کا مسئلہ ہے۔ انھوں نے مکتوب میں فرانس اور ڈنمارک میں گستاخیٔ رسول ﷺ کے واقعات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ اِن واقعات کا جو ردعمل پوری دنیا میں ظاہر ہوا ہے وہ کوئی پوشیدہ نہیں ہے۔ اس طرح کے واقعات مسلمانوں میں ہیجان پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ شہر حیدرآباد کی مختلف تنظیموں و جماعتوں کی جانب سے علمائے کرام، عمائدین کا ایک اجلاس گزشتہ دنوں جامع مسجد دارالشفاء میں منعقد ہوا جس میں ہندو مہا سبھا کے لیڈر کملیش تیواری کی جانب سے کی گئی شان رسالت میں گستاخی کی شدید مذمت کرتے ہوئے فرقہ پرستوں کے شرانگیز بیانات پر روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا  اور اس احساس کا اظہار کیا گیا کہ اس طرح کے بیانات حکومت کی حوصلہ افزائی کے بغیر ممکن نہیں ہوسکتے اِسی لئے حکومت کو چاہئے کہ وہ فوری سخت کارروائی کرتے ہوئے عوام کا اعتماد بحال کریں۔ اجلاس میں مولانا خالد سیف اللہ رحمانی ناظم المعہد العالی الاسلامی، مولانا رحیم الدین انصاری ناظم جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد، مولانا محمد حسام الدین ثانی (جعفر پاشاہ)، مولانا حافظ پیر شبیر احمد صدر جمعیۃ العلماء آندھراپردیش و تلنگانہ، مفتی غیاث احمد رشادی، مفتی غیاث الدین رحمانی، مفتی عبدالودود صدر مفتی دارالعلوم سبیل الاسلام، مفتی عبدالمغنی، مولانا عبیدالرحمن اطہر ندوی (ناظم مجلس دعوۃ الحق)، مفتی معراج الدین ابرار، مولانا مفتی صادق محی الدین فہیم کے علاوہ دیگر ذمہ داران موجود تھے۔ شان رسالت ﷺ میں گستاخی کو ناقابل برداشت قرار دیتے ہوئے ان ذمہ داران ملت اسلامیہ نے بھی گستاخ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT