Saturday , October 21 2017
Home / مضامین / حکومت تلنگانہ، محکمہ اقلیتی بہبود و تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی کے زیرا ہتمام عثمانیہ یونیورسٹی صدی تقاریب دو روزہ قومی سمینار

حکومت تلنگانہ، محکمہ اقلیتی بہبود و تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی کے زیرا ہتمام عثمانیہ یونیورسٹی صدی تقاریب دو روزہ قومی سمینار

رپورتاژ            ڈاکٹر محمد ناظم علی
محکمہ اقلیتی بہبود و تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی کے زیر اہتمام عثمانیہ یونیورسٹی صدی تقاریب دو روزہ قومی سمینار شہر حیدرآباد میں 22 اور 23 مئی کو ہوٹل پلازا میں منعقد ہوا۔ مہمانان و شرکاء سمینار 10 بجے سے آنا شروع ہوگئے اور سمینار ہال میں آکر اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہوئے لیکن صدارت کرسی و اجلاس نائب وزیراعلی کے انتظار کرتے کرتے 11:47 ہوگئے۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت نائب وزیر اعلی محمد محمود علی نے فرمائی۔ ابتداء میں ایوان فنکار حیدرآباد کے فنکاروں نے محمد علی نیئر کا ترانہ جس میں جامعہ عثمانیہ کا تعلیمی منظر صفات و کردار کی ترجمانی ہوتی ہے پڑھا۔
مبارک مادر علم و ہنر مبارک ہو
کہ سو سال کا سفر مبارک ہو
ہوا ہے چار سو شہرہ ہمارے نونہالوں کا
عجب اوصاف ہے ہمدم ہمارے ماہ پاروں میں
پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر سکریٹری تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔ انہوں نے مہمانان و شرکاء کا استقبال کرتے ہوئے دو روزہ سمینار کے اغراض و مقاصد اور پروگرام کی تفصیلات پیش کی۔ سید عمر جلیل پرنسپل سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود ریاست تلنگانہ نے اجلاس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مادری زبان میں اعلی تعلیم وقت کا تقاضہ ہے کیوں کہ صلاحیت اور قابلیت مادری زبان سے پیدا ہوتی ہے اور دیگر ابنائے وطن کے لیے قابل تقلید ہے۔ جامعہ عثمانیہ کی اساس و تشکیل اور تعمیر مادری زبان اردو کے لیے قائم کی گئی ہے وہاں اردو کی بازیافت احیاء ناگزیر ہے۔ سابق وائس چانسلر و جامعہ عثمانیہ پروفیسر سلیمان صدیقی نے Power Point Preseentation پر جامعہ کی پوری تاریخ مواد اور تصویروں کے ذریعہ سے ابتداء تا آخر پیش کیا جس میں نئی و معلوماتی امور حقاقء ہمیں حاصل ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایشیاء میں اردو میڈیم کی پہلی جامعہ ہے جس میں مادری زبان کے ذریعہ سے تعلیم دی گئی اور انگریزی زبان کو لازمی تصور کیا۔ جامعہ کی عمارت انڈو اسلامک۔ انڈو مسلم فن۔ لنگایت تہذیب کے اثرات سے مزین ہے عمارت کا نقشہ پہلے ایسا بنایا گیا جس میں گنبد کو شامل کیا گیا لیکن بعد میں عثمان علی بادشاہ نے گنبد و مینار کو حذف کردیا اس طرح یہ عمارت گنگا جمنی تہذیب اور سکیولر عمارت بن گئی۔ یہ کثرت میں وحدت کا نمونہ ہے جامعہ کی بنیادوں میں رواداری بقائے باہم مشترکہ اقدار پنہاں ہیں۔ دارالترجمہ قائم کیا گیا۔ عبدالحق ناظم تھے۔ سراکبر حیدری نے جاپانی زبان میں کیا کیا خوبیاں ہیں اور سسٹم کا جائزہ لیا۔ احکامات کے نمونے اور شیروانی کے بٹن۔ ایک آنہ کرنسی وغیرہ کو تفصیل سے بتلایا گیا۔
جناب اے کے خان مشیر اعلی محکمہ اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ نے کہا کہ یہ ابھی شروعات ہے ایسی تقاریب سال بھر منائی جائیں گی۔ جامعہ اعلی ترین علمی و تعلیمی ادارہ ہے اور اس کا معیار بھی اعلی ہوگا۔ تعلیمی معیار سے طلبہ اور جامعہ کی شناخت ہوگی۔ دارالمعارف ادارہ کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ یہ علمی و ادبی اثاثہ ہے اس کی بقا اور فروغ سے علم کا پھیلاو ہوگا۔
پروفیسر انور معظم نے کہا کہ جامعہ میں ماضی کا احیاء کرنے کے لیے حال کا جائزہ لینا چاہئے۔ عصری دور میں اردو کا کیا حال ہے اب اردو کی وہ بہار کہاں جو پہلے تھی۔ پھر بھی مختلف ذریعوں و وسیلوں سے اردو فروغ پارہی ہے۔ اردو کا بنیادی سطح پر کام ہونا ہے۔ جڑیں سوکھ رہی ہیں اس کی آبیاری ناگزیر ہے۔ انگلش میڈیم اقامتی اسکول تو قائم ہوئے ہیں اس پروجیکٹ کے نتائج 10 سال بعد ظاہر ہوں گے۔ 1956ء میں لسانی بنیادوں پر ریاستوں کی تقسیم کی وجہ سے حیدرآبادی تہذیب کے ٹکڑے ہوگئے۔ جامعہ عثمانیہ نے حیدرآبادی تہذیب کو فروغ و ترقی عطا کی۔ لسانی تقسیم سے Subnation کا تصور ابھراجامعہ کا تعلیمی معیار گرچکا ہے۔ انگریزی صرف نالج کی زبان ہے۔ WS Blent اور سید جمال الدین افغانی نے اردو میں جامعہ قائم کرنے کا تصور پیش کیا۔ سالارجنگ دوم۔ WS blent نے اسکیم تیار کی لارڈ اپن کو 1884ء میں پیش کیا۔ 1917ء میں ہندوستانی زبان میں تعلیم کا تصور عام ہوا۔ سر اکبر حیدری ماضی کے تجربہ کا احیاء چاہتے تھے۔ 1950ء میں علی یاور جنگ اس کے وائس چانسلر تھے۔
محمد محمود علی نائب وزیراعلی ریاست تلنگانہ نے صدارتی کلمات پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ جامعہ اپنی 100 بہاریں مکمل کرچکی ہے۔ اس سے فارغ التحصیل طلبہ اور اس کی ڈگری کی دنیا میں اہمیت ہے اور مستند اور معتبر مانی جاتی ہے۔ مزید انہوں نے کہا کہ وزیراعلی ریاست تلنگانہ کے چندر شیکھر رائو مسلمانوں کی تعلیمی اور معاشی۔ سماجی ترقی کے بارے میں سنجیدہ ہیں وہ چاہتے ہیں کہ دیگر طبقات کی طرح مسلمان بھی زندگی کے مختلف شعبہ حیات میں ترقی حاصل کریں اور ان کی نمائندگی ہو۔ اس افتتاحی جلسے کی نظامت معروف ناظم نظم و نثر جناب اسلم فرشوری نے کی۔ پہلے اجلاس کی صدارت پروفیسر سلیمان صدیقی نے فرمائی۔ اس سیشن میں جملہ دو مقالے پڑھے گئے۔ پروفیسر بیگ احساس نے جامعہ عثمانیہ کے پس منظر پر مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ بہمنی دور کے بادشاہوں نے اردو کی خدمت کی۔ دکن نے اردو کو علمی زبان بنائی۔ فارسی کے متبادل کے طور پر اردو ابھر نے لگی۔ اردو کے ذریعہ علمی فضاء اور سائنسی شعور کو اجاگر کیا گیا۔ حیدرآباد دکن میں 1825ء کو اردو سرکاری زبان بنائی گئی۔ 1947ء سے قبل حیدرآباد میں مدرسہ فخریہ۔ مدرسہ شجاعیہ۔ مدرسہ عالیہ۔ مدرسہ دارالعلوم تو تھے لیکن جامعہ کا خواب شرمندہ تعبیر 1917ء سے ہوا۔ ڈاکٹر مصطفی کمال نے ریاست حیدرآباد کی لسانی صورت حال پر مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دور میں دیسی زبانوں میں نظم و نسق چلتا تھا۔ برہمنوں کو محکمہ مال کی ذمہ داری دی جاتی تھی۔ ہندوئوں میں اردو نہیں دوسری زبانیں تھی۔ سراکبر حیدرینے اعلی تعلیمی ادارے کے لیے تجاویز پیش کی۔ ماضی میں اردو کا بول بالا تھا۔حال اردو کا بُرا ہے نسل نو کو اردو سکھانے کی ضرورت ہے۔ یہی لوگ اردو کو آئندہ صدیوں میں لے جائیں گے۔ دوسرے اجلاس کی صدرت پروفیسر اشرف رفیع نے کی۔ جامعہ عثمانیہ کا قیام موضوع مقالے کے عنوان سے ڈاکٹر عقیل ہاشمی نے پیش کیا۔ انہوں نے جامعہ عثمانیہ کے قیام کے محرکات اور غرض و غایت پر روشنی ڈالی۔ جامعہ عثمانیہ اردو کا اعلی تعلیمی مرکز تھا اور منقودو ناپید ہوگیا۔ اردو کا احیاء ضروری ہے۔ ڈاکٹر حبیب نثار نے جامعاتی سطح پر اردو ذریعہ تعلیم کا تجربہ اور انگریزی زبان پر مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ مادری زبان میں اعلی تعلیم کا پہلا تجربہ تھا۔ انگریزی زبان ایک لازمی زبان کے طور پر مروج تھی۔ اردو میڈیم کی جامعہ ہونے کی وجہ اردو زبان کو بہت فروغ حاصل ہوا۔ پروفیسر فاطمہ پروین نے جامعہ عثمانیہ کی تہذیبی روایت پر مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے مثالوں کے ذریعہ جامعہ کی تہذیبی اقدارو روایتپر روشنی ڈالی۔ جامعہ کے ادبی، تہذیبی، تمدنی اور اخلاقی ماحول و قدروں کو اجاگر کیا اور کہا کہ جامعہ نے حیدرآبادی تہذیب کو فروغ عطا کیا۔ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر جاوید کمال نے کی۔
23 مئی 2017ء کو تیسرا اجلاس منعقد ہوا اس کی صدارت ڈاکٹر مصطفی کمال نے فرمائی۔ ڈاکٹر فضل اللہ مکرم نے نواب میر عثمان علی خاں آصف سابع کا تصور تعلیم پیش کیا جس میں انہوں نے کہا کہ ’’میر عثمان علی خاں آصف سابع کو اردو مادری سے محبت تھی وہ حدردجہ اردو کو چاہتے تھے اس لئے انہوں نے اردو میڈیم سے اعلی تعلیم کی ضرورت کے لیے جامعہ عثمانیہ کا قیام عمل میں لایا۔ یہ جامعہ مغربی و مشرقی علوم کا مرکز و منبع بنی۔ پروفیسر مجید بیدار نے وضع اصطلاحات پر مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ پہلی مرتبہ اردو ذریعہ تعلیم کو حیدرآباد دکن میں رائج کیا گیا۔ اس میں سائنس، طب، قانون، انجینئرنگ  کی تعلیم اردو میڈیم سے ہوتی تھی۔ میر محبوب علی خاں 1911 ء سے پہلے رُشیدیہ، جامعہ نظامیہ مدرسہ قائم کرچکے تھے۔ اس دور کے یہی مدرسہ جامعہ کا محرک بنے۔ 1948ء میں اردو سے انگریزی میڈیم کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ Term اصطلالح کے معنی کسی لفظ کے مقرر معنی سے ہٹ کر دوسرے معنی اخذ کئے جائیں۔ 1917ء سے لے کر 1951ء تک 386 کتابیں چھپی ترجمہ ہوئیں۔ اس دور میں اصطلاحات عربی آمیز، فارسی آمیز، انگریزی اصطلاحات میں حذف و اضافہ معنوی اصطلاحات وغیرہ کی گئی ہیں۔ پروفیسر اشرف رفیع نے دارالترجمہ کا قیام مراحل اور اسالیب پر مبسوط اور جامع مقالہ پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس ادارہ کے تعلق سے احمد حسین کی کتاب تفصیل سے مل جائے گی۔ پروفیسر فاطمی نے بھی دارالترجمہ پر تحقیقی انداز سے کتاب رقم کی ہے کئی نئے حقائق کو اشکار کیا ہے۔ پروفیسر اشرف رفیع نے کہا کہ دارالترجمہ نے ادارہ سائنسی، علمی، مذہبی، انجینئرنگ اور ٹکنالوجی کی کتابوں کو اردو میں تیار کیا تاکہ نصابی ضرورت کی تکمیل ہو۔ اس ادارہ سے جامعہ کو ترقی و عروج حاصل ہوا۔ اگر آج یہ ادارہ ہوتا تو اردو والوں کے لیے بیش بہا خزانہ ثابت ہوتا لیکن پولیس ایکشن میں  اس کو نذر آتش کردیا گیا۔ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر حمیرا سعید نے کی۔ چوتھے اجلاس کی صدارت پروفیسر احمد اللہ خاں نے کی۔ جامعہ عثمانیہ کی موجودہ صورت حال مسائل و تجاویز پر جناب میر ایوب علی خاں نے مخاطب کیا۔ انہوں نے کہا کہ 1969 ء میں تلنگانہ ایجی ٹیشن شروع ہوا اور تلنگانہ ریاست بنانے میں جامعہ عثمانیہ کا کلیدی رول رہا ہے۔ بعد میں عثمانیہ یونیورسٹی کو نظرانداز کردیا گیا۔ حالانکہ علاحدہ ریاست بنانے میں O.U ساتھ ساتھ رہی۔ حکومت اسکو ترقی دے اور دنیا میں پہلا مقام دلائے ایشیاء میں 7 ویں بڑی جامعہ طلبہ کی تعداد دن بہ دن گھٹ رہی ہے۔ Dept بند ہورہے ہیں مخلوعہ جائیدادوں پر تقررات ناگزیر ہے۔ مباحثہ و بحث کی گئی۔ اس اجلاس کی نظامت ڈاکٹر گل رعنا نے کی۔
اختتامی تقریب کی صدارت جناب اے کے خاں مشیر برائے اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ نے کی۔ مہمانان خصوصی میں جناب سید عمر جلیل سکریٹری ٹو گورنمنٹ محکمہ اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ نے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ صدی تقاریب کا سلسلہ چلتا رہے گا۔ عالمی اردو کانفرنس بھی منعقد کرنے کی تجویز ہے۔ ویژن آف عثمانیہ کو دیکھایا جائے گا۔ جامعہ عثمانیہ کے سپوت عثمانین نے دنیا میں اپنے کارناموں اور خدمات سے جامعہ کا نام روشن کیا۔ جامعہ تمام طبقات کے لیے مختص ہے کسی کی ذاتی میراث نہیں۔ اس کی شناخت کو قائم رکھنے کی کاوش کی جائے گی۔ دارالترجمہ تمام زبانوں میں قائم ہونا چاہئے تاکہ علم و مضامین کو ترجمہ کے ذریعہ سے دوسری زبانوں میں منتقل کیا جاسکے۔ جامعہ عثمانیہ دیگر جامعات کے لیے قابل تقلید ہے Applied Science اور Humanities کو فروغ دینا چاہئے تاکہ انسانیت اور انسانی قدریں فروغ پاسکیں۔ تلنگانہ تہذیب کو آباد رکھنا ہو تو جامعہ عثمانیہ کو ترقی دینا ہوگا۔ پروفیسر ایس اے شکور ڈائرکٹر سکریٹری تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈیمی نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہوئے فرمایا کہ رمضان کے بعد مزید صدی تقاریب منعقد ہوں گے جو مقالے پڑھے گئے ان کو کتابی شکل دی جائے گی اور مستقبل میں جو پروگرام ہوں گے ان میں عثمانیہ سے وابستہ حضرات کو نمائندگی دی جائے گی۔ ڈاکٹر معید جاوید صدر شعبہ اردو جامعہ عثمانیہ نے کہا کہ میر عثمان علی خاں نے 1600 ایکڑ اراضی جامعہ کے لئے وقف کی جو قیمتی تحفہ سے کم نہیں۔ انہوں نے جامعہ عثمانیہ پر منظوم خراج تحسین و عقیدت پیش کیا۔
جان و دل سے تیرا احترام جامعہ
تیری عظمت کو لاکھوں سلام جامعہ
تیرا ثانی نہیں ہے جہاں میں کوئی
سارے عالم میں اونچا مقام جامعہ
پروفیسر بیگ احساس نے دو روزہ سمینار کے پڑھے گئے مقالوں پر تاثرات پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ جامعہ ایسی اعلی دانش گاہ ہے جس نے اپنی تہذیب و تعلیمی کلچر کو فروغ دیا۔ دیگر جامعات کی تہذیب ہے یا نہیں۔ جامعہ کی انفرادیت ہے اور شناحت بھی پورے عالم میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ کے لوگو کو جوں کا توں بحال کرنا ہوگا۔ اب وہاں حالات بدل گئے۔ طلبہ اور تدریسی و غیر تدریسی اسٹاف کی حالت تبدیل ہوگئی وہاں کا حال و ماحول بیان نہیں کرسکتے۔ اب جو حالت میں ہے ویسی ہی رہ جائے تو بہتر ہے۔ جناب اے کے خاں مشیر اقلیتی بہبود حکومت تلنگانہ نے کہا کہ جامعہ عثمانیہ کی صدی تقاریب کا تسلسل چلتا رہے گا اور مختلف تہذیبی پروگرام پیش کریں گے۔ دائرۃ المعارف ادارہ کو بچانا ضروری ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے ذمہ دار ایک دن جائزہ لینے جائیں گے تاکہ ماضی کی بہار لوٹ کر آئے۔ ماحول میں سائنس و ٹکنالوجی کا غلبہ ہو۔ انسانی اور انسانیت سے مربوط علوم و فنون کو لاگو کرنا ہوگا تاکہ معاشرہ میں انسانی قدریں پروان چڑھے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ حال میں جانے کا سلیقہ عطا کرتی ہے ایسے میں سماجی و انسانی علوم کو فوقیت اور فروغ دینا وقت کا تقاضہ ہے۔ اس موقع پر نبیرہ نواب میر عثمان علی خاں بہادر نواب نجف علی خاں بہادر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس سمینار میں شرکت کرنے سے دلی خوشی ہورہی ہے۔ اور باعث افتخار و اعزاز ہے۔ یہ بات اہم کہ ایک شخصیت نے لاکھوں افراد کا مستقبل سنہرا بنایا۔ دو روزہ سمینار میں سوالات اور بحث و مباحثہ میں حصہ لینے والوں میں ڈاکٹر مسعود جعفری، ڈاکٹر فرید الدین صادق، ڈاکٹر محمد ناظم علی، انور علی ایڈوکیٹ، شیخ فہیم الدین وغیرہ شامل ہیں۔ آخر میں ایوان فنکار کے فنکاروں نے سکندر علی وجہد کا لکھا ترانہ پیش کیا۔ پروفیسر ایس اے شکور نے کلمات شکر پیش کئے۔ سمینار بہ حیثیت مجموعی کامیاب رہا۔ میں صمیم دل سے جناب اے کے خاں ، سید عمر جلیل، پروفیسر ایس اے شکور اور ان کے رفقاء کار کو مبارکباد دیتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ عثمانیہ یونیورسٹی میں نواب میر عثمان علی خاں چیر اور اردو میڈیم قائم کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT