Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / حضور نظام کے لا قیمت زیورات حیدرآباد لانے کا مطالبہ

حضور نظام کے لا قیمت زیورات حیدرآباد لانے کا مطالبہ

چیف منسٹر کے سی آر سے مداخلت کی اپیل ، پرنس شہامت جاہ اور دیگر کی پریس کانفرنس
کے برہمانند ریڈی پارک کو مکرم جاہ سے موسوم کرنے پر زور
حیدرآباد ۔ 6 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : نظام دکن کے لا قیمت زیورات کو حیدرآباد واپس لانے کی ماضی میں کئی مرتبہ کوششیں کی گئیں لیکن مرکزی حکومت نے نظروں کو خیرہ کردینے والے ان زیورات کی سیفٹی کا بہانہ بناکر اس تاریخی شہر حیدرآباد اور تلنگانہ کے عوام کو نظام کے زیورات دیکھنے سے محروم رکھا ۔ ایسے میں نظام دکن کے ارکان خاندان حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ وہ ان زیورات کو حیدرآباد میں مستقل نمائش کو یقینی بنائیں ۔ بصورت دیگر شاہی خاندان کے ارکان بھوک ہڑتال کا آغاز کریں گے ۔ ان خیالات کا اظہار والا شان پرنس معظم جاہ بہادر کے فرزند اور نواب میر عثمان علی خاں بہادر کے پوتے پرنس شہامت جاہ اور حضور نظام کے پڑپوتے پرنس حمایت علی مرزا نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ حسن اتفاق سے یہ پریس کانفرنس حضور نظام نواب میر عثمان علی خاں کی 131 ویں یوم پیدائش کے موقع پر منعقد کی گئی تھی ۔ مسٹر حمایت علی مرزا نے بتایا کہ عنقریب شاہی خاندان کے ارکان چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ سے ملاقات کریں گے اور ان سے درخواست کی جائے گی کہ حضور نظام کے زیورات کو حیدرآباد لایا جائے اور اس کے لیے ایک خصوصی میوزیم کی تعمیر عمل میں لائے تاکہ حیدرآباد اور ساری ریاست تلنگانہ کے عوام کو ان زیورات کے مشاہدہ کا موقع مل سکے ۔ انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت ہند نے 217 کروڑ روپئے میں یہ زیورات خریدے تھے ۔ پرنس شہامت جاہ نے کہا کہ چیریان پیالیس کی 434 ایکڑ اراضی پر کے برہمانند ریڈی پارک قائم کردیا گیا ۔ انہوں نے اس پارک کا نام تبدیل کرتے ہوئے پرنس مکرم جاہ بہادر پارک رکھنے کا مطالبہ کیا ۔ ان دونوں نے میڈیا نمائندوں کو یہ بھی بتایا کہ حضور نظام کے زیورات کی نمائش کا مشاہدہ کرنے کے خواہاں افراد سے صرف 50 روپئے چارج کئے جائیں اور اس سے ہونے والی آمدنی کو بیواؤں کی بہبود اور یتیم و یسیروں کی تعلیم پر خرچ کیا جائے ۔۔

TOPPOPULARRECENT