Friday , August 18 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت تلنگانہ کی آمدنی میں 3000 کروڑ روپئے کی کمی کا اندیشہ

حکومت تلنگانہ کی آمدنی میں 3000 کروڑ روپئے کی کمی کا اندیشہ

کرنسی کی تنسیخ مسئلہ پر منعقدہ اجلاس میں مرکزی ٹیم کو چیف سکریٹری راجیو شرما نے تفصیلات سے واقف کروایا

٭  غریب افراد روزگار سے محروم
٭  کسان اور تاجرین کو دشواری
٭   زرعی شعبہ کیلئے رعایت دینے کا مطالبہ

حیدرآباد ۔ 23۔  نومبر  (سیاست نیوز) چیف سکریٹری ڈاکٹر راجیو شرما نے کہا کہ مرکز کی جانب سے بڑے کرنسی نوٹس کی تنسیخ کے فیصلہ سے تلنگانہ حکومت کی آمدنی میں جاریہ مالیاتی سال 3000 کروڑ روپئے کی کمی کا اندیشہ ہے۔ کرنسی نوٹس کی تنسیخ کے مسئلہ پر تلنگانہ کے عہدیداروں سے مرکزی ٹیم کا آج اجلاس منعقد ہوا جس میں چیف سکریٹری نے مرکز کے اس فیصلہ سے پڑنے والے اثرات کی تفصیلات بیان کی۔ مرکزی حکومت کے ایڈیشنل سکریٹری ریڈی سبرامنیم کی قیادت میں مرکزی ٹیم نے آج ریاست کے اہم عہدیداروں سے ملاقات کی۔ اجلاس میں اس فیصلہ سے بینکوں پر پڑنے والے اثرات سے بھی مرکزی ٹیم کو آگاہ کیا گیا۔ اجلاس میں اسپیشل چیف سکریٹری پردیپ چندرا ، اجئے مشرا ، پرنسپل سکریٹریز رام کرشنا راؤ ، سنیل شرما ، مرکزی حکومت کے جوائنٹ سکریٹری شریمتی انامیکا سنگھ ، ریاستی سکریٹریز پارتھا سارتھی ، نوین متل کے علاوہ آر بی آئی ، ایس بی ایچ ، ایس بی آئی ، آندھرا بینک ، نابارڈ اور کوآپریٹیو بینک کے عہدیداروں نے شرکت کی ۔ چیف سکریٹری ڈاکٹر راجیو شرما نے اجلاس کو بتایا کہ بڑے کرنسی نوٹ کی تنسیخ سے نہ صرف ریاست کی آمدنی پر بھاری اثر پڑا ہے بلکہ کئی غریب افراد روزگار سے محروم ہوچکے ہیں۔ تعمیراتی شعبہ میں ورکرس کئی ایک مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔ چھوٹے اور متوسط کسان اور تاجروں کو دشواریاں پیش آرہی ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت کو تجویز پیش کی کہ موجودہ صورتحال میں ریاست کی خصوصی امداد کے علاوہ ریاست کو حاصل ہونے والے سی ایس ٹی بقایا جات جاری کئے جائیں۔

انہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت کو چاہئے کہ وہ زرعی شعبہ کیلئے مختلف رعایتوں کو اعلان کرے تاکہ کسان پرانے 500 اور 1000 کے کرنسی نوٹ کے ذریعہ کھاد اور دیگر ضروری اشیاء کی خریداری کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ مارکفیڈ اور ریاستی حکومت کے اداروں کے ذریعہ کسانوں کو پرانی کرنسی پر سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے بقایا جات کی ادائیگی کی مہلت 24 نومبر سے اضافہ کرنے ، ریاستی حکومت کے ملازمین کو 10,000 روپئے نقد کی فراہمی ، نئے تیار شدہ 500 روپئے کے کرنسی نوٹ کی تیزی سے عوام میں سربراہی اور خاص طور پر دیہی علاقوں میں کرنسی نوٹس کی دستیابی کی تجویز پیش کی ۔ انہوں نے آسرا پینشن کی مقررہ وقت پر ادائیگی کو یقینی بنانے کیلئے مرکز سے درخواست کی ۔ چیف سکریٹری نے پوسٹ آفسوں کے ذریعہ پرانے نوٹ کو جمع کرانے اور انہیں تبدیل کرنے کی سہولت برقرار رکھنے اور آر بی آئی کے ذریعہ نئے نوٹس کی سربراہی کی درخواست کی۔ محکمہ مال کے اسپیشل چیف سکریٹری پردیپ چندرا نے اجلاس کو بتایا کہ کرنسی نوٹ کی تنسیخ سے ریاست میں اراضیات کی خرید و فروخت پر اثر پڑا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ سابق میں خرید و فروخت کی سرگرمیاں ایک ساتھ جاری رہتی تھی لیکن فی الوقت یہ صرف رجسٹریشن کے مرحلہ میں ہے۔ محکمہ کو روزانہ 23 کروڑ روپئے کی آمدنی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسمبر سے مارچ 2017 ء تک ماہانہ 100 کروڑ روپئے سے زائد کی آمدنی میں کمی کا اندازہ کیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رئیل اسٹیٹ کے شعبہ میں غیر یقینی صورتحال ہے اور جائیدادوں کی قیمتیں گر سکتی ہیں ۔ محکمہ مال کے پرنسپل سکریٹری اجئے مشرا نے کہا کہ اکسائز کمرشیل ٹیکسیس اور دیگر شعبوں میں آئندہ 4 ماہ میں ماہانہ 420 تا 450 کروڑ روپئے کی آمدنی کم ہونے کا اندیشہ ہے۔ ٹرانسپورٹ ڈپارٹمنٹ کے پرنسپل سکریٹری نے بتایا کہ کرنسی نوٹ کی تنسیخ سے ماہانہ 90 کروڑ روپئے کے حساب سے 450 کروڑ روپئے کی آمدنی کم ہوسکتی ہے ۔ مرکزی حکومت کے ایڈیشنل سکریٹری ریڈی سبرامنیم نے کہا کہ کالے دھن پر قابو پانے کیلئے مرکزی حکومت نے کرنسی کی تنسیخ کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم اس سے ریاستوں پر پڑنے والے اثرات کا مرکزی حکومت جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں دستیاب کرنسی ، مزید کرنسی کی ضرورت ، بینکوں پر طویل قطاریں ، چھوٹے تاجروں اور کسانوں کے مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے کمیٹی مرکزی حکومت کو اپنی تجاویز پیش کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT