Saturday , August 19 2017
Home / Ads Others / حکومت تلنگانہ کے حصول اراضی بل کی شدید مخالفت

حکومت تلنگانہ کے حصول اراضی بل کی شدید مخالفت

29 دسمبر کو اندرا پارک پر احتجاجی دھرنا ، صدر تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر کودنڈا رام کا بیان
حیدرآباد۔27ڈسمبر(سیاست نیوز)صدرنشین تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر کودانڈرام نے حکومت تلنگانہ کے حصول اراضی بل کی سختی کے ساتھ مخالفت کرتے ہوئے 29ڈسمبر کو اندرا پارک دھرنا چوک پر تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے زیراہتمام بڑی پیمانے پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا۔آج یہا ںٹی جے اے سی دفتر میںمنعقدہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے مجوزہ احتجاجی دھرنے کے پوسٹرز کی بھی اجرائی عمل میںلائی۔ بعدازاں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کودانڈرام نے کہاکہ حکومت تلنگانہ مرکزی حکومت کے حصول اراضی بل 2014کو برقراررکھتی ہے تو حکومت کی جانب سے مختلف پراجکٹ او راسکیمات کے تحت عوام سے چھینی گئی اراضیات کے معقول معاوضہ انہیںمل سکتا ہے اور ریاستی حکومت ایسے متاثرین کی بازآبادکاری کی بھی ذمہ دار ٹھرائی جاتی ہے مگر حکومت تلنگانہ حصول اراضی میں سابق کے بل کو برقراررکھنے کے بجائے ریاستی حکومت کی جانب سے نیا بل منظور کرکے غریب کسانوں اور محنت کش طبقے کی زندگیوں سے کھلواڑ کررہی ہے ۔کودانڈرام نے کہاکہ سال 2013میںمرکزی حکومت نے جب حصول اراضی بل ایوان پارلیمنٹ میںپیش کیاتھا تب آج کے چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو جواس وقت رکن پارلیمنٹ تھے اس بل کی تائید وحمایت کرتے ہوئے اپنے ووٹ مذکورہ بل کے حق میںدیاتھا ۔انہوں نے پوچھا کہ پھر ایسا کیا ہوا کہ حکومت تلنگانہ کوسال2013میں منظور بل کی مخالفت میںاترانا پڑا اور نیا حصول اراضی بل ایوان اسمبلی میں پیش کرنے کی ضرورت پڑی۔ کودانڈرام نے حکومت تلنگانہ کے حصول اراضی بل کی منظور ی سے کے سی آر انتظامیہ کی نیک نیتی پر شک وشبہات پیدا ہورہی ہیں۔ انہو ںنے کہاکہ پچھلے تین سالوں میںکسانوں اور دیہی عوام سے جو اراضیات جبراً چھینے گئے ان میںتغلب کارائیو ںکے لئے مذکورہ بل کی منظور ی کا خدشہ پیداہوگیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ آبپاشی پراجکٹوں کے نام پر جن کسانوں سے اراضیات چھینی گئی ہیںوہ ہنوزانصاف کے طلب گار ہیں اور نئے بل کی منظور ی حصول انصاف میںرکاوٹیں پیدا کرنے کاسبب بن سکتا ہے۔ چیرمن تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی نے کہاکہ جے اے سی تلنگانہ کے غریب اور مزدور پیشہ عوام کے ساتھ کسی قسم کی ناانصافی کو ہرگز برداشت نہیں کریگی اور اس کے لئے ہم حصول انصاف تک جدوجہد کو جاری رکھیں گے ۔ انہوںنے ریاست تلنگانہ کے تمام اضلاعوں سے جے اے سی تنظیموں کے سربراہان اور دیگر رضاکارانہ تنظیموں سے بھی اس احتجاجی دھرنے میںشرکت کرتے ہوئے کسانوں او رمزدور پیشہ افراد سے اظہار یگانگت پیش کرنے کی اپیل کی ۔انہو ں نے کہاکہ انصاف کے لئے دربد ر کی ٹھوکریں کھانے والے اراضیات سے محروم کسان اور غریب افراد کی کثیرتعداد اس احتجاجی دھرنے میںشرکت کریگی۔رکن پارلیمنٹ سمن کی جانب سے کودانڈرام پر کئے گئے زبانی حملوں پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اسٹیٹ جنرل سکریٹری جے اے سی پرشتم ریڈی نے کہاکہ سمن ایک رکن پارلیمنٹ ہیں جن پر دستوری حقوق کی حفاظت کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ سمن کے زبان سے اس قسم کی بیان بازی زیبا نہیںدیتی ۔پرشتم ریڈی نے مزیدکہاکہ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی دستوری حقوق کا استعمال کرتے ہوئے بنائی گئی تنظیم ہے اور اس تنظیم کا ہرکام جمہوریت کے دائرے میںانجام دیاجاتا ہے ۔پرشتم ریڈی نے کہاکہ جمہوریت کی رو سے منتخب ایک عوامی نمائندی جمہوری دائرے میںکام کررہی تنظیم کے سربراہ کو دھمکی آمیز انداز میں تنقید کرتا ہے تو یہ بات قابلِ افسو س ہے ۔انہوں نے کہاکہ سمن کو تنقید کرنے سے قبل دستورہند کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ڈی پی ریڈی‘ پی رویندرا اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT