Saturday , September 23 2017
Home / اضلاع کی خبریں / حفاظ سے محبت، قرآن مجید سے گہری نسبت کی دلیل

حفاظ سے محبت، قرآن مجید سے گہری نسبت کی دلیل

سینئر صحافی سید جلیل ازہر کے جذبہ کی ستائش، مقامی دفتر ’’سیاست‘‘ نرمل میں تہنیتی تقریب سے علماء کا خطاب
نرمل۔14 مئی (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) قرآن پاک کی تلاوت کرنا اس پر عمل کرنا اس کو دیکھنا سب عبادت ہے۔ اسی طرح پڑھنے پڑھانے والوں کے ساتھ محبت کا اظہار کرنا بھی عبادت ہے۔ قرآن کی نسبت تمام نسبتوں کے مقجابلہ میں سب سے بلند ہے۔ بڑا خوص قسمت ہے وہ انسان جس نے قرآن کریم سے اپنے تعلق کو جوڑلیا۔ ان خیالات کا اظہار مولانا عبدالعلیم قاسمی امام و خطیب مسجد سیلم و استاد مدرسہ روضۃ العلوم نرمل نے مقامی دفتر روزنامہ ’’سیاست‘‘ نرمل میں سینئر صحافی و اسٹاف رپورٹر روزنامہ ’’سیاست‘‘ سید جلیل ازہر کی جانب سے منعقدہ تقریب تہنیت جو روضۃ العلوم کے فارغ حفاظ کے ضمن میں منعقد کی گئی تھی۔ اس تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ مولانا عبدالعلیم نے اپنے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہاکہ ہر سال پابندی سے مقامی دفتر ’’سیاست‘‘ میں پابندی کے ساتھ مدرسہ سے تکمیل حفظ کرنے والے اطلباء، اساتدہ اور معززین شہر کو دففتر میں مدعو کرکے جلیل ازہر اللہ کی رحمتوں اور برکتوں سے فیضیاب ہوتے ہیں۔ یہ ان کی قرآن سے گہری نسبت کی دلیل ہے۔ مولانا نے حیدرآباد سے آئے ہوئے معزز مہمانان جناب خالد رسول اور ظہور الدین کا تعارف کرواتے ہوئے ان کی اس محفل میں تشریف آوری پر مسرت کا اظہار کیا۔ اس موقع پر مفتی کلیم الرحمن صاحب مظاہری استاد مدرسہ روضۃ العلوم نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے قرآن کی نسبت پر علماء، حفاظ اور معززین شہر کو ایک جگہ جمع کرنے پر جلیل ازہر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ جو قرآن سے اپنے تعلق کو باقی رکھتا ہے اللہ اس کا حامی و ناصر بن جاتا ہے اور ان کی نسلوں میں دین کو زندہ رکھتا ہے۔ مفتی احسان شاہ قاسمی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دیگر مذاہب کی کسی کتاب کا کوئی ایک حافظ بھی دستیاب نہیں ملے گا لیکن قرآن وہ مقدس کتاب ہے جس کے حافظ ہر زمانہ میں لاکھوں مل جائیں گے۔ اس موقع پر مدرسہ کے تمام اساتدہ کے علاوہ معتمد مدرسہ خواجہ یوسف احمد، بحیثیت مہمان خصوصی نیز خواجہ ہدایت علی فارسٹ رینج آفیسر نرمل، صدر انتظامی کمیٹی جامع مسجد مختار احمد خان بشمول تمام کمیٹی کے ذمہ داران اور معززین شہر کی ایک بڑی تعداد شریک تھی۔ ہر سال اس جلسہ میں نیشنل ہائی وے اتھاریٹی آف انڈیا کے پراجیکٹ ڈائرکٹر میر حامد علی شرکت کرتے ہوئے حفاظ کو اپنی جانب سے تحائف دیا کرتے تھے۔ اس بار وہ اپنے بچوں اور اہلیہ کے ساتھ مدینہ شریف میں عمرہ کے لیے مقیم ہیں۔ اس جلسہ کی اطلاع پر خوشی و مسرت کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے حفاظ کو فی کس پانچ سو روپیہ روانہ کیئے۔ ان کی اس مدرسہ محبت اس بات کا ثبوت ہے جبکہ حیدرآباد سے آئے ہوئے مہمان جناب خالد رسول خان اور ظہور الدین جو کل ضلع ععادل آباد کے دورہ پر گزشتہ چار دن قبل اوٹنوری فرقہ وارانہ صورتحال کی وجہ غریب مسلمانوں کی املاک کے نقصان پر ضلع کلکٹر سے ایکس گریشیا کی نمائندگی کرنے کے بعد حیدرآباد واپس ہوتے ہوئے انہوں نے نمائندہ سیاست سے فون پر ربط پیدا کیا۔ راقم الحروف نے انہیں بتایا کہ کچھ ہی دیر میں یہ تقریب شروع ہوگئی تو انوہں نے بے پناہ مسرت کا اظہار کرتے ہوئے فوری شرکت کی اور خالد رسول خان کم عمر حفاظ کو دیکھ کر بے انتہا مسرت کا اظہار کیا اور فوری اپنی جانب سے ہر حافظ کو پانچ سو روپئے دینے، سید جلیل ازہر نے تمام مہمانوں کا فرداً فرداً شکریہ ادا کیا۔ جناب خالد رسول نے حیدرآباد واپسی سے قبل اس تقریب کے تعلق سے نمائندہ سیاست سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ علم انبیا کی میراث ہے اور علماء ان کے وارث ہوتے ہیں۔ مہمانان رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی صحبت تعلیم و تربیت میں اپنا دینی فرض ادا کرنے والے تمام مذہبی رہنمائنوں کو بھی دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں ان کی شب و روز محنت نے نئی نسل کے کم عمر طلباء کو حفاظ بنانے میں جو خدمات انجام دی ہے یہ مدرسہ روضۃ العلوم کے اساتذہ کا کارنامہ ہے۔ انوہں نے اس تقریب کے منعقد کرنے پر سید جلیل ازہر کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ جب آپ کسی کی مدد کرو تب یہ نہ سوچو کہ آپ اس کی مدد کررہے ہو بلکہ یوں سوچو کہ وہ غریب آپ کی آخرت سنوارنے میں آپ کی مدد کررہا ہے۔ یہی انسانیت کا پیغام ہے۔

TOPPOPULARRECENT