Friday , September 22 2017
Home / ہندوستان / حکومتی اسکیمات سے استفادہ کیلئے مسلم قیادت کا مؤثر رول ناگزیر

حکومتی اسکیمات سے استفادہ کیلئے مسلم قیادت کا مؤثر رول ناگزیر

مسلمانوں کو تعلیمی اور دیگر شعبوں میں بہتری کیلئے وزیراعظم مودی کی خصوصی دلچسپی، صدرنشین اقلیتی کمیشن غیورالحسن رضوی کا ادعا

ممبئی16ستمبر(سیاست ڈاٹ کام) قومی اقلیتی کمیشن کے چیرمین غیورالحسن رضوی نے مسلمانوں کو مخاطب کرکے کہا ہے کہ تعلیم کے بغیر ان کی ترقی ممکن نہیں ہے اور دعویٰ کیا کہ وزیراعظم نریندرمودی مسلمانوں کی تعلیمی ،معاشی اور سماجی ترقی کے لیے خصوصی دلچسپی لے رہے ہیںلیکن اقلیتی فرقے کو بھی اس جانب توجہ دینا چاہئے کیونکہ ان کی لیڈرشپ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے تحت مختلف اسکیمیں ان تک پہنچانے میں ناکام رہی ہیں۔چیرمین نے ممبئی کے دورے کے موقع پر ان خیالات کا اظہار کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی کی حکومت اقلیتی فرقہ کی ترقی اورفلاح وبہود کے لئے کوشاں ہے ، اس لئے مسلمانوں کوکسی بھی فکرمندی کے بغیرآگے بڑھنا چاہئے اور اب وقت آگیا ہے کہ وہ بی جے پی سے دوری کم کریں اور اس سے خوفزدہ نہ ہوں بلکہ پارٹی کے قریب آئیں اور انہیں درپیش مسائل حل کرنے کی کوشش کی جائے ۔غیورالحسن رضوی نے کہا کہ گزشتہ تین ماہ میں ان کی کوشش رہی ہے کہ وہ اقلیتوں کو درپیش مسائل کا جائزہ لیں اور انہیں بہتر طورپر حل کرنے کی کوشش کریں کیونکہ موجودہ حکومت اقلیتی فرقے کے مسائل حل کرنے اور ان کے لئے جاری اسکیموں کو بھرپورانداز میں نافد کرنے کی پالیسی اختیار کرچکی ہے ۔انہوں نے مسلم لیڈر شپ پر الزام عائد کیاکہ وہ اپنے لوگوں اور خصوصی طورپرمسلم نوجوانوں تک ان اسکیموں اور منصوبوں کو پہنچانے میں ناکام رہی ہے ۔انھوں نے کہاکہ وزیراعظم مودی مسلمانوں کے مسائل حل کرنے اور انہیں تعلیم ودیگر شعبوں میں بہتر سے بہتر سہولیات دلانے میں دلچسپی لے رہے ہیں ۔بس ہمیں اب ضروری ہے کہ ہزاروں کروڑوں روپے جو اقلیتوں کے لئے جاری کیے جاتے ہیں ،انہیں اس کی بہتری کے لئے استعمال کیا جائے ۔اور وہ یقین دلاتے ہیں کہ ان کی جانب سے ملت کے لئے ان سے جوکچھ بھی ہوسکے گا ،اسے بھر پور انداز میں کرنے کی کوشش کریں گے ۔ممبئی کے مسلم ادارہ اسماعیل یوسف کالج کی سینکڑوں ایکٹر قطعہ اراضی کو ملت کے واپس کرنے کے مطالبہ پر انہوں نے یقین دلایا کہ وہ اعلیٰ لیڈرشپ کے سامنے یہ مسئلہ موثر انداز میں اٹھائیں گے بلکہ ان کی کوشش ہوگی کہ وزیراعظم نریندرمودی سے بھی اس بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے اور اس بارے میں ریاستی حکومت کے روبرومسئلہ پیش کرنے میں پہل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان اپنی گنگاجمنی تہذیب کے لیے مشہور ہے اوران کی کوشش ہوگی کہ زمینی سطح سے جڑے لوگوں کو آگے بڑھایا جائے ۔ اسماعیل کالج،مہاراشٹر اقلیتی کمیشن ، مولانا آزادمالیاتی کارپوریشن اور اردوساہتیہ اکیڈمی کے صدورنشین کی جلد از جلد تقرری کے بارے میں کوشش کا انہوں نے وعدہ کیا کہ ان خالی عہدوں کو پُرکرنے کے نتیجے میں اقلیتوں کواحساس ہوگاکہ ان کی بہتری کے لئے حکومت کام کررہی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT