Sunday , June 25 2017
Home / دنیا / حقانی نیٹ ورک ‘ لشکرطیبہ اور جئیش محمد تنظیموں کو دہشت گرد گروپ سمجھا جائے

حقانی نیٹ ورک ‘ لشکرطیبہ اور جئیش محمد تنظیموں کو دہشت گرد گروپ سمجھا جائے

دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہوں کی فراہمی اور افغانستان میں بڑھتی دہشت گردی پر تشویش ۔ اقوام متحدہ میں ہندوستانی مندوب کا خطاب
اقوام متحدہ 11مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) ہندوستان نے کہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک ‘ لشکرطیبہ اور جئیش محمد جیسی تنظیموں سے بھی دہشت گرد گروپس جیسا رویہ اختیار کیا جانا چاہئے ۔ ہندوستان نے ساتھ ہی خبردار کیا کہ باغی طاقتوں کو کسی بھی شکل میں محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہیں کی جانی چاہئیں۔ اقوام متحدہ میں ہندوستان کے مستقبل مندوب سید اکبر الدین نے افغانستان کی صورتحال پر سلامتی کونسل میں کہا کہ بہیمانہ دہشت گرد حملے بڑھتے جارہے ہیں اور ان کا تسلسل برقرار ہے ۔ جو علاقائی فائدے دہشت گرد گروپس کو افغانستان کے باہر سے ملنے والی مدد سے ہوئے ہیں اور جو سنگین انسانی بحران پیدا ہو رہا ہے وہ خطرناک وقتوں کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ ہمارا اولین اور سب سے اہم فریضۃ ہے کہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ دہشت گردی کی باغی طاقتوں اور تخریب کاری کو محفوظ پناہ گاہیں کسی بھی شکل میں حاصل نہ ہونے پائیں۔ انہوں نے کہا کہ تجربات سے پتہ چلتا ہے کہ بیرونی امداد تخریب کاروں کو حاصل ہے ۔ صورتحال اس کے مطابق بگڑسکتی ہے ۔ انہوں نے اچھے اور برے دہشت گردوں کے مابین امتیاز کے خلاف خبردار کیا ہے اور کہا کہ ایک گروپ کو دوسرے گروپ کے خلاف استعمال بھی نہیں کیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک ‘ طالبان ‘ القاعدہ ‘ داعش ‘ لشکر طیبہ ‘ جئیش محمد اور ان کی طرح کی دوسری تمام تنظیمیں دہشت گرد تنظیمیںہیں۔ ان میں بیشتر کو اقوام متحدہ نے بھی دہشت گرد قرار دیدیا ہے ۔ ان تنظیموں سے دہشت گرد تنظیموں جیسا رویہ اختیا رکرنے کی ضرورت ہے ۔ عالمی سطح پر ان کی سرگرمیوں کی مخالفت کی جانی چاہئے ۔ خود اقوام متحدہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سید اکبر الدین نے کہا کہ یہ بات طئے ہے کہ جو سیاسی عمل اقوام متحدہ نے شروع کیا تھا اور جو تحدیدات اس نے عائد کی تھیں ان سے کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ سلامتی کونسل نے 1988 میں طالبان قائدین کے خلاف کارروائی کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا لیکن کیا کچھ بھی نہیں کیا گیا ۔ ہندوستانی مندوب نے طالبان لیڈر کی ہلاکت کی توثیق کیلئے چار ماہ لینے پر سلامتی کونسل کے محاذی ادارہ پر بھی سخت تنقید کی ۔ انہوں نے کہا کہ اب تک سات ماہ کا وقت گذر گیا ہے اور ہم اب بھی دن گن رہے ہیں اور سلامتی کونسل کی محاذی تنظیم کی جانب سے متوفی دہشت گرد کے اکاؤنٹس منجمد کرنے کیلئے اقدامات کے منتظر ہیں۔ اکبر الدین نے خبردار کیا کہ گذشتہ ایک دہے میں بین الاقوامی برادری اور خود افعان عوام نے جنگ زدہ ملک کی ترقی میں جو کامیابیاں حاصل کی ہیں ان کا اثر زائل ہوجانے کا یہ برادری دور کھڑے ہوکر تماشا نہیں دیکھ سکتی ۔ ہندوستان نے دہشت گرد گروپس سے مقابلہ کیلئے فیصلہ کن کارروائی پر زور دیا اور کہا کہ کئی ممالک کو ماضی کی عدم کارکردگی کی بھاری قیمت چکانی پڑی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کی جانب سے کئی علاقوں پر قبضے کئے جا رہے ہیں۔ لوگ مر رہے ہیں اور ان کیلئے پھر وہی صورتحال پیدا ہو رہی ہے جس سے انہوں نے فرار اختیار کی تھی کیا ایسے میں ہم صرف خاموش تماشائی رہ سکتے ہیں ؟ ۔ آج ہم جہاں کھڑے ہیں وہاں یہ ضروری ہے کہ ہم کارروائی کریں اور فیصلہ کن کارروائی کی جائے ۔ ہمیں یہ فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ 2001 میں جو اثرات ہوئے تھے ایک بار پھر ان کا سامنا دوبارہ ہوسکتا ہے ۔ جو لوگ اسے فراموش کردینگے تاریخ انہیں معاف نہیں کریگی ۔ انہوں نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ گذشتہ چند مہینوں کے دوران افغانستان میں دہشت گردی میں پوری شدت کے ساتھ خطرناک حدوں تک اضافہ ہوا ہے ۔ امریکی نمائندہ برائے افغانستان تدامچی یاماموتو نے بھی جنگ زدہ ملک کی سلامتی صورتحال میں ابتری پر تشویش کا اظہار کیا ۔ انہوں نے طالبان سے اپیل کی کہ وہ کسی شرط کے بغیر بات چیت کیلئے تیار ہوجائیں۔ ساتھ ہی انہوں نے بیرونی لڑاکوں بشمول آئی ایس آئی ایس کی جانب سے حملوں کے خلاف خبردار بھی کیا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT