Friday , August 18 2017
Home / اضلاع کی خبریں / حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرنے والا کامیاب

حق کی نصیحت اور صبر کی تلقین کرنے والا کامیاب

گلبرگہ 9مارچ(سیاست ڈسٹرکٹ نیوز)جب تک کوئی بندہ اپنے آپ کو بدلنے کا ارادہ نہیں کرتا اس وقت تک اس کی زندگی میں تبدیلی نہیں آسکتی چاہے وہ کتنے ہی اجتماعات میں شرکت کرے۔ ان خیالات کا اظہار بروز اتوار ہدایت سنٹر میں جماعت اسلامی ہند گلبرگہ کی جانب سے منعقد ہ اجتماع عام میں اختتامی خطاب پیش کرتے ہوئے محمد یوسف کنی، سیکریٹری جماعت اسلامی ہندکرناٹک نے کیا۔ آپ نے کہا کہ جو لوگ اللہ کے دین کے داعی ہیں اور اس دنیا میں تبدیلی لانا چاہتے ہیں انہیں تو اپنے تعلق کو اللہ کے ساتھ مضبوط کرنے کے لئے تہجد کا اہتمام کرنا چاہئے۔ آپ نے کہا کہ ہم انسانوں کے حقوق کے محافظ بننے والے بن جائیں۔ اجتماع کا آغاز عبد المنان کے درس قرآن سے ہوا۔ سورۃ المزمل کی آیت 20 کی روشنی میں درس دیتے ہوئے آپ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آپ ﷺ روزانہ رآدھی رات یا اس سے زیادہ یا اس سے کم قیام لیل کیا کرتے تھے۔ جب کہ ہماری کیفیت یہ ہے کہ دیگر تمام کاموں کے لئے تو وقت میسر آتا ہے لیکن رات اٹھ کر قیام لیل اور تلاقت قرآن کے لئے وقت نہیں نکال پاتے۔ آپ نے ینسیکلوپیڈیا برٹانیکا کے حوالے سے کہا آج قرآن مجید دنیا میں سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب ہونے کے ساتھ سب سے کم سمجھ کر پڑھی جانے والی کتاب ہے۔ عبد المنان نے کہا کہ اس آیت میں نماز اور زکوۃ جیسے فرائض کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ آپ نے کہا کہ جو مال بھی اللہ کی راہ میں خرچ کیا جاتا ہے وہی دراصل ہمارا ہے ورنہ وہ ورثہ کا ہوگا۔قاضی عبدالمحیط نیـ’’عام انسانوں کے حقوق‘‘ عنوان پر درس حدیث پیش کیا۔ ’’کامیاب زندگی کا ہنر‘‘ عنوان پر خطاب کرتے ہوئے محمد ضیاء اللہ نے کہا کہ آج دنیا میں کامیاب زندگی کے معنی صرف دنیوی کامیابی تصور کیا جاتا ہے جب کہ اسلام دنیاکے بعد کی کامیابی کا تصور دیتے ہوئے یہ اعلان کرتا ہے کہ اس دنیا کے تمام انسانخسارے میں ہیں سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے، عمل صالحہکیا، حق کی نصیحت کی اور صبر کی تلقین کی۔ آپ نے کہاقرآن نے یہ بات بتائی کہ کامیاب وہ ہے جو اپنا تزکیہ کرے، اور نمازوں کا اہتمام خشوع کے ساتھ کرے، لغویات سے بچے، زکوۃ دیتا رہے، اپنی شرم گاہوں کی حفاظت کرے، اپنی امانتوں اور عہد و پیمان کا لہاز کرے۔آپ نے کہا کامیاب وہ ہے جو جہنم کی آگ سے بچا لیا گیا اور جنت میں داخل کیا گیا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس دنیا میں اللہ کا تقوی اختیار کرے، دل کی تنگی سے بچے ،دوسروں کو اپنے پر ترجیح دے چاہے خود محتاج ہی کیوں نہ ہو۔محمد ضیاء اللہ اپنی تقریر جاری رکھتے وہئے کہا کہ اس دنیا میں انسان کو مشکلات آتے رہتے ہیں جس کے نتیجہ میں اس کے اندر اضتراب کی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے لئے آپ نے کہا کہ اس دنیا میں مشکلات اور پریشانیاں صرف ہماری زندگی میں نہیں بلکہ بہت سوں کی زندگی میں آتی رہتی ہیں، اگر ان کو نظر انداز کرتے ہوئے انہیں اپنی زندگی پر حاوی نہ ہونے دیا جائے تو ان کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ آپ نے کہا کہ کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو مصروف رکھا جائے ۔ کسی کے پاس اتنا وقت بھی پیسر آجاتا ہیکہ وہ سوچنے لگے کہ کامیابی کس میں ہے تو سمجھنا چاہئے کہ اس کے لئے ناکامی کے امکانات زیادہ ہیں۔ آپ نے کہا کہ کامیابی کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ ہمارے سامنے کوئی مقصد ہو اور ہم اس کے حصول کے لئے جد و جہد کرتے رہیں۔ آپ نے کہا کہ اسلام نے ہمیں ایک عظیم مقصد کے لئے پیدا کیا ہے تو اسی کی خاطر ہمارا جینا مرنا ہونا چاہئے۔محمد ضیاء اللہ نے بہت سارے تاریخی واقعات کے ذریعہ یہ بات بتائی کے کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ جو حالات بھی ہمارے ساتھ پیش آتے ہیں ان کے ضمن میں تسلیم و رضاء کا معاملہ ہونا چاہئے۔ کیوں کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہوسکتا ہے جس چیز کو تم خیر سمجھتے ہو حقیقت میں وہ تمہارے لئے بُری ہو اور جسے تم بُری سمجھتے ہو وہ تمہارے لئے خیر کی چیز ہو۔ اس لئے ہمیں چاہئے کہ اپنے تمام معاملات کو اللہ کے حوالے کر دینا چاہئے اور ہر معاملے میں صبر کا رویہ اختیار کرنا چاہئے۔کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی مصروفیات کا جائیزہ لیتے رہیں کہ وہ کس طرح کی ہیں ، آیا وہ ہمیں اللہ کی رضاء کی طرف لے جانے والی ہیں یا شیطان کی طرف۔امیر مقامی ذاکر حسین کے اعلانات و دعا کے ساتھ ہی اجتماع اپنے اختتام کو پہنچا۔ برادران ملت مرد و خواتین کی بڑی تعداد اجتماع میں شریک رہی۔

TOPPOPULARRECENT