Saturday , July 22 2017
Home / ہندوستان / حکومت امرناتھ یاترا کے حفاظتی انتظامات سے مطمئن

حکومت امرناتھ یاترا کے حفاظتی انتظامات سے مطمئن

مرکزی وزیر ہنس راج اہیر کا بیان، حفاظتی انتظامات میں شدت ، صیانتی محکموں کا اجلاس
سری نگر۔12 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) مرکز امرناتھ یاترا کے حفاظتی انتظامات سے مطمئن ہے۔ کیوں کہ مزید کئی اقدامات حالیہ دہشت گرد حملے کے پس منظر میں کیئے گئے ہیں۔ امرناتھ یاترا پر اس دہشت گرد حملے سے 7 یاتری ہلاک ہوچکے ہیں۔ اہیر نے کہا کہ کئی اقدامات یاتریوں کے بلارکاوٹ اپنے فرض کی انجام دہی کے لیے مرکز کی جانب سے کیئے جاچکے ہیں۔ حالیہ دہشت گرد حملے کے پس منظر میں یہ اقدامات کئے گئے ہیں۔ نیم فوجی فورسس کی طلایہ گردی میں توسیع کردی گئی ہے۔ ’’یاترا کی‘‘ ہر گاڑی کی تلاشی لی جارہی ہے۔ رجسٹریشن کے بغیر کسی بھی گاڑی کو چلنے کی اجازت نہیں ہے۔ ڈرائیوروں کو بھی ایک نوٹ دیا جائے گا جس میں تحریر ہوگا کہ اگر گاڑی خراب ہوجائے یا اس کو کچھ ہوجائے تو قریبی پوائنٹ پر ٹیلی فون کے ذریعہ اس کی اطلاع دی جانی چاہئے۔ مرکزی وزیر مملکت برائے داخلہ نے کہا کہ ہمیں یہ جان کر اطمینان ہوا کہ مزید صیانتی اقدامات کیئے جارہے ہیں تاکہ آئندہ اس قسم کے حملوں کا انسداد ہوسکے۔ ہم صیانتی محکموں کو بھرپور تائید کا تیقن دیتے ہیں۔ انتظامات دیکھنے کے بعد ہمیں اطمینان ہوگیا ہے۔ وہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ وزیراعظم کے دفتر میں مرکزی وزیر مملک جتیندر سنگھ اہیر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں شریک تھے۔ اہیر نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کل دو وزراء کو کشمیر کا دورہ کرنے کی ہدایت دی ہے۔ ہم گورنر اور چیف منسٹر سے ملے ان کے ساتھ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ صیانتی انتظامات کا گہرائی سے جائزہ لیا۔ فوج، پولیس، سی آر پی ایف، بی ایس ایف اور دیگر صیانتی محکموں کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ متعدد مساعی پر بشمول یاترا کے لیے حفاظتی انتظامات میں شدت پیدا کرنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ مرکزی و ریاستی حکومتیں امرناتھ یاترا کی حفاظت کے لیے باہم تعاون کررہی ہیں۔ دہشت گردی کے سائے امرناتھ یاترا کی صیانت پر پڑھ رہے ہیں۔ گزشتہ تین سال سے اس کا سلسلہ جاری ہے اور ہر سال حفاظتی انتظامات کئے جاتے ہیں۔ ریاستی پولیس اور دیگر صیانتی محکمے صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں۔ کوتاہیوں کو دور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سے یاتریوں کی بسیں روانہ ہوتی ہیں وہاں پر ایک کیمپ قائم کیا گیا ہے۔ یاتیروں کے چہروں پر جوش واور اعتماد دیکھا جارہا ہے۔ انہیں کوئی خوف نہیں ہے کیوں کہ کافی حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں اور ضرورت پڑنے پر ان میں مزدی اضافہ کیا جاسکتا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT