Wednesday , August 23 2017
Home / اضلاع کی خبریں / حقوق کی ادائیگی پر ہی سکون و اطمینان ممکن

حقوق کی ادائیگی پر ہی سکون و اطمینان ممکن

بیدر میں دینی و اصلاحی اجتماع برائے خواتین، محترمہ بہاجت فاطمہ اور دیگر کا خطاب
بیدر۔28؍ نومبر۔(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)۔ اسلام فرائض کی تعلیم دیتا ہے اور حقوق کو متعین کرتاہے۔ اور کبھی کبھی حقوق العباد حقو ق اللہ پر ترجیح پاجاتے ہیں ۔ اس لئے ہمیں یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ اسلام نے بندوں کو کن کن حقوق سے نوازا ہے۔ تب ہی ہم عدل و قسط پر قائم رہ سکتے ہیں۔ اور سکون اور اطمینان کی سانس لے سکتے ہیں۔ کیونکہ قرآن میں ہے اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتاہے ، سختی کرنا نہیں چاہتا۔ ان خیالات کا اظہار محترمہ بہاجت فاطمہ نے ’’اسلام میں عورتوں کے حقوق ’’پر اپنے خطاب کے دوران خواتین کے دینی واصلاحی اجتماع منعقدہ نورخاں تعلیم بیدرسے کیا۔انہوں نے بتایا کہ ہم آسانی تبھی حاصل کرسکتے ہیں جب ہمیں وہ تمام حقوق حاصل ہوں۔ جو ہماری روحانی اور مادی زندگی کیلئے ضروری ہوں ، ان حقوق میں اسلام نے مرد اور عورت کے درمیان امتیاز سے کام نہیں لیاہے۔ بلکہ عادلانہ بنیادوں پر یہ حقوق ہر فرد کو فراہم کرتاہے۔ عورت کو بھی اسلام نے تمام احوال میں مالکانہ حقوق کے علاوہ حق تصرف بھی عطاکیاہے۔ اور عورت کو اس معاملے میں مکمل آزادی دی ہے ۔اور حق وراثت کے بارے میں سورہ نساء:۷ میں اللہ کا فرمان ہیکہ ’’اور عورتوں کیلئے بھی اس مال میں حصہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہے خواہ تھوڑا ہو یا بہت اور یہ حصہ اللہ کے طرف سے مقرر شدہ ہے۔ اور مہر ایک ایسا معاوضہ ہے جس کے نتیجہ میں ایک مرد کو ایک عورت پر حقوق زوجیت حاصل ہوتے ہیں۔ اور نکاح کے نتیجے میں بیوی کانفقہ شوہر پر واجب ہو جاتاہے۔ جو عورت کی خواہشات کے بجائے مرد کی استطاعت پرمنحصر ہے۔ کیونکہ سورہ طلاق7 میں ہے ۔’’خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے اور جسکا رزق نپا تلا ہو اسے اللہ نے جتنا کچھ دیا ہوا س میں سے وہ خرچ کرے۔‘‘ حق متاع اداکرے ۔ متاع وہ سامان ہے جو جدائی کے وقت مطلقہ کو دیا جائے تاکہ فوری طور پر کسی حد تک عورت کی دل جوئی ہوسکے۔ اور حق اجرت ،رضاعت وحضانت کا مطلب  یہ ہیکہ وہ مطلقہ عورت جو عدت گزر نے کے بعد اپنے بچے کو دودھ بھی پلارہی ہو اور پرورش بھی کررہی ہو، اسے بچے کے باپ سے اُجرت رضاعت اور اجرت حضانت بھی ملے گی اور مدت رضاعت گزر نے کے بعد صرف اجرت حضانت ملے گی۔ اور اگر بروقت بچے کا باپ مفلس ہے تو یہ حق اس پر قرض ہے۔ اور غربت اور افلاس کی بنیاد اسلامی بیت المال ان کی کفالت کرنے کا مکلف ہوتاہے۔اللہ ہم سب کو ان باتوں پربھی عمل کی توفیق عطافرمائے۔ اور محترمہ نے توکل اختیار کرنے کی صلاح دی اور اُس کا یہ مطلب سمجھایا کہ توکل در حقیقت دنیا اور آخرت کے امور میں مضرتوں کے دفع کرنے اور مصالح کے حصول میں صدق دل سے اللہ پراعتماد اور بھروسہ کا نام ہے اور آنحضرت ؐ متوکلانہ زندگی گزار تے تھے لیکن کسب بھی آپؐ کی ہی سنت تھی۔ محترمہ قصیر سلطانہ نے بتایا کہ نبی کریمؐ نے عورتوں کو جہنم جانے کی ایک بڑی وجہ اپنے شوہروں کے ساتھ نہ شکری بتائی ہے۔ اسی لئے جنت کے حصول کیلئے ضروری ہیکہ ہم شوہروں کے شکر گذار بن کر زندگی گذاریں اور قناعت پسندی کی روش اختیار کریں جو سب سے بڑی دولت ہے۔ محترمہ زاہدہ بیگم نے بتایا کہ اسلام نے مہمانوں اور پڑوسیوں کے بہت سے حقوق اداکرنے کے احکامات دئے ہیں جن کی ادائیگی سے ہی خاندان اور پڑوس پھر محلہ اور آخیر میں معاشرہ میں امن و سکون نصیب ہوسکتاہے اور آخرت میں اللہ رحمت کے مستحق بن سکتے ہیں محترمہ عالیہ سلطانہ نے نظامت کے فرائض انجام دئے اور اجتماع کے اختتام پر خواتین کو نصیحت کی کہ بچوں کی تربیت میں غفلت بر تنا د راصل اپنے پیر پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے اسی لئے بچوں کو چھ سال کی عمر ہونے سے پہلے پہلے ہی انہیں اسلام سے متعارف کرائیں اور ریاستی زبان ،قومی زبان، بین الاقوامی زبان بھی اپنی مادری زبان کے ساتھ لکھنا پڑھنا سکھائیں۔

TOPPOPULARRECENT