Thursday , October 19 2017
Home / مذہبی صفحہ / حقِّ حضانت

حقِّ حضانت

سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید نے ہندہ سے شادی کی جس کے بطن سے تین لڑکے (عمر ۹ سال ، ۷ سال ، ۵ سال ) اور ایک لڑکی (۱۱ سال ) تولد ہوئے ۔ زید نے ہندہ کو نافرمانی وعدول حکمی وغیرہ کی و جہ دوسال قبل طلاق دیدیا ہے اور زید بچوں کا نان ونفقہ بموجب حکم عدالت اداکر رہا ہے، لیکن بچے ہندہ کے زیر پرورش ہیں جہاں ان کی تربیت وتعلیم غیر تشفی بخش ہے ۔ اس لئے زید ان بچوں کو واپس لینا چاہتا ہے ۔
شرعا ًماں کو کب تک حق حضانت حاصل ہے اور کیا زید ان بچوں کو واپس لے سکتا ہے  ؟
جواب :  بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہامیں لڑکے کی عمر سات سال ہونے تک اور لڑکی بالغہ ہونے تک اپنی ماں کے زیر پرورش رہیں گے کیونکہ اس عمر تک ان کی حضانت (پرورش) کا حق ماں کو ہے اگرچہ وہ مطلقہ ہو ۔ اس کے بعد (یعنی لڑکے سات سال کے ہونے اور لڑکی بالغہ ہونے کے بعد ) باپ ان بچوں کو ماں سے واپس لے کر ان کی تربیت کرے گا جیسا کہ فتاوی عالمگیری جلد اول ص ۵۴۱ میں ہے:  أحق الناس بحضانۃ الصغیر حال قیام النکاح او بعد الفرقۃ الأم اور ص ۵۴۲ میں ہے:  والأم والجدۃ احق بالغلام حتی یستغنی وقدر بسبع سنین والأم والجدۃ احق بالجاریۃ حتی تحیض اور اسی صفحہ میں ہے  وبعد ما استغنی الغلام وبلغت الجاریۃ فالعصبۃ اولی یقدم الأقرب فالأقرب کذا فی فتاوی قاضی خان اور ہدایہ کے باب الحضانۃ میں ہے:  انہ اذا استغنی الغلام یحتاج الی التأدب والتخلق بآداب الرجال وأخلاقھم والاب اقدر علی التادیب والتثقیف۔
پس صورت مسئولہ میں زید سات سال کی عمر والے لڑکوں کو ہندہ سے واپس لے کر انکی تربیت اور تعلیم کا انتظام کرسکتا ہے اور لڑکی بالغہ ہونے کے بعد اس کی شادی کرسکتاہے ۔ البتہ ان بچوں کا نفقہ باپ  (زید) کے ذمہ ہے۔ فتاوی عالمگیری جلد اول ص ۵۶۰میں ہے:  ونفقۃ الأولاد الصغار علی الأب لایشارکہ فیھا احد کذا فی الجوھرۃ النیرۃ۔
ناچ گانے کی دعوت کا قبول کرنا
سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ آج کل عموماً شادیوں کی دعوت میںناچ گانا اور دیگر منکرات ہوتے ہیں کیا ایسی دعوت کو قبول کرنا ضروری ہے یا نہیں اور  اس میں کھانا کھا سکتے ہیں یا نہیں  ؟  بینوا تؤجروا
جواب :  بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہامیںشادی ولیمہ کی دعوت میں اگر لغویات ‘ لہو و لعب اور منکرات نہ ہوں تو ایسی دعوت کا قبول کرنا سنت مؤکدہ ہے ۔ اس کے سواء دیگر دعوتوں کے قبول کرنے یا نہ کرنے میں اختیار ہے ۔ مگر قبول کرنا افضل ہے کیونکہ اس میں دعوت دینے والے کا دل خوش ہوتا ہے جو باعث اجر و ثواب ہے ۔ شادی کی دعوت میں ناچ گانا اگر دسترخوان سے علحدہ مقام پر ہو رہا ہے تو کھاسکتے ہیں اگر کھانے کے مقام میں ہو تو اس کو موقوف کروا کر کھانا کھاسکتے ہیں ‘اگر کوئی پیشوا ئے قوم مثلاً عالم  یا مشائخ ہے اور گانا رکوانے پر اس کو قدرت نہیں تو چاہئے کہ وہ وہاں سے نکل جائے اور اگر پیشوا نہیں ہے تو صبر کر کے کھا سکتا ہے ۔ یہ سب اس وقت ہے جبکہ دعوت میں جانے کے بعد اس کو گانے بجانے کا حال معلوم ہو، اگر پہلے ہی علم ہوجائے تو پھر چاہے وہ پیشوائے قوم ہو یا نہ ہو کسی کو بھی ایسی دعوت میں شریک نہیں ہونا چاہئے ۔ اور اگر دعوت فخر و مباہات ‘ ریاکاری اور اظہار شان و شوکت کیلئے ہو رہی تو ایسی جگہ پر ہرگز نہیںجانا چاہئے۔ رد المحتار ج  ۵   کتاب الحظر و الاباحۃ میں ہے:  ( دعی الی ولیمۃ او ثمۃ لعب او غناء قعد و أکل) لو المنکر فی المنزل فلو علی المائدۃ لا ینبغی ان یکون بل یخرج … (فان قدر علی المنع فعل و الا) یقدر (صبر) ان لم یکن ممن یقتدی بہ  (فان کان مقتدی ) و لم یقدر علی المنع (خرج و لم یقعد)۔
فقط واﷲ أعلم

TOPPOPULARRECENT