Saturday , July 29 2017
Home / شہر کی خبریں / حقہ کے استعمال سے مہلک بیماری کینسر کا خطرہ

حقہ کے استعمال سے مہلک بیماری کینسر کا خطرہ

l ایک گھنٹہ حقہ پینا 200 سگریٹ پینے کے برابر
l حقہ سنٹرس کو بند کرنے سپریم کورٹ کا حکم
l تمام پولیس اسٹیشنوں کو کمشنر پولیس کے احکامات جاری
حیدرآباد ۔ 11 ۔ جولائی : ( سیات نیوز ) : تمباکو نوشی کے مضر اثرات سے متعلق بے شمار اشتہارات جاری ہورہے ہیں تو حالیہ دنوں میں نوجوان ایک اور نشہ آور طریقہ حقہ کی لت میں مبتلا ہوتے جارہے ہیں ۔ قدیم زمانے میں استعمال کیا جانے والا حقہ ماڈرن دور کے اہل ثروت افراد اور ان کی اولادوں کا فیشن بنتا جارہا ہے ۔ شہری علاقوں کے اسٹار ہوٹلس ، ملٹی فلکسیز میں اسموکنگ پائنٹس حقہ سنٹرس میں تبدیل ہوگئے ہیں تو کہیں اپارٹمنٹس میں حقہ سنٹرس قائم کررہے ہیں ۔ شہر میں غیر قانونی طور پر تقریبا 1000 حقہ سنٹرس خاموشی کے ساتھ چلائے جانے کی اطلاع ہے ۔ پولیس دھاوؤں کے دوران پکڑے جانے والے اکثر بڑے لوگوں کی اولاد اور نابالغ بچے بھی شامل ہیں ۔ ڈرگس کے استعمال سے ایک طرح کا نشہ ہوتا ہے تو حقہ میں زہریلی ٹاکسک مادہ کے استعمال سے ہونے والے نشہ کی وجہ سے 99 فیصد کینسر لاحق ہونے کا شدید خدشہ پایا جاتا ہے ۔
200 سگریٹ پینے کے برابر
حقہ میں تمباکو کے علاوہ زہریلی و نشیلی چیزوں کے ملاوٹ سے 200 فیصد زائد نشہ پینے والے پر سوار ہوتا ہے ۔ ڈاکٹرس اس بات کی تصدیق بھی کرچکے ہیں ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک گھنٹہ حقہ پینا گویا لگاتار 200 سگریٹ پینے کے برابر ہے اور 2005 میں عالمی صحت تنظیم نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے ایک گرام سگریٹ میں 11.2 ملی گرام تار ہوتا ہے جب کہ حقہ میں 802 گرام ملی تار پایا جاتا ہے ۔ نکوٹین سگریٹ میں 0.77 ایم جی تو حقہ میں 2.96 یم جی کاربن سونارکسائڈ کا فیصد 12.6 یم جی سگریٹ میں ہے تو حقہ میں اس کا فیصد 143 یم جی ہونے سائنٹیفیک تجربہ نے واضح کردیا ہے ۔ بیڑی و سگریٹ نوشی کرنے والے افراد کو 18-26 برس عمر والوں کو 49-55 برس کی عمر میں کینسر لاحق ہونے کا خدشہ ہے تو حقہ پینے والوں کو 39-45 برس کی عمر میں کینسر لاحق ہونے کا شدید اندیشہ پایا جاتا ہے ۔۔
دھویں کے ساتھ قیمتی جانیں بھی ہوا میں
زمانے قدیم میں استعمال کیے جانے والے حقہ میں منٹس کے ساتھ ساتھ کچھ ہربل بوڈرس ملائے جاتے تھے جس سے کم نشہ ہوتا تھا مگر اب حقہ سنٹرس کے مالکین دیگر ممالک سے چند زہریلی و نشیلی اشیاء منگوا کر حقہ میں ملا رہے ہیں ۔ جس کی وجہ سے حقہ پینے والوں کے پھیپھڑوں ، خون میں خطرناک کاربن سوناکسائیڈ ، کوبالڈ اور لیڈ اشیاء کی ملاوٹ سے بہت کم وقت میں منہ ، پھیپھڑے وغیرہ کے کینسر میں مبتلا ہوسکتے ہیں ۔ علاوہ ازیں ڈاکٹرس کا کہنا ہے کہ مردانی قوت میں کمی کی وجہ سے اولاد سے محرومی بھی ہوسکتی ہے ۔ ان مضر اثرات کے مد نظر سپریم کورٹ نے ملک میں حقہ سنٹرس کو بند کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں ۔ جس کی وجہ سے شہر کی پولیس نے سنٹرس کو بند کرنے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ تمام پولیس اسٹیشنوں میں پاور پائنٹ پرزینٹیشن کے ذریعہ حقہ سے متعلق معلومات فراہم کرنے کا تہیہ کرچکی ہے ۔ سپریم کورٹ کے احکامات سے قبل پولیس برائے نام حقہ سنٹرس پر چھاپہ ماری یا جرمانہ وغیرہ کر کے چھوڑ دیا کرتی تھی مگر اب سپریم کورٹ کے احکامات عالمی صحت تنظیم اور ڈاکٹرس کی جانب سے تنبیہ آنے کے بعد مرکزی حکومت نے تحدیدات عائد کی ہے ۔ سگریٹ ، تمباکو پراڈکٹ پروہیبیشن ایکٹ 2003 کے تحت عوامی مقامات ، اسموکنگ زونس میں اور حقہ سنٹرس چلانے والوں کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 328 ، 188 آئی پی سی سیکشن (2) 20.4 کے تحت مقدمات درج کرنے کی تیاری کرچکی ہے اور سٹی پولیس کمشنر نے شہر کے تمام پولیس اسٹیشنوں کو سرکلر جاری کرچکے ہیں اور ان دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تو ملزم کو کم از کم 10 برس کی سزا ہوسکتی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT