Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت تلنگانہ یونانی طریقہ علاج کو فروغ دینے سنجیدہ

حکومت تلنگانہ یونانی طریقہ علاج کو فروغ دینے سنجیدہ

ورلڈ یونانی لیگ کا آغاز ، جناب ظہیر الدین علی خاں و دیگر کو ایوارڈس ، جناب محمد محمود علی کا خطاب
حیدرآباد ۔ 10 ۔ فروری : ( دکن نیوز ) : تلنگانہ حکومت یونانی طریقہ علاج کو مختلف سطح سے بڑھاوا دینے کے لیے سنجیدہ ہے ۔ آج جو لوگ ہیں ان کے والدین اور خاندان کے افراد اسی طریقہ علاج سے مستفید ہوا کرتے تھے لیکن آندھرائی تغلب نے یونانی طریقہ علاج کو بڑھاوا دینے میں رکاوٹیں کھڑی کیں ۔ اس لیے کہ انہیں اس بات کا علم تھا کہ اس طریقہ علاج کا سارے کا سارا مواد اردو زبان میں ہے ۔ ریاستی حکومت کو اس طریقہ علاج کے متعلق واقف کرواتے ہوئے اس کی تشہیر میں کوئی کمی نہیں کی جائے گی ۔ اگر نئی نسل اس طریقہ علاج میں دلچسپی لیں گے تو حکومت ضرور بی یو ایم ایس کی نشستوں میں اضافہ کرے گی ۔ ان خیالات کا اظہار جناب محمد محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ آج یونانی میڈیکل اسوسی ایشن اور آرگنائزیشن کمیٹی کی جانب سے حکیم اجمل خاں کی یوم پیدائش کے موقع پر یونانی ریسرچ سنٹر ایرہ گڈہ میں دوسری ورلڈ یونانی لیگ کے سہ روزہ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے کیا ۔ اس تقریب کی صدارت ڈاکٹر منور حسین کاظمی ڈائرکٹر سی آر آئی یو ایم نے کی ۔ اس موقع پر ڈپٹی چیف منسٹر کے ہاتھوں جناب ظہیر الدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست ، ڈاکٹر منور حسین کاظمی ، حکیم یاسر عرفات ( چینائی ) ، ڈاکٹر مشتاق احمد خاں کو ان کی خدمات ایوارڈس پیش کئے گئے ۔ جناب محمد محمود علی نے سلسلہ خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ بلدی انتخاب میں ٹی آر ایس کی کامیابی نہیں بلکہ یہ تو شہر اور عوام کی کامیابی ہے اور اس کے ذریعہ شہر کی ترقی و خوشحالی کو چار چاند لگائے جائیں گے ۔ انہوں نے جناب زاہد علی خاں ایڈیٹر سیاست ، جناب ظہیر الدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر ، جناب عامر علی خاں نیوز ایڈیٹر کی تلنگانہ کے حصول میں جستجو و لگن اور اخبار کے ذریعہ رائے عامہ کو ہموار کرنے کا کام کیا ہے ۔ اس سے تلنگانہ کا حصول آسان ہوسکا ۔

 

ماضی کی جدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کی جہد کاروں نے پولیس کی لاٹھیاں و گولیاں کھائیں اور جیلوں میں گئے جب کہ 14 سالہ تلنگانہ جدوجہد میں ایک فرد کو بھی پولیس کی لاٹھی نہیں لگیں ۔ انہوں نے کہا کہ یونانی طریقہ علاج سارے کا سارا مواد اردو زبان میں ہے جس کو حکیم اجمل خاں جیسے ماہر حکماء نے اپنی شبانہ روز محنت کے ذریعہ تیار کیا ۔جناب ظہیر الدین علی خاں منیجنگ ایڈیٹر روزنامہ سیاست نے طلباء پر زور دیا کہ طب ہو یا سائنس آج مکمل طور پر انٹرنیٹ پر آچکی ہیں جس کے ذریعہ طلباء و نوجوان اپنی صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرتے ہوئے تحقیقی میدان میں اپنے قدم آگے بڑھاسکتے ہیں ۔ تلگو دیشم حکومت جو اس یونانی کورس جو کہ اردو زبان میں ہے اسے انگریزی زبان میں منتقل کردینا چاہتی تھی لیکن اس پر اس وقت کی حکومت پر زور لگایا کہ اردو زبان میں جو مواد موجود ہے اس کو باقی رکھا جائے ۔ جس کے لیے طلباء وطالبات کی دلچسپی اس طب یونانی میں بڑھی اور جو محدود نشستیں تھیں اس میں بڑھاوا کروایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ طلباء اگر اس طب میں تحقیق کو اپنا منبع و محور بناتے ہوئے انٹرنیٹ کے ذریعہ کمندیں ڈال سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آج دنیا انٹرنیٹ کے ذریعہ اسلام اور اس کے نظام حیات اور حکمت کو سمجھنے کے لیے تیار ہے شرط صرف یہ ہے کہ مسلمان محنت اور تعلیم و ٹکنالوجی کے حاصل کرنے میں اپنے آپ کو لگادیں ۔ ڈاکٹر واسعیہ نوید پرنسپل گورنمنٹ نظامیہ طبیہ کالج نے کہا کہ حکیم اجمل خان کی طبی خدمات اور ان کی پیدائش کے موقع پر ملک بھر میں جو یاد منائی جارہی ہے اس سے ان کے قدر و منزل کا اندازہ ہوتا ہے ۔ ایم اے نجیب نے طلباء پر زور دیا کہ اس حکمت بھری تعلیم کو ساری دنیا میں پھیلانے کا عزم کریں ۔ ڈاکٹر مشتاق احمد یونانی چیف کیپ ٹاون ساوتھ آفریقہ نے حکیم اجمل خان کی خدمات پر بزبان انگریزی مضمون سنایا ۔ حکیم یاسرعرفات اور دیگر نے مخاطب کیا ۔ ڈاکٹر سید غوث الدین سابق مشیر یونانی حکومت آندھرا پردیش ، ڈاکٹر بدر الدین صدیقی ، ڈاکٹر رحمن خان ، ڈاکٹر غدیر ، ڈاکٹر کلیم الرحمن ، ڈاکٹر رفیق احمد شکیب ، ڈاکٹر رحمن خاں و دیگر ڈاکٹرس اور حکماء کی کثیر تعداد موجود تھی ۔۔

TOPPOPULARRECENT