Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / حلقہ لوک سبھا ملاپورم پرانڈین یونین مسلم لیگ کا قبضہ برقرار

حلقہ لوک سبھا ملاپورم پرانڈین یونین مسلم لیگ کا قبضہ برقرار

ای احمد مرحوم کے بااعتماد ساتھی کنھالی کٹی کی سی پی آئی (ایم) کے فیصل کے مقابلہ بھاری اکثریت سے کامیابی

ملاپورم ۔ 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) نے کیرالا میں حلقہ لوک سبھا ملاپورم پر اپنا قبضہ برقرار رکھا۔ اس کے امیدوار پی کے کنھالی کٹی نے اس حلقہ میں منعقدہ ضمنی انتخاب میں حکمراں سی پی آئی (ایم) کی زیرقیادت ایل ڈی ایف کے امیدوار کو 1.7لاکھ ووٹوں کی اکثریت سے شکست دی۔ کنھالی کٹی نے تمام سات اسمبلی حلقوں کونڈوٹی، منجیری، پیرنتھلنما، مانکاڈا، ملاپورم، وینگارا اور ولیکنو میں بھاری سبقت حاصل کی اور اپنے قریبی حریف ایم بی فیصل (سی پی آئی ایم) کو 1,71,023 ووٹوں کی اکثریت سے شکست دی۔ کنھالی کٹی کو 5,15,330 ووٹ ملنے فیصل کو 3,44,307 ووٹ اور بی جے پی امیدوار این سری پرکاش کو 65,675 ووٹ حاصل ہوئے۔ کیرالا میں کانگریس کی زیرقیادت اپوزیشن محاذ یو ڈی ایف کی ایک اہم حلیف جماعت آئی یو ایم ایل کے سینئر لیڈر اور سابق مرکزی وزیر ای احمد کے انتقال کے سبب اس حلقہ میں ضمنی انتخابات منعقد کروائے گئے تھے۔ چیف منسٹر پینارائی وجیئن نے نئی دہلی میں کہا کہ ایل ڈی ایف کے ووٹوں اور ووٹنگ کے فیصد میں اضافہ ہوا ہے۔ ضمنی انتخاب کا نتیجہ ریاستی حکومت کے خلاف فیصلہ نہیں ہے۔ مارکسیسی کمیونسٹ پارٹی کے بزرگ لیڈر وی ایس اچھوتانندن نے کہاکہ کنھالی کٹی کی کامیابی اور ووٹوں کی اکثریت ایک فطری امر ہے کیونکہ ملاپورم، آئی یو ایم ایل کا طاقتور گڑھ ہے۔ کنھالی کٹی حلقہ وینگارا کے رکن اسمبلی ہیں اور لوک سبھا کیلئے یہ ان کا پہلا مقابلہ تھا۔ کٹی نے جو سابق وزیرانفارمیشن ٹیکنالوجی و مصنوعات ہیں، اس استدلال کو مسترد کردیا کہ ان کی کامیابی دراصل اقلیتی ووٹوں کی شیرازہ بندی ہے۔ کنھالی کٹی نے کہا کہ ’’فرقہ وارانہ خطوط پر ووٹوں کی صف بندی نہیں ہوئی ہے۔ رائے دہندوں نے سیکولر سیاست کو ووٹ دیا ہے۔ عوام کا یہ فیصلہ مرکز میں بی جے پی حکومت کے لئے ایک دھکہ ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT