Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / حلب میں بسوں کے قافلے پر بم حملہ، 40 ہلاک

حلب میں بسوں کے قافلے پر بم حملہ، 40 ہلاک

دمشق۔15 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) شام کے شمالی شہر حلب میں داخلے کے منتظر بسوں کے ایک قافلے پر بم حملے میں چالیس سے زیادہ افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوگئے ہیں۔دمشق نواز میڈیا ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ ایک خودکش بمبار نے ہفتے کے روز بارود سے بھری ایک کار کو حلب کے نواح میں بسوں کے قافلے کے نزدیک دھماکے سے اڑایا ہے جس کے نتیجے میں بائیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ان ذرائع نے تباہ شدہ بسوں کے ساتھ زمین پر پڑی لاشوں کی تصاویر جاری کی ہیں۔برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ بم دھماکے میں 43 افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوئے ہیں۔بم دھماکا حلب کے نواح میں واقع علاقے راشدین میں ہوا ہے اور بم حملے میں نشانہ بننے والی بسوں پر دو شیعہ دیہات سے آنے والے افراد سوار تھے۔شام کے متحارب جنگی فریقوں کے درمیان تین محاصرہ زدہ علاقوں سے شہریوں اور جنگجوؤں کے انخلاء کے سمجھوتے پر عمل درآمد میں تعطل کے بعد ہزاروں افراد حلب شہر کے نواح میں دو راستوں پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔حکومت اور شامی باغیوں کے درمیان ایک سمجھوتے کے تحت شمال مغربی صوبے ادلب میں واقع دو دیہات الفوعہ اور کفریاسے حکومت نواز سیکڑوں جنگجوؤں اور شیعہ مکینوں کو ان بسوں کے ذریعے حلب منتقل کیا جارہا تھا۔اس سمجھوتے کے تحت دمشق کے نواح میں ایک قصبے سے سیکڑوں سنی جنگجوؤں اور مکینوں کو ادلب میں جا بسنے کی اجازت دی گئی ہے۔لیکن اس سمجھوتے پر عمل درآمد میں تاخیر کی وجہ سے جمعہ کی شب سے حلب کے نواح میں گذرگاہوں پر بسوں کے قافلے رکے ہوئے تھے اور وہ راشدین کے علاقے میں داخلے کے منتظر تھے۔ادھر دمشق کے نزدیک واقع قصبے مضایا کے مکین اور باغی جنگجو حکومت کے زیر قبضہ الراموسہ میں ایک بس گیراج میں منتظر تھے۔انھیں بسوں کے ذریعے مسلح حزب اختلاف کے زیر قبضہ صوبے ادلب منتقل کیا جائے گا۔شامی رصدگاہ کا کہنا ہے کہ اس سمجھوتے پر عمل درآمد میں تاخیر دمشق کے نزدیک واقع ایک اور قصبے الزبدانی سے تعلق رکھنے والے باغیوں کو محفوظ راستہ نہ دینے کی وجہ سے ہوئی ہے حالانکہ وہ بھی اس ڈیل میں شامل ہیں۔

TOPPOPULARRECENT