Tuesday , June 27 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت تلنگانہ کی دعوت افطار کے خلاف ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست داخل

حکومت تلنگانہ کی دعوت افطار کے خلاف ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی درخواست داخل

 

 

منظورہ رقم کی تفصیلات آج عدالت میں پیش کرنے کی ہدایت

حیدرـآباد۔/14جون، ( سیاست نیوز) حیدرآباد ہائی کورٹ نے محکمہ اقلیتی بہبود کو ہدایت دی ہے کہ 18جون کو حکومت کی جانب سے دی جارہی دعوت افطار کے لئے منظورہ رقم کی تفصیلات جمعرات تک عدالت میں پیش کرے۔ کارگذار چیف جسٹس رمیش رنگا ناتھن اور جسٹس ٹی رجنی پر مشتمل ڈیویژن بنچ نے سماجی کارکن لبنیٰ ثروت کی مفاد عامہ درخواست کو سماعت کے لئے قبول کرتے ہوئے یہ ہدایت دی۔ درخواست گذار نے عدالت سے اپیل کی ہے کہ حکومت کو عوامی رقومات کے ذریعہ دعوت افطار کی اجازت نہ دی جائے۔ عدالت نے درخواست گذار کے وکیل سے دریافت کیا کہ سماج کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو بعض رعایتوں کی فراہمی کے فیصلہ کے میں کس طرح مداخلت کی جاسکتی ہے۔ درخواست گذار کے وکیل نے کہا کہ جاریہ سال افطار ڈِنر کے اخراجات اور منظورہ رقم کو حکومت مخفی رکھ رہی ہے جبکہ گزشتہ سال جی او جاری کرتے ہوئے رقم کا خلاصہ کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ افطار ڈِنر کے لئے اقلیتی بہبود اور وقف کے فنڈز کا استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ وکیل نے کہا کہ افطار کے موقع پر غیر مسلم افراد کو بھی مدعو کیا جارہا ہے، دعوت افطار کے لئے اب چیف منسٹر کو مدعو کیا گیا اور کل وہ چیف جسٹس ہائی کورٹ کو بھی مدعوکرسکتے ہیں۔ ڈیویژن بنچ نے ایک جی او کا حوالہ دیا جس میں ریاست کی 420 مساجد میں افطار کے اہتمام کا فیصلہ کیا گیا ، ہر مسجد میں 500 افراد کیلئے انتظام ہوگا۔ بنچ نے سرکاری وکیل کو ہدایت دی کہ وہ جمعرات تک اس سلسلہ میں حکومت کا موقف پیش کریں۔ درخواست کی سماعت جمعرات کو ہوگی۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT