Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت تلنگانہ کا گراما جیوتی پروگرام پرانی بوتل میں نئی شراب کے مترادف

حکومت تلنگانہ کا گراما جیوتی پروگرام پرانی بوتل میں نئی شراب کے مترادف

اپنا گاؤں اپنی منصوبہ بندی پر وضاحت کا مطالبہ، محمد علی شبیر کا ردعمل
حیدرآباد /14 اگست (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے گراما جیوتی پروگرام کو پرانی بوتل میں نئی شراب قرار دیتے ہوئے حکومت سے ’’اپنا گاؤں اپنی منصوبہ بندی‘‘ کے بارے میں وضاحت طلب کی۔ انھوں نے سی ایل پی آفس اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 13 جولائی 2014ء کو چیف منسٹر تلنگانہ کے چندر شیکھر راؤ نے ’’اپنا گاؤں اپنی منصوبہ بندی‘‘ کے نام سے پروگرام شروع کرتے ہوئے گاؤں والوں کو اپنے گاؤں کی ترقی کے لئے منصوبہ بندی کا مشورہ دیا تھا۔ انھوں نے اچانک گراما جیوتی پروگرام شروع کرنے پر حکومت سے استفسار کیا کہ ان دونوں پروگرامس میں کیا فرق ہے؟۔ انھوں نے 14,658 کروڑ روپئے کے مصارف سے شروع کردہ ’’اپنا گاؤں اپنی منصوبہ بندی پروگرام‘‘ کو اچانک درمیان میں روک دینے کی وجہ دریافت کی اور کہا کہ اس پروگرام کے تحت سی سی روڈ پر 6578.26 کروڑ روپئے، ڈرینج کے کاموں پر 2846.29 کروڑ، ہیڈ ٹینک کی تعمیر پر 874.16 کروڑ، آبپاشی پراجکٹس پر 1476.31 کروڑ، برجس کی تعمیر پر 797.92 کروڑ اور پائپ لائن کی تنصیب پر 638.52 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم ان کاموں پر 20 فیصد فنڈس بھی خرچ نہیں کئے گئے۔ انھوں نے گراما جیوتی پروگرام کے آغاز سے قبل اپنا گاؤں اپنی منصوبہ بندی کی ناکامی کی وجوہات عوام کو بتانے کا حکومت سے مطالبہ کیا اور بار بار بیانات بدلتے ہوئے عوام کو گمراہ کرنے کا چیف منسٹر پر الزام عائد کیا۔ انھوں نے کہا کہ کے سی آر نے عثمانیہ ہاسپٹل کی قدیم و تاریخی عمارت کے انہدام کا اعلان کیا اور ریاستی وزیر کمرشیل ٹیکس سرینواس یادو نے بھی یہی بات دہرائی، تاہم حکومت نے ہائی کورٹ کو یہ بتایا کہ اس سلسلے میں اب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے کہا کہ کے سی آر کا رویہ عوام کے لئے الجھن کا باعث بن رہا ہے، جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے اعلانات جب متنازہ بنتے ہیں تو وہ دست برداری اختیار کرلیتے ہیں۔ انھوں نے قبل ازیں چیسٹ ہاسپٹل، سکریٹریٹ کو منتقل کرنے اور حسین ساگر کا پانی خالی کرنے کا اعلان کیا تھا، لیکن عوامی احتجاج کے بعد دست بردار ہو گئے۔

TOPPOPULARRECENT