Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت اقلیتی تعلیمی ادارہ جات میں مداخلت کی خواہاں

حکومت اقلیتی تعلیمی ادارہ جات میں مداخلت کی خواہاں

سنسکرت کو بول چال کی زبان کی حیثیت سے فروغ کی کوشش ، 25 فیصد مفت تعلیم سے کوئی بھی ادارہ مستثنیٰ نہیں : آرٹی آئی
حیدرآباد۔17جون (سیاست نیوز ) قانون حق تعلیم کے تحت 25فیصد غریب طلبہ کو اسکولوں میں مفت داخلوں کی فراہمی سے کسی کو مستثنی نہیں رکھا گیا ہے بلکہ تمام اسکولوں کے انتظامیہ کو قانون حق تعلیم کے تحت سطح غربت سے نیچے زندگی گزار رہے 25فیصد طلبہ کو داخلے فراہم کرنے چاہئے ایسا نہ کرنے پر ان کے خلاف کاروائی کی جا سکتی ہے۔ ملک کی تمام ریاستوں میں قانون حق تعلیم پر مؤثر عمل آوری کو یقینی بنانے کیلئے مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل کو پیش کردہ رپورٹ کے بموجب کسی بھی اسکول انتظامیہ کو آرٹی ای کے داخلوں سے مستثنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اس سلسلہ میں موصولہ رپورٹ پر تاحال وزارت فروغ انسانی وسائل کی جانب سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا بلکہ اس رپورٹ پر ملک کی تمام ریاستوں سے مشاورت کی تکمیل تک وزارت فروغ انسانی وسائل کی جانب کسی قسم کا فیصلہ نہ کئے جانے کا امکان ہے۔ مذکورہ رپورٹ میں سنسکرت کو بول چال کی زبان کے طور پر اختیار کرنے اور پڑھانے کیلئے اقدامات کی بھی سفارش کی گئی ہے۔ بتایا جا تا ہے کہ ملک میں قدیم روایتی تہذیب کو زندہ کرنے کیلئے سنسکرت کو اختیاری بول چال کی زبان کے طور پر فروغ دینے کی سفارش کی گئی ہے۔ 2014میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے اقتدار میں آتے ہی تعلیم کے بھگواکرن کی بات شروع کی گئی تھی اور اب اس رپورٹ کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عملی طور پر نصاب و تعلیمی ادارۂ جات کے اختیارات پر کاری ضرب لگائی جانے لگی ہے۔ قانون حق تعلیم کے تحت 25فیصد مفت داخلوں کی فراہمی سے فی الحال اقلیتی تعلیمی ادارۂ جات کو استثنی حاصل ہے ۔ مرکزی وزارت فروغ انسانی وسائل کی جانب سے اگر مذکورہ رپورٹ پر عمل آوری کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں اقلیتی موقف کے حامل تعلیمی اداروں میں مداخلت بیجا تصورکی جائے گی۔ رپورٹ میں یکم تا پنجم جماعت سنسکرت کو لازمی قرار دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے 6ویں جماعت سے زبان دوم کے طریقۂ کار کو رائج کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔مرکزی حکومت کو پیش کردہ ان سفارشات کا جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ با لواسطہ طور پر ہی سہی حکومت اقلیتی تعلیمی ادارۂ جات میں مداخلت کیلئے کوشاں ہے۔ اسی طرح تہذیب کے نام پر سنسکرت کو بول چال کی زبان کے طور پر فروغ دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT