Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت تلنگانہ کی شادی مبارک اسکیم، روزنامہ سیاست کا اہم رول

حکومت تلنگانہ کی شادی مبارک اسکیم، روزنامہ سیاست کا اہم رول

محکمہ اقلیتی بہبود کے پریزنٹیشن میں جانبداری، استفادہ کنندگان کی شکایت
حیدرآباد۔/10اکٹوبر، ( سیاست نیوز) حکومت کی ’ شادی مبارک‘ اسکیم کے تحت ایک سال میں 109کروڑ روپئے کی اجرائی صرف محکمہ اقلیتی بہبود کا کارنامہ نہیں بلکہ رضاکارانہ تنظیموں نے اس اسکیم کی کامیابی میں اہم رول ادا کیا۔ گزشتہ سال 2اکٹوبر سے اس اسکیم کے اعلان کے بعد حکومت نے روز نامہ ’سیاست‘ سے اپیل کی تھی کہ اسکیم کی کامیابی میں اپنا حصہ ادا کرے۔ حکومت کی درخواست پر ’سیاست‘ نے خصوصی ہیلپ لائن سنٹر قائم کیا جس کے تحت درخواستوں کے آن لائن ادخال کیلئے کاؤنٹرس قائم کئے گئے جہاں غریب خاندانوں کو مفت نہ صرف درخواستیں داخل کرنے کا انتظام تھا بلکہ ’سیاست‘ نے تمام اسنادات کی اسکیاننگ اور اس کی ایک نقل حوالے کرنے کے اخراجات بھی برداشت کئے۔ لہذا ’ شادی مبارک ‘ اسکیم کی کامیابی میں روز نامہ ’سیاست‘ کے تعاون اور سرگرم رول کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا لیکن افسوس کہ اسکیم کے ایک سال کی تکمیل کے موقع پر محکمہ کی جانب سے جو ویڈیو اور آڈیو پر مشتمل پاور پوائنٹ پریزنٹیشن تیار کیا گیا اس میں’سیاست‘ کے رول کو نظرانداز کردیا گیا برخلاف اس کے شہر کی ایک رضاکارانہ تنظیم کے رول کو بڑھا چڑھاکر پیش کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مذکورہ تنظیم کے تعاون سے یہ اسکیم کامیاب ہوئی ہے۔یوں تو ’سیاست‘ کی سماجی اور ملی خدمات برسوں سے جاری ہیں اور ادارہ سیاست کبھی بھی کسی گوشہ سے ستائش یا تعریف کا متمنی نہیں رہا اور نہ ہی محکمہ اقلیتی بہبود سے وہ ستائش کا خواہاں ہے تاہم سرکاری سطح پر تیار کردہ پریزنٹیشن میں محکمہ نے جس انداز سے ’سیاست‘ کو نظر انداز کرنے کی کوشش کی ہے اس سے استفادہ کنندگان میں ناراضگی دیکھی گئی۔ یہ پریزنٹیشن مرکزی وزیر اور ڈپٹی چیف منسٹر کی موجودگی میں حال ہی میں پیش کیا گیا۔ دراصل ’شادی مبارک ‘ اسکیم کے انچارج عہدیدار اس تنظیم سے قربت رکھتے ہیں جس کے نتیجہ میں سرکاری پاور پوائنٹ پریزنٹیشن میں اسے غیر معمولی اہمیت دی گئی۔ یوں تو کئی رضاکارانہ تنظیموں نے اسکیم سے استفادہ کیلئے غریب خاندانوں کی رہنمائی کی لیکن ’سیاست‘ نے طویل عرصہ تک شعور بیداری کیلئے مفت میں اشتہارات شائع کئے اور شعور بیداری کیلئے کئی رپورٹس شائع کیں۔ اس طرح ہزاروں خاندانوں تک اسکیم کے فوائد کو پہنچانے اور استفادہ کیلئے راضی کرنے میں ’سیاست‘ کا رول ناقابل فراموش ہے۔ اتنا ہی نہیں ’سیاست‘ نے اپنی ویب سائیٹ پر رپورٹس اور ویڈیوز کے ذریعہ شادی مبارک اسکیم کے حق میں مہم چلائی۔ کسی ادارہ کی جانب سے چند کارکنوں کو فراہم کردینا یا بعض مقامات پر پوسٹرس چسپاں کردینا ہی سب کچھ نہیں بلکہ ہزاروں افراد تک روزانہ خبروں اور اشتہارات کے ذریعہ شعور بیدار کرنا سیاست کا کارنامہ ہے۔ افسوس اس بات پر ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے ’سیاست‘ سے اسکیم کی کامیابی کیلئے مدد تو حاصل کی لیکن اسکیم کی کامیابی کے بعد روز نامہ سیاست کی خدمات کے اعتراف کی زحمت نہیں کی۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کو صرف اسکیمات کی کامیابی سے دلچسپی ہے اور وہ کامیابی کا سہرا اُن اداروں کو دینے کی کوشش کررہے ہیں جن سے ان کی قربت ہے۔ محکمہ سے تعلق رکھنے والے عہدیداروں کا ماننا ہے کہ ’سیاست‘ کی مہم سے اسکیم پر تیزی سے عمل آوری میں مدد ملی اور محکمہ سے زیادہ ’سیاست‘ نے عوام کو اسکیم کی طرف راغب کیا۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود کو شہر کی ہر مسجد میں اسکیم کے بارے میں پوسٹر آویزاں کرنے کی ہدایت دی تھی لیکن آج تک اس پر عمل نہیں کیا گیا۔ ایک بھی مسجد میں حکومت کی جانب سے نہ ہی پوسٹر آویزاں کیا گیا اور نہ ہی اسکیم کے بارے میں پمفلٹ تقسیم کئے گئے۔ عوام کیلئے مدد کے نام سے ہیلپ لائن نمبر جاری کیا گیا لیکن اس نمبر پر کوئی جواب دینے کیلئے موجود نہیں رہتا۔ اس طرح ’سیاست‘ کی خدمات کو فراموش کرنا باعث افسوس ہے۔ ایک سال میں اس اسکیم کے تحت 22000 سے زائد غریب لڑکیوں کی شادی کیلئے 110کروڑ روپئے سے زائد جاری کئے گئے۔ ’سیاست‘ کی ہیلپ لائن سے جن افراد نے درخواستیں داخل کی تھیں انہوں نے رقم کی منظوری کے بعد دفتر ’سیاست‘ پہنچ کر موثر رہنمائی اور بہتر تعاون کیلئے اظہار تشکر کیا۔ استفادہ کنندگان کو ’سیاست‘ کی خدمات کا اعتراف ہے لیکن افسوس کہ محکمہ اقلیتی بہبود شاید کسی سیاسی دباؤ کے تحت روز نامہ سیاست کی خدمات کا اعتراف کرنے سے گریز کررہا ہے۔ ’سیاست‘ نے ’شادی مبارک‘ کے علاوہ مرکزی و ریاستی حکومتوں کی اسکالر شپ، اوورسیز اسکالر شپ، غریب خاندانوں کیلئے آٹو رکشا فراہمی اور دیگر سرکاری اسکیمات کیلئے مفت خدمات فراہم کی ہیں جس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اور آگے بھی جاری رہے گا۔

TOPPOPULARRECENT