Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت آندھراپردیش پر حیدرآباد کے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کا الزام

حکومت آندھراپردیش پر حیدرآباد کے ماحول کو بگاڑنے کی کوشش کا الزام

اے پی اسمبلی میں تنظیم جدید ریاست کے سیکشن 8 کے حق میں قرارداد کی منظوری پر ٹی آر ایس کا ردعمل
حیدرآباد۔/18مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ راشٹرا سمیتی نے آندھرا پردیش اسمبلی میں آندھرا پردیش تنظیم جدید قانون کے سیکشن 8 کے حق میں قرارداد کی منظوری پر شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ رکن اسمبلی بالراجو نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے آندھرا پردیش اسمبلی کی قرارداد کو چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو کی سازش کا حصہ قراردیا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ اس قرارداد کے ذریعہ آندھرا پردیش حکومت حیدرآباد میں ماحول بگاڑنے کی کوشش کررہی ہے۔ تلنگانہ حکومت کی تشکیل کے بعد سے شہر میں پُرامن ماحول ہے اور آندھرائی عوام بھی مطمئن اور خوشحال زندگی بسر کررہے ہیں لیکن چندرا بابو نائیڈو نے ایک منظم سازش کے تحت قرارداد منظور کی اور حیدرآباد میں لاء اینڈ آرڈر کے مسئلہ پر گورنر کی مداخلت کی اپیل کی۔ واضح رہے کہ اس سیکشن کے تحت حیدرآباد میں 10برسوں تک امن و ضبط کی صورتحال پر گورنر کو مکمل اختیار رہے گا۔ ٹی آر ایس کا کہنا ہے کہ آندھرائی عوام کے خلاف تعصب کا ایک بھی واقعہ پیش نہیں آیا اور گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن انتخابات میں ٹی آر ایس کو آندھرائی عوام کی تائید اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت کی کارکردگی سے وہ مطمئن ہیں۔ بالراجو نے کہا کہ صرف چندرا بابو نائیڈو کو شہر کی امن و ضبط کی صورتحال پر بھروسہ نہیں ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ گورنر اس معاملہ پر کارروائی کریں۔ آندھرا پردیش اسمبلی میں 17قراردادیں منظور کی گئیں جن میں سیکشن 8کے متعلق قرارداد بھی شامل ہے۔ آندھرا پردیش حکومت نے حیدرآباد میں سیکشن 8پر عمل آوری کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹی آر ایس رکن اسمبلی نے کہا کہ حیدرآباد پر کنٹرول حاصل کرنے کیلئے اس طرح کی سازش کی گئی ہے تاکہ تلنگانہ حکومت کیلئے مسائل پیدا کئے جاسکیں۔ انہوں نے کہا کہ گورنر نے مرکزی حکومت کو روانہ کردہ کئی رپورٹس میں حیدرآباد کے امن و ضبط کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ ٹی آر ایس نے سیکشن 8 پر آندھرا پردیش حکومت کی جانب سے پیدا کردہ نئے تنازعہ پر شدید اعتراض کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT