Tuesday , May 23 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت اور آر بی آئی کی نئی حکمت عملی سے عوام اور تاجرین کو مشکلات

حکومت اور آر بی آئی کی نئی حکمت عملی سے عوام اور تاجرین کو مشکلات

بینک کاری نظام پر منفی اثر ، عوام کا رقومات جمع کروانے سے گریز ، ٹھوک تاجرین رقم وصول کرنے پر مجبور
حیدرآباد۔14اپریل (سیاست نیوز) ملک میں بینک کاری نظام ٹھپ ہوجائے گا؟ بینکوں میں تاجرین کی جانب سے رقومات نہ جمع کروائے جانے کے کیا نتائج برآمد ہو سکتے ہیں ؟ کیا کرنسی تنسیخ کے بعد الکٹرانک ادائیگی کے فروغ میں حکومت کو کامیابی ملی ہے؟ یہ ایسے سوال ہیں جن کے جواب ملنا ابھی تک مشکل نظر آرہا ہے لیکن حکومت اور ریزرو بینک آف انڈیا کی جانب سے اختیار کردہ حکمت عملی کو دیکھتے ہوئے ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ حکومت عوام تک کرنسی نوٹ پہنچنے سے روکتے ہوئے انہیں الکٹرانک ادائیگی ووصولی کیلئے مجبور کرنے کی حکمت عملی اختیار کئے ہوئے ہے اور اس حکمت عملی میں حکومت کو بڑی حد تک کامیابی حاصل ہونے لگی ہے لیکن حکومت کو حاصل ہونے والی اس کامیابی کے نقصانات ان چھوٹے تاجرین کو برداشت کرنے پڑ رہے ہیں جن کے پاس نقد ادائیگی و وصولی کے علاوہ دوسرا کوئی چارہ نہیں ہے لیکن ادائیگی کرنے والا ضرورت مند ان مقامات کا رخ کرنے لگا ہے جہاں الکٹرانک وصولی کا نظم موجود ہے۔ بینکوں اور اے ٹی ایم میں نقد نہ ہونے کے نتیجہ میں ادائیگی کرنے والوں میں یہ رجحان دیکھا جانے لگا ہے کہ وہ ان دکانات کا رخ کر رہے ہیں جن دکانات میں کارڈ یا الکٹرانک وصولی کا انتظام ہے ۔ عوام میں تیزی سے فروغ پا رہے اس نظام کے سبب چھوٹے تاجرین بالخصوص ٹھیلہ بنڈی رانوں اور فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے والوں کو مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ نئے شہر کے کچھ علاقو ںمیں ترکاری فروشوں اور فٹ پاتھ تاجرین نے کارڈ مشینوں کا استعمال شروع کردیا ہے یا وہ الکٹرانک ادائیگی قبول کرنے لگے ہیں کیونکہ نقد کی عدم موجودگی کے سبب عوام کو الکٹرانک ادائیگی کے لئے مجبور ہونا پڑ رہا ہے اور ان کی جانب سے اشیائے ضروریہ کی خریدی کیلئے لازمی ادائیگی الکٹرانک ذریعہ سے کرنی پڑ رہی ہے جس کے سبب وہ سوپر مارکٹس کا رخ کرنے لگے ہیں اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے امیر پیٹ‘ سوماجی گوڑہ‘ پنجہ گٹہ‘ یوسف گوڑہ اور بعض دیگر علاقوں میں روزمرہ کی اشیائے ضروریہ فروخت کرنے والوں نے الکٹرانک وصولی شروع کردی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ گاہک سے تو الکٹرانک وصولی کر رہے ہیں لیکن وہ جہاں سے ٹھوک سامان خرید رہے ہیں وہاں الکٹرانک یا کارڈ کے ذریعہ ادائیگی قبول نہیں کی جا رہی ہے جو ان کے لئے تکلیف کا سبب بن رہا ہے ۔ جو ٹھوک تاجرین الکٹرانک اور کارڈ یا چیک کے ذریعہ ادائیگی قبول کرنے تیار ہیں وہ 2.5فیصد چارج وصول کر رہے ہیں جو کہ چلر فروش اپنے گاہک پر عائد نہیں کرسکتا اسی لئے انہیں اس طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ ٹھوک تاجرین کا کہنا ہے کہ انہیںاگر چیک یا الکٹرانک ادائیگی پر مجبور کیا جاتا ہے تو وہ ٹیکس کے علاوہ 2.5فیصد چارج اس لئے وصول کر رہے ہیں کیونکہ ان کی مکمل آمدنی محسوب اور ٹیکس کے زمرے میں آجائے گی جس کے سبب ان کی حقیقی آمدنی میں کمی واقع ہوگی۔ تاجرین کا احساس ہے کہ عوام کو الکٹرانک ادائیگی یا بینک کے ذریعہ منتقلی کے لئے مجبور کرنے کے بجائے ان میں شعور اجاگر کرنے کی مہم تیز کی جانی چاہئے اور ٹھوک تاجرین کو ٹیکس سے زیادہ رقومات وصول نہ کرنے کا پابند بنایا جانا چاہئے تاکہ چلر فروشوں اور عوام پر کوئی بوجھ عائد نہ ہونے پائے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT