Thursday , August 17 2017
Home / مضامین / حکمرانوں کا اڑیل رویہ

حکمرانوں کا اڑیل رویہ

کلدیپ نیر
گیتا نام کی گونگی بہری لڑکی کا اخبارات کے کالموں اور نیوز چینلوں سے غائب ہوجانا کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ۔ اس سے صرف ہند اور پاکستان کے درمیان عداوت کی گہرائی کا مظاہرہ ہوتا ہے ۔ اسلام آباد نے اس لڑکی کو واپس کرکے خیر سگالی کا اشارہ دیا تھا ۔ ہندوستان کو زیادہ مثبت اور معقول انداز میں اس کا جواب دینا چاہئے تھا لیکن اس کے بجائے ہمارا ردعمل پھیکا تھا ۔ دونوں ملکوں کے میڈیا نے جلد از جلد اس موضوع سے کنارہ کشی اختیار کرلی گویا کہ یہ کوئی قابل اجتناب بات ہو ۔
کوئی اور ملک ہوتا تو وہاں اس معاملے کے مثبت پہلو کو برآمد کرنے کے لئے اس کا تجزیہ در تجزیہ کیا جاتا ، یہاں تک کہ امریکہ اور کیوبا بھی اپنے محدود راستے کو اپنے مسائل حل کرنے کے لئے ایک موقع کے طور پر استعمال کرتے ۔ لیکن ہند اور پاکستان کے درمیان عداوت کی گرہ ایک دہے کے بعد گیتا کی واپسی کے باوجود نہیں کھل پارہی ہے ۔
ہند ۔ پاک روابط میں ایک نئے باب کا آغاز ہوجانا چاہئے تھا لیکن دور تک بھی اس کے آثار نہیں ۔ اصل مسئلہ ہندوستان کے ایک بڑے طبقے کا ہے جو ابھی تک ’’بھارت ماتا کے بٹوارے‘‘ کو بھول نہیں پائے ۔ پاکستان ایک حقیقت ہے وہ تقریباً 70 سال پہلے اس لئے وجود میں آیا کہ مسلمان اپنے لئے ایک ملک کے خواہاں تھے ۔ وہ یہ محسوس کرتے تھے کہ ہندو اکثریت ان پر حاوی رہے گی لیکن مسلم فرقے نے مولانا ابوالکلام آزاد کے اس انتباہ کو نظر انداز کردیا کہ مسلم ریاست کے قیام کے بعد ہندو زیادہ مستحکم ہوجائیں گے ۔ ملک کے تقسیم نہ ہونے کی ان کی خواہش ملک کے بیشتر حصوں میں پائے جانے والے نفرت و حقارت کے رجحان سے مختلف ہے ۔
یاد رہے کہ لاہور میں جہاں وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی بس لے کر گئے تھے ، اپنی تقریر میں کہا تھا کہ پاکستان اپنے آپ میں ایک حقیقت ہے اور اسے کسی خارجی اعتراف کی ضرورت نہیں ہے ۔ ان کے الفاظ نے ان پاکستانیوں کے لئے مرہم کا کام کیا جو اب بھی یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہندوستان نے اسے تسلیم نہیں کیا ہے ، میں اس شہری استقبالیہ میں موجود تھا ۔ واجپائی کے الفاظ پاکستانیوں کو اتنے اچھے لگے کہ ان میں سے ایک صاحب نے جو میرے دوست تھے ، نواز شریف سے یہ کہنے کی مجھ سے درخواست کی کہ وہ کوئی تقریر نہ کریں کیونکہ وہ واجپائی جیسی بلندیوں کو نہیں چھوسکتے ۔
گیتا کی واپسی ہندوستان اور پاکستان دونوں کے لئے باہمی روابط کی ڈور کو اس جگہ سے جوڑنے کا ایک موقع ہے ، جہاں پر انہوں نے اوفا (روس) میں چھوڑا تھا ۔ دونوں نے مشترکہ طور پر دہشت گردی سے نمٹنے پر اتفاق کیا تھا ۔ صرف دہشت گردی پر گفتگو کرنے پر ہندوستان کا اصرار معاہدے کے الفاظ سے تو مطابقت رکھتا ہے ، اس کی روح سے نہیں۔ پاکستان کے مطابق دہشت گردی کی وجہ مسئلہ کشمیر کو حل نہ کرنا ہے ۔ اسلام آباد نے اس وقت کشمیر کا ذکر چھیڑ کر غلطی کی ۔ اسے دہشت گردی پر گفتگو سے اتفاق کرتے ہوئے اس عنوان سے کشمیر کو بیچ میں لانا چاہئے تھا کہ جب تک کشمیر پر بحث نہیں کی جائے گی دہشت گردی کو روکا نہیں جاسکتا ۔ ہند ۔ پاک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے دوران ایک ہی ہوٹل میں مقیم رہنے کے باوجود دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم کے ایک دوسرے کا سامنا کرنے سے کترانے کا عمل بڑا ہی بچکانہ ہے ۔ دونوں طرف کے وفد نے یہ کوشش ضرور کی ہوگی کہ وہ دونوں ملنے نہ پائیں ۔ ایک موقع ایسا آیا جب دونوں باہم ٹکراگئے ، لیکن اس وقت ایک دوسرے کو پہچان کر اتنی دوری پر رہتے ہوئے کہ سرگوشی سنی جاسکے ، ہاتھ ہلانے کے سوا کچھ نہ کرسکے ، کم از کم انہوں نے سنجیدگی کا تھوڑا ہی سہی مظاہرہ تو کیا ۔ سابق وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی اکثر کہا کرتے تھے کہ آپ اپنے دوستوں کو تو بدل سکتے ہیں ، ہمسایوں کو نہیں ۔ جب ان کی پارٹی بی جے پی نے پاکستان سے کوئی تعلق رکھنے کی شدت سے مخالفت کی تب بھی انہوں نے خاموشی توڑنے میں پہل کی ۔ انہوں نے آگرہ میں جنرل مشرف کے ساتھ اپنی ملاقات کا انتظام کرایا ۔ واجپائی چاہتے تھے کہ دونوں ملکوں کے درمیان عداوت کو ختم کیا جائے ۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ کسی پیش رفت میں ناکام رہے ۔ کہا جاتا ہے کہ موجودہ وزیر خارجہ سشما سوراج نے پوری رات بیٹھ کر دونوں ممالک کے خارجہ سکریٹریوں کے وضع کردہ فارمولے پر اعتراض کیا تھا ۔
موجودہ صورتحال پیچیدہ سے پیچیدہ تر ہوتی جارہی ہے ۔ دونوں ملک ایک دوسرے سے بات چیت نہ کرنے کے باوجود عزم رکھتے ہیں کہ وہ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ ان کے درمیان مذاکرات عقبی ذرائع کی مدد سے ہی ہوپائیں گے ، لیکن ایسی کوئی بات ہو نہیں رہی ہے ، جس سے یہ ظاہر ہو کہ حالات بہتر ہورہے ہیں ۔ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں اضافہ ہوگیا ہے اور حصول اسلحہ کی کوششوں میں کوئی کمی نہیں آتی ہے ۔ وزیراعظم نواز شریف نے امریکہ میں ہندوستان پر مزید اسلحے خریدنے کا الزام لگاتے ہوئے ایسا کرنے کے لئے اپنے ملک کا دفاع کیا ہے ۔ دونوں طرف کے اداروں کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ وہ اپنے مالی وسائل کا رخ ترقی سے دفاع کی طرف پھیر کر اپنے عوام کو اسکولوں ، نگہداشت ، محنت کے مراکز اور پنچایت گھروں سے محروم کررہے ہیں ۔یہاں تک کہ بم سازی کا کوئی سامان خریدنا بھی ان کی اقتصادی پسماندگی میں اضافہ کرے گا اور اس سے عام آدمی کی زندگی کی بہتری میں کوئی مدد نہیں ملے گی ۔
اگر گیتا کی واپسی کا واقعہ رجحان میں تبدیلی لاسکے تو یہ معجزہ ہی ہوگا ، ورنہ دونوں ممالک افلاس کی دلدل میں دھنستے جائیں گے ۔ انتخاب کرو یا مرو کے درمیان نہیں بلکہ معاش اور بقا کے درمیان ہے ۔ دونوں ملک اپنی روایتی دشمنی پر اڑے ہوئے ہیں ۔ عداوت و اسلحے کے شیطانی چکر کے توڑنے کا انحصار وزیراعظم نریندر مودی اور نواز شریف پر ہے ، امکانات روشن نہیں بلکہ مدھم ہیں لیکن گیتا کے واقعہ نے خیرسگالی کا ماحول پیدا کیا ہے  ۔تاہم بعض غیر ذمہ دارانہ تبصروں سے اس ماحول میں بے کیفی بھی آئی ہے ۔ ایک پاکستانی معروف شخصیت نے کہا کہ ہندوستان کو چاہئے کہ اس کی جیلوں میں پڑے ہوئے پاکستانیوں کو وہ واپس کردے۔ ایک اور صاحب نے یہ رائے ظاہر کی کہ ہندوستان میں مقیم گیتا جیسے افراد پاکستان کو واپس دے دئے جائیں ۔
ایسے افراد کو یہ سمجھنا چاہئے کہ گیتا قیدی نہیں اور وہ اپنے وطن واپس آئی ہے ۔ بحث و تکرار کے ہجوم میں 15 سال ضائع ہوگئے ۔ دونوں ملک لایعنی موقف پر 70 سال تک اڑے رہے ہیں ۔ یہ محسوس کرنے کا وقت آگیا ہے کہ دونوں طرف کے عوام عداوت کا خمیازہ بھگت رہے ہیں اور وہ یونہی پسماندہ رہیں گے ، وہ تو بہتر سلوک کے مستحق ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT