Tuesday , September 26 2017
Home / آپ کے سوال / حوض کی لمبائی اور چوڑائی

حوض کی لمبائی اور چوڑائی

سوال :  ایک مسجد کا حوض انیس (19) ذراع لانبا ہے تو اس کی چوڑائی کتنی ہونی چاہئے تاکہ حوض کا پانی دہ در دہ ہوجائے ؟
نام ندارد
جواب :  صورت مسئول عنہا میں لانبائی انیس (19) ذراع ہے تو اس حوض کی چوڑائی ساڑھے پانچ ذراع رکھی جائے تو یہ حوض دہ در دہ ہوجائے گا۔ فتاوی تاتار خانیہ جلد اول ص : 169 میں ہے ۔ وعامۃ المشایخ أخذ وا بقول أبی سلیمان و قالوا اذا کان عشرا فی عشر فھو کثیر ، وفی شرح الطحاوی و علیہ الفتوی اور ص : 172 میں ہے ۔ ان کان عرضہ ذرا عایجب أن یکون طولہ مائۃ ذراع حتی یصیر فی معنی عشر فی عشر ، وان کان عرضہ ذرا عین یجب ان یکون طولہ خمسین ذراعا ۔ اور در مختار بر حاشیہ رد المحتار جلد اول ص : 142 میں ہے ۔ ولولہ طول لا عرض لکنہ یبلغ عشرا فی عشر جاز تیسرا اور ردالمحتار میں ہے (قولہ لکنہ یبلغ الخ) کان یکون طولہ خمسین و عرضہ ذرا عین مثلا فانہ لو ربع صار عشرا فی عشر۔

نماز عید کے بعد خطبہ سے قبل دعاء کرنا
سوال :  ہمارے محلہ کی مسجد کے امام صاحب نے نماز عید الاضحیٰ کے فوری بعد خطبہ پڑھنے کے بجائے دعاء کی جس کی وجہ سے لوگ بعد دعاء واپس ہوگئے پھر جب امام صاحب خطبہ شروع کئے تو واپس آئے۔ اس طرح بعد نماز عید مصلیوں میں انتشار ہوا۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ امام صاحب کا نماز کے فوری بعد دعاء کرنا پھر خطبہ پڑھنا شرعاً کیسا ہے ؟ اور کس طرح عمل کرنا چاہئے؟
محمد مبین، اے سی گارڈ
جواب :  نماز عید کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے عید کی نماز ہو اس کے فوری بعد خطبہ دیا جائے ۔ اگر نماز عید کے فوری بعد دعاء کی جائے بعد ازاں خطبہ ہو تو نماز عید ادا ہوجائیں گی۔ تاہم حیدرآباد دکن میں نماز عید کے بعد حسب قاعدہ خطبہ ہوتا ہے اور خطبہ کے بعد اجتماعی دعاء ہوتی ہے اور یہ عمل برسہا برس سے چلے آرہا ہے اور اہلیانِ دکن اسی طریقہ پر کاربند ہے۔ اگر مذکورہ طریقہ کے خلاف عمل ہو تو انتشار کا امکان لازمی طور پر ہوگا۔ اس لئے مذکورہ طریقہ کے مطابق ہی عمل کیا جائے، جو اسلامی طریقہ کے بالکل مطابق ہے تاکہ لوگوں میں کسی قسم کا شک اور الجھن باقی نہ رہے۔

عورت کی گواہی کب معتبر ہے
سوال :  گواہی کے لئے ایک مرد کی جگہ دو عورت چاہئے۔ یہ ہر گواہی کے لئے ہے یا کوئی ایک مسئلہ کیلئے مخصوص ہے جیسا کہ کسی کا خون ہوگیا اور صرف ایک عورت گواہ ہے ، کیا اس کی گواہی لائق قبول ہے یا دو عورتیں ہی چاہئے اور اگر کوئی ایک مسئلہ کے لئے دو عورتوں کی گواہی لازم ہے تو وہ کونسا مسئلہ ہے اور ایسا کیوں ہے ؟ مہربانی کر کے شریعت کی روشنی میں جواب دیجئے۔
ناضرہ مسکین، خلوت
جواب :   شریعت میں شہادتِ زنا کیلئے چار مرد اور باقی حدود شرعیہ جیسے ثبوت قتل ، کافر کا مسلمان ہونا اور مسلمان کا نعوذ باللہ مرتد ہونا دو مرد گواہوں سے ثابت ہوتے ہیں ان میں عورتوں کی گواہی معتبر نہیں۔ بچہ کا پیدا ہوتے وقت رونا ( نماز جنازہ پڑھنے کیلئے ) لڑکی کا باکرہ ہونا نیز عورتوں کے وہ عیوب جن پر مرد مطلع نہیں ہوسکتا ، یہ تمام امور صرف ایک عورت کی گواہی سے ثابت ہوجاتے ہیں۔  ان کے سوا باقی تمام حقوق چاہے مالی ہوں یا غیر مالی مثلاً نکاح، طلاق ، وکالت ، وصیت اور بچہ کا پیدا ہوتے وقت رونا (استحقاق وراثت کے لئے ) یہ تمام امور دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی سے ثابت ہوتے ہیں)۔

ماں کا ہبہ کرنے کے بعد آدھی قیمت لینا
سوال :  ایک ماں اپنے روپیوں سے پٹہ کا مکان خریدکر اپنی بیٹی کے شادی میں دی۔ مکان کا پٹہ بچی کے نام منتقل کر کے قبضہ میں دے دی۔ بچی تین سال سے مکان کا کرایہ وصول کرتی رہی۔ کچھ مجبوری کی بناء مکان فروخت کی۔ بچی کی ماں نے مکان کی آدھی رقم لڑکی سے وصول کرلی۔ کیا ایسا کرنا ٹھیک ہے ؟
(2  شوہر کی جائیداد میں بیوی اور بچوں کا حصہ بنتا ہے یا نہیں۔ نیز شوہر اپنی بیوی اور بچوں کی جائیداد میں حصہ طلب کرسکتا ہے یا نہیں ؟
خالد احمد، عطا پور
جواب :  لڑکی قبضہ سے مذکور السوال مکان کی مالکہ ہوگئی تھی اور اس کو فروخت کرنے کا کامل حق تھا۔ اس مکان میں ماں کا بحیثیت ملکیت کچھ حق نہ رہا۔ فروختگی کے بعد ماں کو آدھی قیمت طلب کرنے کا حق نہ تھا۔ تاہم ماں کے طلب کرنے پر بیٹی نے آدھی رقم ادا کردی ہے تو ماں اس رقم کی مالک ہوگئی۔
(2 صاحب جائیداد کی زندگی میں اس کی جائیداد میں کسی کا کوئی حق و حصہ نہیں کیونکہ وراثت کا حق بعد انتقال صاحب جائیداد ہوتا ہے، زندگی میں نہیں اس لئے کوئی بھی دوسرے کی زندگی میں اس کی جائیداد میں حصہ کا کسی قسم کا مطالبہ نہیں کرسکتا۔

وقف میں نیت کافی نہیں
سوال :   زید لاولد ہے، اس نے یہ نیت کی تھی کہ اپنی وفات کے بعد اپنی پوری جائیداد مسجد کے لئے وقف کردے گا لیکن اب اس کا یہ ارادہ ہے کہ مستحقین قرابتداروںکو دو حصے دے گا اور ایک حصہ مسجد کے لئے وقف کرے گا۔ ایسی صورت میں شرعاً کیا حکم ہے ؟
نام ندارد
جواب :  وقف میں محض نیت یا ارادہ کافی نہیں، بلکہ زبان سے الفاظ ادا کرنا ضروری ہے۔ در مختار برحاشیہ ردالمحتار جلد  3 ص : 393 میں ہے ۔ (ورکنہ الالفاظ المخصوصۃ ) ارضی ھذۃ (صدقۃ موقوفہ مؤبدۃ علی المساکین و نحوہ) من الألفاظ۔
فتاوی عالمگیری جلد 2 ص : 357 کتاب الوقف میں ہے ۔ اذا قال ارضی ھذہ صدقۃ محررۃ مؤبدۃ حال حیاتی و بعد وفاتی اوقال ھذہ صدقۃ موقوفۃ محبوسۃ مؤبدۃ اوقال حبیسۃ مؤبدۃ حال حیاتی و بعد وفاتی یصیر وقفا جائزا لازماً۔
پس صورت مسئول عنہا میں زید کو اپنی ملک میں ہر قسم کے تصرف کا حق ہے۔ وہ جس طرح چاہے وقف کرسکتا ہے۔

امام کے پیچھے مقتدی کا سورہ فاتحہ پڑھنا
سوال :  شاہ فہد قرآن کریم پرنٹنگ کامپلکس خادم  حرمین شریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے طبع کی گئی قرآن شریف میں لکھا گیا ہے کہ نماز جماعت کے ساتھ ادا کرنے والوں پر لازم ہے کہ وہ سورہ الحمد شریف ہر رکعت میں پڑھیں اورضم سورہ نہ پڑھیں۔ منفرد ہو یا امام یا امام کے پیچھے مقتدی سری نماز ہو یا جہری فرض نماز یا نفل یہ تو ٹھیک ہے لیکن باجماعت نماز میں بھی مقتدی امام کے پیچھے کھڑے ہوکر آہستہ سے الحمد شریف پڑھ کر خاموش ہوجائے، امام وہیں سورہ ختم کرنے کے بعد رکوع میں جائے۔ قرآن و حدیث کی رو سے یہ عمل صحیح ہے یا غلط خلاصہ فرمائیں تو عین نوازش ہوگی اور نماز کے صحیح ادا کرنے کی توفیق ہوگی۔
نام ندارد
جواب :  مذکورہ السؤل ترجمہ و تفسیر غیر حنفی مسلک کے عالم کی ہے اور احناف کے نزدیک بفحوائے ارشاد الہی : واذا قریٔ القرآن فاستمعوا لہ وانصتوا (اور جب قرآن مجید کی تلاوت کی جا ئے تو اس کو غور سے سنو اور خاموش رہو) امام قرآن مجید کی تلاوت کرے تو مقتدی کو خاموش رہنا اور غور سے سننے کا حکم ہے۔ البتہ دیگر ائمہ کے نزدیک امام کے پیچھے سورہ فاتحہ پڑھنے کا حکم ہے۔ ہر ایک کے دلائل کتب حدیث و فقہ میں بالتفصیل موجود ہیں۔

نماز فجر گھر میں ادا کرنا
سوال :  میں تجارت پیشہ ہوں رات میں دکان بند کر کے دس بجے گھر آتا ہوں اور سونے کے لئے مجھے عموماً دیر ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے میں فجر کی نماز گھر میں ادا کرتا ہوں تو کیا یہ جائز ہے ؟
محمد افروز خان ، گولکنڈہ
جواب :  اللہ تعالیٰ کے ارشاد ’’ و ارکعوا مع الراکعین ‘‘ یعنی (رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو) کے تحت بالغ مرد پر واجب ہے کہ وہ پانچ نمازیں حتی المقدور مسجد میں یا جماعت ادا کرے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’ منافقوں کے لئے سب سے بوجھل نماز عشاء اور فجر کی ہے اور اگر انہیں علم ہوتا کہ ان میں کس قدر اجر و ثواب ہے تو وہ ان کے لئے گھٹنوں کے بل چل کر آتے‘‘ (بخاری شریف)
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے جو شخص اذان سے اور پھر مسجد میں نماز ادا کرنے کے لئے نہ آئے تو اس کی نماز ہی نہیں ہوتی (ابن ماجہ) فقہاء نے اس حدیث کو تاکید جماعت پر محمول کیا ہے ۔ پس غیر عذر والے اصحاب کو مسجد میں نماز باجماعت ادا کرنا ہوگا اور بغیر عذر کے جماعت ترک کرنا درست نہیں۔

خواتین کیلئے عید کی نماز
سوال :  خواتین کیلئے عید کی نماز کا کیا طریقہ ہے۔ جس طرح مرد حضرات چھ زائد تکبیرات کے ساتھ عید کی نماز ادا کرتے ہیں ان کو اسی طرح کرنا چاہئے یا انکے لئے علحدہ حکم ہے ۔ پھر ان کو عید کی نماز کہاں ادا کرنا چاہئے ؟
بشریٰ فرحین، کشن باغ
جواب :  اہلسنت والجماعت کے پاس جمعہ اور عید کی نماز عورتوں پر واجب نہیں اس لئے جمعہ کے بدلے عورتوں کو اپنے گھروں میں ظہر کی نماز پڑھنا چاہئے اور عید کی نماز کے بدلے کوئی نماز نہیں۔ عورتوں پر جب عید کی نماز واجب ہی نہیں تو پڑھنے کا طریقہ یا کس مقام پر ادا کرنا چاہئے اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا جیسا کہ در مختار ج : 1 ، ص : 611 میں ہے (تجب صلوتھما علی من تجب علیہ الجمعۃ بشرائطھا) فتح القدیر ج : 2 ، ص : 22 باب صلوۃ الجمعۃ میں ہے ۔ ’’ ولو جوبھا شرائط فی المصلی الحریۃ والذکورۃ والاقامۃ والصحۃ و سلامۃ الرجلین و العینین‘‘۔

غیر والد کا نام ولدیت میں لکھا جائے تو …
سوال :  زید نے چودہ سال قبل ایک لڑکے کو گود لیا تھا وہ چونکہ سرکاری ملازم ہے اس لئے مصلحتاً ولدیت کی جگہ اس نے اپنا نام لکھوایا تھا، تاکہ آئندہ اس کا کچھ فائدہ ہوجائے۔ لیکن اب اس کے حقیقی والد اعتراض کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ سرکاری و غیر سرکاری کاغذات سے یہ نام نکال کر حقیقی والد کے نام کا اندراج کروایا جائے۔ اگر ایسا کیا جائے تو مذکورہ لڑکا سرکاری فوائد سے محروم ہوجائے گا۔ اس سلسلہ شرعی حکم مطلوب ہے۔
محمد وجاہت علی، ملے پلی
جواب : غیر کی اولاد کو اپنی اولاد بتانا شرعاً جائز نہیں ۔ اسلئے زید نے متنبی کے نام کے ساتھ اس کے حقیقی والد کے بجائے جو اپنا نام لکھوایا ہے وہ شرعاً گناہ ہے۔ اللہ سبحانہ کا ارشاد ہے۔ ادعوھم لابائھم ھواقسط عنداللہ …
اب مذکورہ درسوال سرکاری و غیر سرکاری کاغذات میں تبدیلی کرواکر حقیقی والد کا نام لکھوایا جاسکتا ہے اور یہ ممکن ہے تو ضرور ا یسا کیا جانا لازمی ہے۔ اور اگر اس میں کوئی دشواری ہو تو ہر موقع پر اس کا اظہار کردینا ضروری ہے کہ یہ لڑکا فلاں کا بیٹا ہے اور اس طرح غلط نام کا اندراج کروانے کی وجہ زید عنداللہ گنہگار ہوں گے، اس پر ان کو توبہ کرنا چاہئے

TOPPOPULARRECENT