Saturday , September 23 2017
Home / ہندوستان / حق رازداری پر سپریم کورٹ کا فیصلہ انفرادی حقوق کیلئے نئے دور کا نقیب

حق رازداری پر سپریم کورٹ کا فیصلہ انفرادی حقوق کیلئے نئے دور کا نقیب

کانگریس و دیگر اپوزیشن پارٹیوں کا ردعمل ۔ 9 ججوں کی دستوری بنچ کا متفقہ فیصلہ خوش آئند: قانونی ماہرین
نئی دہلی 24 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) حق رازداری کے بارے میں آج سپریم کورٹ کے فیصلے کا تمام اپوزیشن پارٹیوں اور دیگر گوشوں حتیٰ کہ سرکاری حلقوں کی جانب سے بھی خیرمقدم کیا جارہا ہے۔ صدر کانگریس سونیا گاندھی نے فیصلے کے بعد کہاکہ یہ انفرادی حقوق اور انسانی وقار کے حق میں ایک نئے دور کا نقیب ہے اور مملکت نیز اس کی ایجنسیوں کی طرف سے عام آدمی کی زندگی میں جھانکنے اور اُس پر نظر رکھنے کے رجحان کے لئے بڑا جھٹکا ہے۔ اِس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اُنھوں نے کہاکہ کانگریس پارٹی اور اس کی حکومتیں نیز اپوزیشن پارٹیاں عدالت اور پارلیمنٹ میں متحد رہیں اور درست بات کے حق میں اظہار خیال کیا اور مرکز کی خودسر کوششوں کے خلاف آواز اُٹھائی۔ کانگریس کی طرف سے سینئر لیڈر پی چدمبرم نے بھی سپریم کورٹ کے فیصلے کو خوش آئند بتایا اور اِس کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہاکہ رازداری کسی کی بھی شخصی آزادی کا اصل حصہ ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ فاضل عدالت کا متفقہ فیصلہ مرکز کے لئے جھٹکے کے مترادف ہے۔ چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے بھی سپریم کورٹ کی رولنگ کا خیرمقدم کیا۔ کولکاتا کی اطلاع کے بموجب چیف منسٹر نے ٹوئٹ میں کہاکہ اُن کی حکومت اِس فیصلے کو بہت درست مانتی ہے اور اس کا خیرمقدم کرتی ہے۔ اِس سے تمام ہندوستانیوں کی زندگیوں پر اچھا اثر مرتب ہوگا۔ اِس دوران نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے بھی اِسی طرح کے ردعمل میں کہاکہ یہ فاشسٹ قوتوں کو بڑا جھٹکہ ہے اور سخت نگرانی کے ذریعہ جبر و استبداد کے بی جے پی کے نظریہ کا استرداد ہے۔ اُنھوں نے بھی ٹوئٹر پر کہاکہ یہ فیصلہ ہر ہندوستانی کی فتح ہے۔

سی پی آئی (ایم) نے بھی فاضل عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اُمید ظاہر کی کہ اِس سے آج کی دنیا میں جہاں کارپوریٹ اداروں کا غلبہ ہے، نجی معلومات کے غلط استعمال کو روکا جاسکے گا۔ لیفٹ پارٹی نے ایک بیان میں کہاکہ پولیٹ بیورو سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتا ہے۔ یہ تاریخی فیصلہ نقیب ہونا چاہئے کہ آج کی ٹیکنالوجی پر مبنی ترقی یافتہ دنیا میں کسی بھی فرد کے نجی ڈاٹا کے غلط استعمال اور شہریوں کی پرائیویسی میں مداخلت کو روکا جاسکے۔ دریں اثناء قانونی ماہرین نے بھی اپوزیشن کے اظہار خیال کی مانند سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا۔ جس میں قانونی ماہرین اور سینئر ایڈوکیٹس نے اس فیصلے کو ترقی پسند قرار دیا اور کہاکہ یہ بنیادی حق ہے۔ اُنھوں نے تاہم یہ بھی کہاکہ اِس فیصلے کا آدھار اسکیم پر پڑنے والا اثر دیکھنا ہوگا جس کا اندازہ مکمل فیصلہ اور اُس کے لئے عدالت کی جانب سے دی گئی وجوہات کو پڑنے کے بعد ہوگا۔ 9 ججوں پر مشتمل دستوری بنچ کے متفقہ فیصلے کی ستائش کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ سولی سوراب جی نے کہاکہ اِس فیصلے سے سپریم کورٹ کے اچھے رویے کا اظہار ہوتا ہے جس نے اپنے سابقہ فیصلوں کو مسترد کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں دکھائی۔ سابق اٹارنی جنرل نے کہاکہ یہ نہایت عمدہ فیصلہ ہے کیونکہ پرائیویسی بنیادی حق ہے اور ہرفرد میں پوشیدہ عنصر ہے۔

TOPPOPULARRECENT