Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / حکومتوں کو قاتلوں جیسا عمل نہیں کرنا چاہئیے : ششی تھرور

حکومتوں کو قاتلوں جیسا عمل نہیں کرنا چاہئیے : ششی تھرور

’’حکومت کی سرپرستی میں ہلاکتیں ہمیں بھی قاتلوں کی سطح تک گھٹا دیتی ہیں ، سزائے موت متروک اور فرسودہ عمل ‘‘

تھرواننتاپورم ۔ /2 اگست (سیاست ڈاٹ کام) یعقوب میمن کو پھانسی پر لٹکائے جانے کے بعد کئے جانے والے اپنے ٹوئیٹر پیغام پر تنقیدوں کے شکار کانگریس رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے آج پھر اپنے موقف کا اعادہ کیا ۔ انہوں نے حتی کہ کسی دہشت گرد کو بھی پھانسی دینے کی سخت مخالفت برقرار رکھتے ہوئے کہا کہ مملکتوں / حکومتوں کو قاتلوں کی طرح کام نہیں کرنا چاہئیے اور یہ کہ فوجداری نظام انصاف میں بھی خامی ‘ نقائص اور جانبداری کے کئی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں ۔

سابق مرکزی وزیر ششی تھرور نے کہا کہ ’’دہشت گردوں کو پیرول کے بغیر تاحیات سلاخوں کے پیچھے رکھا جانا چاہئیے ۔ ابتدائی زمانوں میں یہ رواج تھا کہ کسی کو قتل کرنے والا کا قتل کردیا جانا چاہئیے ۔ ہمیں یہ فرسودہ اور متروک طریقہ کار پر کیوں عمل کرنا چاہئیے ‘‘ ششی تھرور نے کہا کہ ’’ جب ہم کسی کو سزائے موت دیتے ہیں تو ہم بھی دراصل اسی (مجرم) کے انداز پر عمل کرتے ہیں ۔ وہ (مجرمین) تو قاتل ہیں لیکن حکومتوں کو ان کے عمل کی تقلید نہیں کرنا چاہئیے ‘‘ ۔ ممبئی دھماکوں کے ایک مجرم یعقوب میمن کو پھانسی پر لٹکائے جانے پر کئے گئے ان کے ٹوئیٹر پیغام پر پیدا شدہ تنازعہ کے بارے میں ششی تھرور نے کہا کہ ’’ میں نے یعقوب میمن کیس کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں کہا ۔ میں نے جو ٹوئیٹ کیا تھا وہ کسی فرد واحد کے انفرادی مقدمہ کے بارے میں نہیں تھا کیونکہ مقدمہ کے بارے میں فیصلہ کرنا تو سپریم کورٹ کا کام ہے ۔ میں نے صرف سزائے موت کی مخالفت کی تھی جو ایک متروک اور غیر مروجہ عمل ہے ‘‘ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون بھی کہہ چکے ہیں کہ ہمیں کسی کی جان لینے کا حق نہیں ہے ۔ حلقہ تھرواننتا پورم کی نمائندگی کرنے والے کانگریس رکن پارلیمنٹ تھرور نے مزید کہا کہ نہ صرف میں بلکہ بشمول سیتا رام یچوری‘ ڈی راجہ ‘ کنی موزھی ، شتروگھن سنہا اور ورون گاندھی کئی قائدین بھی سزائے موت کی مخالفت کرتے ہوئے اس کی برخاستگی کی تائید کرچکے ہیں ۔

ششی تھرور نے جو اقوام متحدہ کے سابق نائب سکریٹری جنرل بھی ہیں کہا کہ ’’ دنیا بھر کے 143 ممالک پہلے ہی سزائے موت برخاست کرچکے ہیں ۔ دیگر 25 ممالک اس سزاء پر عمل آوری سے گریز کررہے ہیں اگرچہ وہاں یہ قانون بدستور برقرار ہے ۔ دنیا میںفی الحال صرف 35 ممالک ہی سزائے موت پر عمل کررہے ہیں۔چنانچہ ہمارا ملک سزائے موت کی برخاستگی کی پالیسی پر عمل کیوں نہیں کرتا ؟ ‘‘ششی تھرور نے قبل ازیں یہ کہتے ہوئے بی جے پی قائدین کو برآینگختہ کردیا تھا کہ انہیں اس خبر پر سخت افسوس ہوا کہ ’’ ہماری حکومت نے ایک انسان کو پھانسی پر لٹکادیا ہے حکومت کے زیر سرپرستی ہلاکت ہمیں بھی قاتلوں کی سطح تک گھٹادیتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT