Saturday , April 29 2017
Home / Top Stories / حلب دوسرا دوزخ بن گیا ہے ۔ بان کی مون کا ریمارک

حلب دوسرا دوزخ بن گیا ہے ۔ بان کی مون کا ریمارک

جنوبی سوڈان میں بھی نسل کشی کے خطرات ۔ سکریٹری جنرل اقوام متحدہ کی حیثیت سے آخری پریس کانفرنس سے خطاب
اقوام متحدہ 17 ڈسمبر ( پی ٹی آئی ) اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے جنگ سے متاثرہ شامی شہر حلب کو دوزخ کا متبادل یا دوسرا دوزخ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی برادری اجتماعی طور پر شام کے عوام کو ناکام بنانے کیلئے ذمہ دار ہے اور وہاں جو قتل عام ہو رہا ہے اس نے عالمی ضمیر میں چھید کردئے ہیں۔ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی حیثیت سے اپنی آخری پریس کانفرنس میں بان کی مون نے بین الاقوامی برادری کے سامنے درپیش دو اہم پرتشویش مسائل شام اور جنوبی سوڈان کے تعلق سے سخت انتباہ دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ شام میں جو قتل عام ہو رہا ہے اس نے عالمی ضمیر میں چھید کردئے ہیں اور جنوبی سوڈان کو بھی نسل کشی کا خطرہ ہے کیونکہ اس ملک کے قائدین نے ایک امن معاہدہ کے پرخچے اڑا دئے ہیں۔

بان کی یہاں اقوام متحدہ کے صحافتی عملہ کو خیرباد کہتے ہوئے کل شام منعقدہ اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ حلب دوزخ کا متبادل یا دوسرا دوزخ بن گیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے اجتماعی طور پر شام کے عوام کو ناکام بنادیا ہے ۔ یہاں امن اسی وقت قائم ہوسکتا ہے جب ہمدردی ‘ انصاف اور احتساب کے ساتھ کوشش کریں اور یہاں ہونے والے مکروہ جرائم کا خاتمہ کرنے کی کوشش کریں ۔ دوسرے محاذ پر انہوں نے واضح کیا کہ جاریہ ہفتے میں جنوبی سوڈان کے تنازعہ میں تین سال مکمل ہوگئے ہیں ۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ اس ملک کے قائدین نے اپنے ہی ملک کے عوام کے بھروسہ کو دغا دی ہے اور انہوں نے امن معاہدہ کو توڑ دیا ہے ۔ انسداد نسل کشی سے متعلق اپنے خصوصی مشیر اداما ڈئینگ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے خصوصی مشیر نیخطرہ ظاہر کیا ہے کہ جنوبی سوڈان میں نسل کشی ہوسکتی ہے ۔

بان کی مون نے اقوام متحدہ سلامتی کونسل سے کہا کہ وہ اس مسئلہ پر فوری اور موثر کارروائی کرے ۔ ایسے میں سخت ترین اقدامات بھی ہونے چاہئیں۔ بان کی مون دنیا کے سب سے بڑے عالمی ادارہ میں اپنی 10 برس کی خدمات 31 ڈسمبر کو مکمل کرلیں گے اور اس ادارہ کی ذمہ داری اپنے جانشین انٹونیو گواٹریس کے سپرد کردینگے جنہوں نے سکریٹری جنرل اقوام متحدہ کی حیثیت سے گذشتہ ہفتے میں حلف لیا تھا ۔ بان کی مون نے کہا کہ گذشتہ ایک دہا امتحان سے پر رہا ہے ۔ تاہم انہوںن ے یہ بھی دیکھا ہے کہ یہاں لاکھوں افراد کی زندگیوں کو بہتر بنانے کیلئے اجتماعی اقدامات بھی کئے گئے ۔ چونکہ شامی بحران اپنے چھٹے سال میں داخل ہو رہا ہے عام شہریوں کیلئے تنازعہ کے اثرات بہت زیادہ ہوتے جا رہے ہیں اور انہیں بے طرح مشکلات کا سامنا ہے ۔ وہاں زبردست تباہی مچ رہی ہے اور انسانیت کا احترام پارہ پارہ ہو رہا ہے ۔ انسانی امور پر تعاون سے متعلق اقوام متحدہ کے دفتر کے مطابق شام میں 13.5 ملین افراد کو انسانی بنیادوں پر امداد کی ضرورت ہے ۔ ان میں 4.9 ملین ایسے افراد بھی شامل ہیں جو محاصرہ والے شہروں میں پھنسے ہوئے ہیں اور ایسے علاقوں میں بھی مقیم ہیں جہاں تک رسائی مشکل ہے ۔ ان علاقوں میں عوام کا تحفظ ایک سنگین مسئلہ بنا ہوا ہے ۔خاص طور پر شام کا شہر حلب بدترین حالات کا شکار ہے اور وہاں بڑے پیمانے پر تباہی ہو رہی ہے ۔ یہاں سے عوام کا تخلیہ شروع ہوا تھا جو فی الحال تعطل کا شکارہ ے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT