Monday , April 24 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت، 800 ایکر وقف اراضی کو بورڈ کے حوالے کرنے تیار نہیں!

حکومت، 800 ایکر وقف اراضی کو بورڈ کے حوالے کرنے تیار نہیں!

سپریم کورٹ میں 21فبروری کو سماعت کے دوران اراضی پر اپنا دعویٰ سے دستبردارہونے کا امکان کم

حیدرآباد ۔ 15 ۔  فروری (سیاست نیوز) درگاہ حضرت حسین شاہ ولیؒ 1,654 ایکر اراضی کے سلسلہ میں حکومت کے موقف کو لیکر عہدیداروں میں تجسس پایا جاتا ہے ۔ اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں چیف منسٹر نے منی کنڈہ کی 800 ایکر کھلی اراضی وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا تیقن دیا تھا ۔ اب جبکہ 21 فروری کو سپریم کورٹ میں اس مقدمہ کی اہم سماعت مقرر ہے، چیف منسٹر کے دفتر سے منی کنڈہ اراضی کے بارے میں رپورٹ طلب کی گئی ہے ۔ یہ رپورٹ محکمہ اقلیتی بہبود یا وقف بورڈ سے نہیں بلکہ ضلع کلکٹر رنگا ریڈی سے طلب کی گئی۔ چیف منسٹر کے دفتر نے رپورٹ کی طلبی کے بارے میں محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو کوئی اطلاع نہیں دی جس سے امکان ہے کہ 21 فروری کو حکومت منی کنڈہ اراضی پر اپنی دعویداری دوبارہ پیش کرے گی۔ حالانکہ اس کے وقف ہونے کے بارے میں مکمل دستاویزی ثبوت موجود ہیں۔ چیف منسٹر اگر اراضی کو وقف بورڈ کے حوالے کرنا چاہیں تو سپریم کورٹ میں حلفنامہ داخل کرتے ہوئے اپنی دعویداری واپس لی جاسکتی ہے ۔ تازہ تبدیلیوں کو دیکھتے ہوئے عہدیداروں کو اندیشہ ہے کہ محکمہ مال اور دیگر متعلقہ محکمہ جات سپریم کورٹ میں اراضی پر اپنی دلیل پیش کریں گے۔ ایک طرف محکمہ ا قلیتی بہبود کے عہدیداروں کو امید تھی کہ چیف منسٹر اپنے وعدہ کی تکمیل کرتے ہوئے مکمل اراضی وقف بورڈ کے حوالے کریں گے لیکن ضلع کلکٹر رنگا ریڈی سے رپورٹ طلب کرنے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت اس مقدمہ کو شدت کے ساتھ لڑنا چاہتی ہے۔ ضلع کلکٹر رنگا ریڈی کی رپورٹ میں یقینی طور پر اس اراضی کو سرکاری پیش کیا جائے گا۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے نامور قانون داں فالی ایس نریمن کی جانب سے فیس میں اضافہ کی اطلاع دیئے جانے کے بعد فیصلہ کیا تھا کہ حکومت کے موقف کو دیکھتے ہوئے مذکورہ وکیل کی خدمات حاصل کرنے پر غور کیا جائے گا ۔ اگر حکومت سپریم کورٹ میں وقف بورڈ کے حق میں حلف نامہ داخل کرنے کی تیاری کر رہی ہے تو فالی ایس نر یمن کے بجائے کسی اور وکیل کو مقرر کیا جائے گا۔ اگر حکومت اراضی پر اپنی دعویداری برقرار رکھے گی تو ایک دن کے 35 لاکھ روپئے کی فیس کے حساب سے کم سے کم 3 دن نریمن کی خدمات حاصل کرنی پڑیں گی۔ اوقافی اراضی کے بارے میں کلکٹر رنگا ریڈی سے رپورٹ طلب کرنا اور محکمہ اقلیتی بہبود کو اس معاملہ میں تاریکی میں رکھنا حکومت کے عزائم کو ظاہر کرتا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT