Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / حمایت ساگر و عثمان ساگر کے تحفظ کے لیے جی او 111 پر من و عن عمل آوری پر زور

حمایت ساگر و عثمان ساگر کے تحفظ کے لیے جی او 111 پر من و عن عمل آوری پر زور

احکام کی خلاف ورزی کرنے پر سخت کارروائی کا مطالبہ ، SOUL کی کانفرنس ، شرکاء کی رائے
حیدرآباد۔9۔فروری(سیاست نیوز) حمایت ساگر و عثمان ساگر کے تحفظ کیلئے یہ ضروری ہے کہ حکومت تلنگانہ کی جانب سے جی او 111پر من و عن عمل آوری یقینی بناتے ہوئے ان احکام کی خلاف ورزی کرنے والوں پر سخت کاروائی کی جائے۔ شہر حیدرآباد کو حمایت ساگر و عثمان ساگر سے پینے کے پانی کی سربراہی بند کردیئے جانے کے بعد ان ذخائر آب کو مکمل طور پر تباہ کرنے کی سازش کی جارہی ہے اس سازش کو کامیاب ہونے سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ عوام ان ذخائر آب کے تحفظ کیلئے مہم میں شامل ہو جائیں۔سوماجی گوڑہ پریس کلب میں SOULکی جانب سے منعقدہ گول میز کانفرنس میں کیپٹن جے راما راؤ‘ ڈاکٹر جیون آنند ریڈی‘ ڈاکٹر بابو راؤ‘ ساگر دھارا‘ مسٹر اومیم دیبرا‘ ڈاکٹر جسوین جئے رتھ‘ جناب یوسف علی جاوید‘ شری رگھو‘ مسٹر بی وی سبا راؤ‘ مسز اوشا‘ مسٹر بالا سوامی‘ مسٹر مئینک آلے‘ کے علاوہ ڈاکٹر لبنی ثروت نے شرکت کی ۔ دونوں شہروں کو جب تک ان ذخائر آب سے پانی کی سربراہی عمل میںلائی جاتی تھی اس وقت تک ان ذخائر آب کے متعلق فکر کی جاتی تھی لیکن اب جبکہ کرشنا اور گوداوری کا پانی پینے کیلئے سربراہ کیا جارہا ہے اورشہریان حیدرآباد کی جانب سے ان تالابوں کو نظر انداز کئے جانے کے سبب حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ اب ان ذخائر آب کی اہمیت باقی نہیں رہی اور ان ذخائر آب کے متعلق جو رپورٹ تیار کی جا رہی ہے وہ انہیں نقصان پہنچانے کے مترادف ہے۔ گول میز کانفرنس کے دوران حکومت کی جانب سے دونوں ذخائر آب کی تباہی کے منصوبوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے قرار دادیں پیش کی گئیں ۔ ان قرار دادوں میں حمایت ساگر و عثمان ساگر میں آلودگی پھیلانے والوں کے خلاف کاروائی کے مطالبہ کے علاوہ ذخائر آب کے طاس و پشتہ میں تعمیرات پر خاموشی اختیار کرنے والے عہدیداروں کے خلاف کاروائی کی قرار داد شامل ہے۔ کانفرنس کے دوران ان ذخائر آب میں پانی جمع ہونے کی راہوں پر کی گئی تعمیرات کی فوری برخواستگی کے علاوہ تالاب کو برقرار رکھنے کیلئے کئے جانے والے اقدامات سے عوام کو واقف کروایا جائے۔ شرکاء نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ حکومت کو حمایت ساگر و عثمان ساگر کے تحفظ کے متعلق اقدامات کو یقینی بناتے ہوئے عوام کو اعتماد میں لیا جانا چاہئے تاکہ شہریان حیدرآباد کو ان ذخائر آب سے آبی سربراہی کا سلسلہ جاری رہ سکے اور ان ذخائر آب کو تباہ ہونے سے بچانے میں حکومت کی سنجیدگی سے عوام واقف ہو سکیں۔ کانفرنس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ جی او 111کے حدود میں کسی بھی نئی تعمیر کو ہونے نہ دیا جائے اور فوری تعمیر کے مرتکبین کے خلاف کاروائی کی جائے۔

TOPPOPULARRECENT