Tuesday , September 26 2017
Home / عرب دنیا / حوثیوں نے بحران کے حل کیلئے مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی

حوثیوں نے بحران کے حل کیلئے مذاکرات کی پیشکش مسترد کردی

صنعاء۔ 11 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) یمن کی آئینی حکومت کے خلاف سرگرم حوثی باغیوں اور منحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کے حامیوں نے ملک میں جاری بحران کے حل کی خاطر کئے جانے والے مذاکرات کی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ کی سیاسی قیدیوں سے ملاقات کرانے سے انکار کر دیا ہے۔ صنعاء  میں ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ اقوام متحدہ کے امن مندوب ولد الشیخ نے حوثی باغیوں سے زیر حراست وزیر دفاع میجر جنرل محمود الصبیح، سرکردہ حکومتی رہنما اور سیاسی قیدیوں سے ملاقات کی درخواست کی تھی مگر باٰغیوں نے انہیں قیدیوں سے ملوانے سے انکار کر دیا۔ حوثی باغیوں اور علی عبداللہ صالح کے حامیوں کی جانب سے جنگ سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کاموں کی بحالی کے لیے کیے گئے تمام وعدے بھی ہوا میں تحلیل ہو گئے ہیں۔ باغیوں کی جانب سے یہ تعز شہر کا محاصرہ اٹھائے جانے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی مگر اس کے باوجود تعز میں 37 طبی مراکز میں ادویات نہیں پہنچائی جا سکی ہیں۔ شہر کی ناکہ بندی کے ساتھ ساتھ باغی شہری آبادیوں پر بمباری کررہے ہیں۔ پچھلے ایک سال میں حوثیوں کے راکٹ حملوں، توپ خانے سے کی گئی گولہ باری اور فائرنگ میں 5 ہزار شہری اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جب کہ 8 ہزار سے زخمی اور معذور ہوچکے ہیں۔ درایں اثناء محاذ جنگ سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اتحادی طیاروں نے تعز میں حوثیوں کے زیرقبضہ ثعبات کالونی پربمباری کی جس کے نتیجے میں متعدد باغی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ اتحادی طیاروں نے مشرقی صنعاء میں خشم البکرہ اور اِب شہر میں الحمزہ ملٹری کیمپ پر بھی بمباری کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT