Monday , September 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی ایام

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ابتدائی ایام

مرسل : ابوزہیر نظامی

پچیس سال کی عمر تک حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شہر میں اپنی دیانت داری، راست گوئی اور حسن کردار کے باعث پوری طرح مشہور ہو چکے تھے۔ شہر کی ایک امیر بیوہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہا نے اپنا مال شام لے جانے کے لئے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمات مناسب معاوضے پر حاصل کیں، جس میں حضرت خدیجہ کو معمول سے کئی گنا زیادہ منافع ہوا۔ اس دوران آپ   صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دیگر شخصی خصوصیات سے متاثر ہوکر حضرت خدیجہ نے آپ کو شادی کی پیشکش کی۔ اس وقت حضرت خدیجہ کی عمر چالیس اور بعض دیگر روایات کے مطابق اٹھائیس برس تھی (طبی حوالے سے اٹھائیس سال کی عمر زیادہ قرین قیاس نظر آتی ہے، کیونکہ اس کے بعد آپ نے پانچ بچوں کو جنم دیا) یہ رشتہ بہت خوشگوار ثابت ہوا۔
بعد کے کچھ برسوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حباشہ (یمن) کے میلے میں شرکت کی اور حضرت امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ کی روایت کے مطابق کم از کم ایک بار عبد القیس کے ملک (بحرین، اومان) کا سفر بھی کیا اور اس امر کے پختہ شواہد موجود ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سفر دابا (اومان) کے مشہور میلے کے لئے تھا، جہاں ابن الکلبی کے مطابق (بحوالہ مہبر از ابن حبیب) چین، ہند اور سندھ (ہندوستان، پاکستان)، ایران، بلاد مشرق اور مغرب کے تاجر خشکی اور بحری سفر کرکے ہر سال آیا کرتے تھے۔ مکہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک کاروباری شریک کار کا بھی ذکر ملتا ہے۔ اس شخص کا نام صائب تھا۔ اس کا بیان ہے کہ ’’ہم باری باری سے کام کرتے تھے، اگر وہ (حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) قافلہ لے کر جاتے تو واپسی پر اس وقت تک اپنے گھر میں داخل نہ ہوتے، جب تک میرے ساتھ حساب کتاب مکمل نہ کرلیں اور اگر میں قافلہ لے کر جاتا تو واپسی پر آپ میری خیریت دریافت فرماتے اور مجھے سونپے گئے سامان تجارت کے بارے میں کبھی استفسار نہ فرماتے‘‘۔
{سلسلہ جاری}
[email protected]

TOPPOPULARRECENT