Wednesday , August 16 2017
Home / دنیا / حقانی نیٹ ورک کے خلاف ’’ٹھوس کارروائی‘‘ کی جائے

حقانی نیٹ ورک کے خلاف ’’ٹھوس کارروائی‘‘ کی جائے

امریکہ کی پاکستان سے خواہش ‘ محکمہ خارجہ کی ترجمان ایلزبتھ ٹروڈیف کا بیان
واشنگٹن۔24اپریل ( سیاست ڈاٹ کام) امریکہ نے  پاکستان پر زور دیا ہے کہ خوفناک حقانی نیٹ ورک کے خلاف ’’ ٹھوس کارروائی ‘‘ کی جائے اور اپنے تیقن کو پورا کیا جائے پھر وہ دہشت گرد گروپ کے درمیان فرق و امتیاز جاری نہیں رکھے گا ۔ امریکی محکمہ خارجہ کے اعلیٰ سطحی عہدیدار نے گذشتہ ہفتہ کے کابل میں دہشت گرد حملہ کے بعد یہ بیان جاری کیاہے ۔ اس حملہ میں 70سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔محکمہ خارجہ کی ترجمان ایلزبتھ ٹروڈیف نے کہا کہ ہم مستقل طور پر ہمارے اندیشے اعلیٰ ترین سطح پر پاکستان سے ظاہر کرتے رہے ہیں کہ وہ اب بھی افغان طالبان گروپس کے ساتھ رواداری برت رہا ہے ۔ حقانی نیٹ ورک کے ساتھ بھی جو سرزمین پاکستان سے سرگرم ہے اُس کا یہی رویہ ہے ۔ امریکہ کو اندیشہ ہے کہ پاکستان میں دوبارہ مہلک دہشت گرد حملے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں 19اپریل سے شروع ہوگئے ہیں جو پاکستان کی اسی رواداری کا نتیجہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت امریکہ نے حکومت پاکستان سے خواہش کی ہے کہ وہ اپنے اُس تیقن کی تکمیل کرے جس کے بموجب انہیں تیقن دیا تھا کہ دہشت گرد گروپس کے درمیان ان کے ایجنڈے یا اُن کی وابستگی کا لحاظ کئے بغیر یکساں رویہ اختیار کیا جائے گا ۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان پر زور دیتے ہیں کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف ’’ ٹھوس کارروائی ‘‘ کرے ۔ وہ پریس کانفرنس میں ایک سوال کا جواب دے رہی تھی ۔ پاکستانی عہدیداروں نے بار بار اپنے اس عہد کا اعادہ کیا ہے کہ وہ ان گروپس کے درمیان فرق و امتیاز نہیں برتے گا ۔ محکمہ خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ ہم برابر اُن سے خواہش کرتے رہتے ہیںکہ وہ اپنے تیقن کی تکمیل کرے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں الفاظ سے بہت بڑافرق پڑتا ہے ۔ ہم پاکستان کی جانب سے اپنے قول اور عمل میں یکسانیت پیدا کرنے کیلئے زور دیتے رہیں گے ۔ وہ افغانستان کے ان الزامات پر ردعمل ظاہر کررہی تھیں کہ پاکستانی حقانی نیٹ ورک کی مدد کررہے ہیں ۔جس کے نتیجہ میں اس نے کابل پر حملہ کیا ۔ افغانستان کے صدارتی ترجمان دعویٰ خان میناپال نے کہا کہ حقانی گروپ کا کوئی بھی حملہ پاکستان کی مدد کے بغیر ناممکن ہے ۔ بار بار گذشتہ 14سال سے اس بات کا کافی ثبوت مل چکا ہے ۔ وائس آف امریکہ نے ان کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے یہ خبر نشر کی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT