Thursday , October 19 2017
Home / Top Stories / حق تعلیم قانون کے مؤثر نفاذ کیلئے خصوصی احتسابی نظام ضروری

حق تعلیم قانون کے مؤثر نفاذ کیلئے خصوصی احتسابی نظام ضروری

The Vice President, Shri M. Hamid Ansari at the 6th National Stocktaking Convention on Status of Implementation of the RTE Act 2009, in New Delhi on March 21, 2016.

اساتذہ کے تربیتی پروگرام اور عملہ کی کمی کا تذکرہ، قومی جائزہ کنونشن سے نائب صدر حامد انصاری کا خطاب

نئی دہلی ۔ 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) نائب صدرجمہوریہ محمد حامد انصاری نے آج حق تعلیم قانون کی مؤثر عمل آوری کیلئے خصوصی اکتسابی نظام کی تائید کرتے ہوئے کہا  کہ مہاتما گاندھی قوم دیہی روزگار طمانیت قانون کی طرح اس کیلئے بھی ایک خصوصی اکتسابی نظام قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ریاستوں اور مقامی محکمہ تعلیمات کے عہدیداروں سے خواہش کی کہ قانون پر عمل آوری کی نگرانی زیادہ سنجیدگی سے کی جائے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ تعلیم کا معیار عملہ کی کمی اور اساتذہ کو تربیت کے فقدان کی وجہ سے متاثر ہوتا ہے اور اساتذہ کو پرکشش تنخواہیں ادا کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ قومی جائزہ کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے جس کا اہتمام حق تعلیم فورم کی جانب سے کیا گیا تھا، انہوں نے کہا کہ حالانکہ ریاستی محکمات تعلیم اور مقامی عہدیدار اس قانون پر عمل آوری کی نگرانی کے ذمہ دار ہیں۔ اس ذمہ داری کیلئے زیادہ سنجیدگی ضروری ہے۔ خصوصی اکتسابی نظام جیسا کہ دیہی روزگار طمانیت اسکیم پر عمل آوری کیلئے قائم کیا گیا ہے، حق تعلیم قانون پر عمل آوری کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق تعلیم قانون گذشتہ 6 سال سے نافذ کیا جاچکا ہے۔ اس لئے ایک اکتساب خاص طور پر کوتاہیوں کی موجودگی کا پتہ چلانے اور آئندہ کا لائحہ عمل تیار کرنے کیلئے ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کی تربیت کو نظرانداز کیا  جاتا ہے۔ معیار تعلیم، تربیت کی کمی اور اساتذہ کی تربیت کے فقدان کی وجہ سے متاثر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جو سرکاری فنڈس اب تک اسکولوں میں انفراسٹرکچر کی ترقی کیلئے مختص کئے گئے ہیں، ان کی آمد بھی یقینی بنانا چاہئے۔ آکسفیم انڈیا کی پالیسی رپورٹ 2013ء کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہیکہ 5 لاکھ روپئے ایک ٹیچر کے عہدہ کیلئے جو مخلوعہ ہو، منظور کئے گئے ہیں۔ 6 لاکھ 60 ہزار سے زیادہ اساتذہ تربیت یافتہ نہیں ہیں۔ 37 فیصد پرائمری اسکول مقررہ قومی شاگرد اور اساتذہ کے معیاری تناسب کے مطابق نہیں ہیں۔ ہر 30 طلبہ کیلئے ایک ٹیچر کا تقرر ضروری ہے۔ رپورٹ کے بموجب ملک گیر سطح پر ایک ٹیچر والے اسکولس اب بھی موجود ہیں۔ نائب صدر نے کہا کہ ٹیچروں کی غیر حاضری ملک کے کئی علاقوں میں عام ہے اور اسے طلبہ تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں۔ ان کا معیار تعلیم متاثر ہوتا ہے۔ شہری اور دیہی تعلیم، امیر اور غریب بچوں کی تعلیم میں بنیادی طور پر زبردست فرم محسوس کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حق تعلیم قانون کی عمل آوری کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہیکہ اس کے مفاد میں کئی کوتاہی پائی جاتی ہیں۔ پرائمری اسکولس میں شریک ہونے والے بچوں کی تعداد تو کافی زیادہ ہے لیکن ان میں سے اکثر اپنے تعلیم مکمل نہیں کرپاتے۔

TOPPOPULARRECENT