Monday , August 21 2017
Home / مضامین / حق بھی نہیں ملے گا تقاضہ کئے بغیر

حق بھی نہیں ملے گا تقاضہ کئے بغیر

کرنسی بحران …عوام پریشان… مودی جاپان
شریعت کا تحفظ … صرف تقاریرناکافی

رشیدالدین
ملک میں مالیاتی ایمرجنسی کے اعلان کے ساتھ ہی وزیراعظم نریندر مودی جاپان کی سیر کیلئے روانہ ہوگئے۔ 8 نومبر کی رات وزیراعظم نے 500 اور 1000 کے کرنسی نوٹوں کے چلن کو منسوخ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے ملک میں غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ۔ کوئی شہری چاہے وہ کسی شعبہ سے تعلق رکھتا ہو، اس اعلان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکا۔ غریب سے لیکر دولتمند ہر کوئی ایک ہی صف میں محسوس کرنے لگا۔ نریندر مودی کے اس اعلان نے غریب اور متوسط طبقات پر بجلی کا کام کیا ہے اور ان کا معاشی نظام درہم برہم ہوگیا۔ غیر معلنہ مالیاتی ایمرجنسی سے عوام کو بچانے کے بجائے قوم کو منجھدار میں چھوڑ کر جاپان دورہ کے مزے لوٹنا کیا معنی رکھتا ہے ۔ عوام کی تکالیف اور ملک کی معیشت سے جڑے مسئلہ پر بے حسی کیوں ؟ آخر عوام کو کس کے سہارے چھوڑ کر مودی جاپان روانہ ہوگئے ۔ شائد ملک سے دور بیٹھ کر وہ قوم کی بے چینی اور تکالیف کا لطف لینا چاہتے ہیں۔ یہ ایسا فیصلہ ہے جس نے ہر شخص کو متاثر کیا ہے لیکن نریندر مودی پر اس کا کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا۔ مالیاتی بحران ہی نہیں بلکہ ملک کی سرحدوں کی صورتحال پر ٹھیک نہیں ہے ۔ داخلی سلامتی سے متعلق مسائل بھی ہیں، ایسے میں نریندر مودی کو جاپان کا دورہ منسوخ کرنا چاہئے تھا ۔ مالیاتی ایمرجنسی جیسی صورتحال نے عام آدمی کو جس قدر پریشان کیا ہے ، کیا اس کا اندازہ وزیراعظم کو نہیں تھا؟ انہیں جاپان دورہ کے بعد کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کا اعلان کرنا چاہئے تھا ۔ نریندر مودی جنہوں نے ابھی تک 40 سے زائد ممالک کا دورہ کیا ہے ، وہ اس فہرست میں تیزی سے اضافہ چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے وہ خود کو پانچ برسوں میں ورلڈ ریکارڈ کی طرف لیجانا چاہتے ہیں۔ وہ کیوں کر اپنے دورہ کو منسوخ کریں گے ۔ مبصرین کے مطابق فینانس، داخلہ اور دفاع کیلئے علحدہ وزیر ضرور ہیں لیکن تینوں وزارتوں کے اصلی وزیر تو نریندر مودی ہیں۔ تمام اہم فیصلے وہی کرتے ہیں اور وزراء تو محض رسمی کارروائیوں کیلئے ہیں۔ سرحد پر روزانہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاعات بھی ہیں۔ کیا یہ کشیدہ صورتحال وزیراعظم کے بیرونی دورہ سے زیادہ اہم اور توجہ طلب نہیں ؟ کرنسی کی تنسیخ سے متعلق اعلان کی ٹائمنگ پر بھی سوال اٹھ رہے ہیں۔ نریندر مودی کے اس اعلان سے کیا وہ صنعتی گھرانے واقف تھے جو بی جے پی اور مودی سے قریب ہے ؟ وزیراعظم یہ اعلان پارلیمنٹ میں کرتے ہوئے تمام جماعتوں کو اعتماد میں لے سکتے تھے ۔ جمہوریت کی خوبی یہی ہے کہ اتفاق رائے سے اہم فیصلے کئے جائیں۔ اعلان پر عمل آوری کیلئے 9/11 تاریخ کا انتخاب کرنا بھی مودی کی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے ۔ نریندر مودی نے ایک فوجی ڈکٹیٹر کی طرح اچانک ٹی وی چیانلس پر قوم سے خطاب کیا ۔ جمہوریت میں ڈکٹیٹر شپ طرز حکمرانی کو ہرگز قبول نہیں کیا جاسکتا۔ نریندر مودی گجرات کے چیف منسٹر نہیں کہ ایک ریاست میں من مانی اعلانات کئے جائیں۔ سارے ملک پر اثرانداز ہونے والے مسئلہ پر کسی فیصلے سے قبل عوام کے مفادات کو پیش نظر رکھنا چاہئے ۔ آبادی اکثریت غریب اور متوسط طبقات کی ہے اور وہی اس فیصلہ سے زیادہ متاثر ہیں۔ کالے دھن کے خلاف سرجیکل اسٹرائیک کے نام پر جن کو نشانہ بنانے کا منصوبہ ہے ، وہ افراد دراصل مٹھی پر ہیں اور ہر دور میں کالا دھن رکھنے والے حکومت سے قریب رہے ہیں۔ حکومت ان چہروں کو اچھی طرح جانتی ہے لیکن  ان پر کارروائی کے بجائے عوامی تائید حاصل کرنے اس طرح کے تشہیری فیصلے کئے جارہے ہیں۔ بلیک منی اور پالیٹکس  کا آپس میں گہرا رشتہ ہے۔ انتخابات میں سیاسی جماعتیں کالے دھن کے سہارے ووٹ خریدتی ہیں۔ چونکہ ہر بڑی پارٹی سے وابستہ افراد مختلف ہیں لہذا ہر حکومت اپنے مخالفین کے سرمایہ داروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتی ہے ۔ قوم سے خطاب سے قبل نریندر مودی نے صدر جمہوریہ پرنب مکرجی سے ملاقات تک نہیں کی ۔ حالانکہ ان کا شمار ملک کے سرکردہ ماہر معاشیات میں ہوتا ہے ۔ مودی نے صدر جمہوریہ اور نائب صدر جیسی شخصیتوں سے مشاورت کی زحمت نہیں کی۔ گزشتہ ڈھائی برسوں میں مودی حکومت نے بعض صنعتی گھرانوں کی سرپرستی کی جو ہر کسی پر عیاں ہے۔ امبانی اور اڈانی ان میں سرفہرست ہیں۔ عام انتخابات میں بی جے پی اور مودی کے حق میں پرچار کرنے والے یوگا گرو رام دیو بھی اب صنعت کار بن گئے ۔ یہ مودی حکومت کی مہربانی نہیں تو کیا ہے ؟ کرنسی کے بحران میں مودی کی قریبی کمپنیاں میدان میں آکر عوام کا استحصال کرنے لگی ہیں۔ کیا مکیش امبانی کو حکومت کے اس فیصلہ کی خبر تھی؟ یہ محض اتفاق ہے یا پھر منصوبہ کا حصہ کہ مکیش امبانی نے جیو فون متعارف کرتے ہوئے اس اسکیم میں بھاری سرمایہ کاری کی اور صارفین کو 30 ڈسمبر تک فری کال کی سہولت دی ہے۔ ظاہر ہے کہ پرانی کرنسی کی تبدیلی کی مہلت بھی 30 ڈسمبر ہی ہے۔ اس طرح یکم جنوری سے مکیش امبانی کو نئی کرنسی میں منافع حاصل ہوگا جو خالصتاً وائیٹ منی ہوگی۔ ایک ہی اسکیم میں امبانی نے اپنی دولت کو بلیک سے وائیٹ میں تبدیل کردیا۔ مبصرین کا ماتھا تو اسی وقت ٹھنکا تھا جب جیو کے اشتہارات میں نریندر مودی کی تصویر شامل کی گئی تھی ۔ اگر کرنسی سے متعلق فیصلہ اچانک تھا تو پھر مودی کے ہوم اسٹیٹ گجرات کے ایک اخبار میں 6 ماہ قبل کس طرح یہ انکشاف کیا تھا کہ 500 اور 1000 کے کرنسی نوٹ منسوخ ہوجائیں گے۔ ظاہر ہے کہ اس انکشاف سے گجرات کے تاجروں میں ساری بلیک منی کو وائیٹ میں تبدیل کرلیا ہوگا۔ مودی کے اچانک اعلان پر شبہات کی ایک اور اہم وجہ ایک اور خانگی کمپنی کو ہونے والا فائدہ ہے ۔ Pay tm کمپنی نے کسی بھی خریداری کیلئے رقم ادا کرنے اپنی خدمات کا پیشکش کیا اور آن لائین سہولت کے حصول کیلئے اس کے صارفین کی تعداد میں صرف دو دن میں لاکھوں کا اضافہ ہوگیا ۔ کیونکہ عوام کے پاس چلنے والی کرنسی نہیں تھی ، لہذا انہوں نے اس کمپنی سے خود کو وابستہ کرلیا ۔ اس کمپنی نے نریندر مودی کی تصویر کے ساتھ قومی اخبارات میں اشتہارات شائع کئے اور کرنسی کی تنسیخ کے فیصلہ پر مودی کو مبارکباد پیش کی۔ حکومت نے پہلے Jio اور پھر Pay tm کے اشتہارات نے وزیراعظم کی تصویر کے اشتہارات پر کوئی اعتراض نہیں کیا جو خود اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کمپنیوں کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہے ۔
جہاں تک کالے دھن کو بے نقاب کرنے کا سوال ہے ، بی جے پی نے انتخابات سے قبل بیرون ملک موجود کالے دھن کی واپسی کا وعدہ کیا تھا۔ ہرشہری کے اکاؤنٹ میں 15 لاکھ روپئے جمع کرنے کے سنہری خواب دکھائے گئے۔ اب کرنسی نوٹوں کی تنسیخ کے ذریعہ باہر سے بلیک منی لانے کے بجائے مودی حکومت نے ہر گھر کے بجٹ کو تباہ کردیا ہے۔ کیا یہی اچھے دن ہے ۔ کیا یہی سب کا ساتھ سب کا وکاس ہے کہ ہر غریب اور متوسط گھرانا حکومت کے اس فیصلہ کا شکار ہوا ہے ۔ ارون جیٹلی ، راجناتھ سنگھ اور وزیراعظم سے قربت رکھنے والوں کی باڈی لینگویج ظاہر کر رہی ہے کہ مودی نے اس فیصلہ میں ان کے بجائے اڈانی اور امبانی سے صلاح و مشورہ کیا ہے ۔ حکومت کے اس فیصلہ پر سماج کے ہر طبقہ کی طرح مسلمان بھی ناراض ہیں اور سوشیل میڈیا پر مختلف انداز سے اس کا اظہار کیا جارہا ہے ۔ مسلم طبقہ کی اس ناراضگی کو یقیناً ایک فطری عمل کہا جائے گا لیکن ساتھ ہی حیرت اس بات پر ہے کہ شریعت اسلامی کی منسوخی سے متعلق حکومت کی سازش پر اس قدر برہمی نہیں جتنی کہ دنیاوی چیزوں کی منسوخی پر دیکھی جارہی ہے ۔ حکومت شریعت میں تبدیلی اور یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کے حق میں  سپریم کورٹ میں حلفنامہ داخل کرنے کی تیاری کی ہے لیکن مسلمانوں کی جانب سے صرف چند روایتی جلسے اور احتجاجی بیانات کے سوائے کوئی ردعمل نہیں دیکھا گیا۔ برخلاف اس کے کرنسی نوٹ کی تنسیخ پر حکومت اور حکمرانوں کو سوشیل میڈیا پر برا بھلا کہنے میں ایک دوسرے پر سبقت لیجانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ مسلمان کو شریعت اور ایمان کے معاملہ میں اپنے جذبہ کا اظہار کرنا چاہئے نہ کہ دنیاداری میں ۔حیرت تو اس بات پر ہے کہ شریعت کے تحفظ کیلئے جاری دستخطی مہم میں بھی کوئی خاص جوش و جذبہ دکھائی نہیں دیا۔ آخر شریعت کے معاملہ میں اس قدر بے حسی کیوں ؟ صرف دو نوٹ کیا منسوخ ہوگئے عوام آپے سے باہر ہوچکے ہیں ۔ حالانکہ شریعت محمدی ایمان سے وابستہ مسئلہ ہے اور اس کے بغیر ایمان ہی برقرار نہیں رہتا۔ ایک جہاندیدہ شخصیت نے کچھ اس طرح تبصرہ کیا کہ مودی حکومت نے دو کرنسی نوٹ منسوخ کر کے عرصہ حیات تنگ کیا تو مسلمان برہم ہوگئے لیکن شریعت میں مداخلت کی تیاری پر پیشانی پر بل نہیں آیا۔ روایتی قیادت اور روایتی جلسوں کے سواء سارے ملک میں ایک بھی منظم مظاہرہ دیکھنے کو نہیں ملا۔ کیا یہ بے حسی شریعت محمدی کا تحفظ کرسکتی ہے ؟ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے مسلم کردار اور پھر بابری مسجد کو ہم نے کھودیا اور اب مخالف اسلام طاقتیں شریعت پر بری نگاہ ڈال رہی ہے۔ ہم اور ہماری قیادت صرف ناقابل برداشت اور شریعت پر ہر چیز قربان جیسے زبانی بیانات پر اکتفا کئے ہوئے ہیں۔ ’’ناقابل برداشت‘‘ کہتے ہوئے ہم نے بابری مسجد تو کھودیا ، اب کیا شریعت پر سمجھوتہ کیا جاسکتا ہے ؟ پارلیمنٹ ہاؤز ، راشٹرپتی بھون اور وزیراعظم کی قیامگاہ کے روبرو رسمی احتجاج تک نہیں کیا گیا ۔ اب جبکہ پارلیمنٹ کا سیشن قریب ہے کم از کم مسلم ارکان پارلیمنٹ کو اجلاس کے پہلے دن احتجاج کرتے ہوئے مسلمانان ہند کے جذبات سے حکومت کو واقف کرانا ہوگا۔ جمہوریت میں احتجاج اور حکومت پر برہمی کے اظہار کا مکمل حق دیا گیا ہے ۔ شریعت کے نام پر بعض ادارے خود کو مضبوط کرنے کی مہم پر ہیں اور عام جلسوں میں کی جارہی تقاریر محض تقریری مقابلہ کے سوا کچھ نہیں۔ ہر کوئی اپنی شعلہ نوائی کا مظاہرہ کر رہا ہے جبکہ اس مسئلہ پر شعور بیداری اور جدوجہد کیلئے آمادہ کرنے کی ضرورت ہے۔ اسلام میں جن چیزوں کو جائز قرار دیا گیا ہے ، ان میں سب سے ناپسندیدہ عمل طلاق ہے لیکن جلسوں میں مقررین اس ناپسندیدہ عمل کے طریقوں کی صراحت کر رہے ہیں۔ پرسنل لا بورڈ کی ہدایت کے باوجود جلسوں کا انعقاد باعث حیرت ہے اور تحفظ شریعت مہم میں مرکزیت باقی نہیں رہی۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ مسلمان ہر سطح پر حکومت کو شریعت میں مداخلت کے خلاف اپنے جذبات اور احتجاج سے زندہ قوم کا ثبوت دیناہوگا۔منور رانا نے کچھ اس طرح کہا ہے  ؎
یہ شہرِ احتجاج ہے خاموش مت رہو
حق بھی نہیں ملے گا تقاضہ کئے بغیر

TOPPOPULARRECENT