Sunday , March 26 2017
Home / شہر کی خبریں / حمایت ساگر و عثمان ساگر پر آج ایس او یو ایل کی عوامی سماعت

حمایت ساگر و عثمان ساگر پر آج ایس او یو ایل کی عوامی سماعت

نیشنل گرین ٹریبونل میں کل مقدمہ کی سنوائی ، محترمہ لبنیٰ ثروت کا بیان
حیدرآباد۔8فروری(سیاست نیوز)  حمایت ساگر و عثمان ساگر کے متعلق نیشنل گرین ٹریبونل میں جاری مقدمہ کی 10فروری کو سنوائی سے قبل 9فروری کو ایس او یو ایل کی جانب سے سوماجی گوڑہ پریس کلب میں عوامی سماعت اور گول میز کانفرنس منعقد ہوگی تاکہ نیشنل گرین ٹریبونل میں جاری مقدمہ کی سماعت سے قبل عوامی رائے حاصل کرتے ہوئے حکومت کی جانب سے حمایت ساگر و عثمان ساگرکی تباہی کے منصوبہ کو عوام کے سامنے پیش کیا جا سکے۔ کانفرنس میں شہر حیدرآباد کی تہذیب و تمدن کے علاوہ شہر کے تالابوں کے تحفظ کیلئے سرگرم نمائندے شرکت کریں گے علاوہ ازیں وہ گنڈی پیٹ کے تحفظ کیلئے حکمت عملی تیار کرنے میں اپنی رائے پیش کریں گے۔محترمہ لبنی ثروت نے بتایا کہ حمایت ساگر و عثمان ساگر کی تباہی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی کیونکہ یہ ذخائر آب نہ صرف تاریخی اہمیت کے حامل ہیں بلکہ شہر کے ماحولیاتی تحفظ میں بھی ان ذخائر آب کا اہم کردار ہے۔انہوں نے بتایا کہ دونوں ذخائر آب میں پانی پہنچنے کے راستوں کو مفقود کئے جانے کے مسئلہ کو حل کرنے کے بجائے حکومت کی جانب سے نیشنل گرین ٹریبونل کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ان ذخائر آب کی اب شہریان حیدرآبادکو ضرورت نہیں ہے اور دونوں شہروں کو کرشنا اور گوداوری سے پینے کے پانی کی سربراہی کی جا رہی ہے۔تالابوں کے تحفظ کیلئے سرگرم جہدکاروں کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے تالابوں کو بچانے کے اقدمات کے بجائے تالابوں کے پشتوں اور طاس پر موجود قابضین کے تحفظ کی کاروائی کی جا رہی ہیں اور یہ کہا جا رہا ہے کہ حمایت ساگر اور عثمان ساگر کو کرشنا و گوداوری کے پانی سے بھرا جاتا رہے گااور پائپ لائین کی تنصیب عمل میں لائی جائے گی ۔ان جہدکاروں نے سوال کیا کہ اتنی وسیع منصوبہ بندیوں کے بجائے اگر صرف پانی پہنچنے کے راستوں پر کئے گئے قبضہ جات برخواست کرنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو ایسی صورت میں حمایت ساگر و عثمان ساگر کی قدرتی اہمیت اور واٹر چیانلس باقی رہیں گے بصورت دیگر دونوں ذخائر آب تباہ ہوجائیں گے اور اطراف کئے گئے قبضہ جات میں مزید اضافہ ہوگا۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT