Monday , September 25 2017
Home / ہندوستان / حکومت تمام طبقات کو سستی تعلیم فراہم کرنے کی پابند عہد

حکومت تمام طبقات کو سستی تعلیم فراہم کرنے کی پابند عہد

ریاستوں سے بھی تعاون درکار، گروکل طرز کے 16 ریزڈنشیل اسکول منظور: نقوی
نئی دہلی، یکم مارچ (یو این آئی) اقلیتی امور کے مرکزی وزیر مملکت مختار عباس نقوی نے آج کہا کہ ملک میں اقلیتوں کی تعلیم سب سے زیادہ نظر انداز کی گئی لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت والی مرکزی حکومت نے اب جنگی پیمانے پر مہم چلا رکھی ہے جس سے اقلیتوں سمیت سماج کے تمام طبقات کو سستی ، سہل اور معیاری تعلیم مل سکے گی۔ نقوی نے یہاں مائناریٹی کمیونٹی ٹیچرس ایسوسی ایسن کے قومی سیمینار میں کہا کہ ٹیچروں کی کمی تشویش کا موضوع ہے ۔ اس سمت میں بھی مرکزی حکومت نے کئی اہم قدم اٹھائے ہیں لیکن ریاستوں کو بھی اس کے لئے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی امور کی وزارت اقلیتوں کو بہتر روایتی اور جدید تعلیم مہیا کرانے کے لئے بین الاقوامی معیار کے پانچ تعلیمی ادارے قائم کرے گی اور تکنیکی، میڈیکل ، آیوروید اور یونانی سمیت عالمی معیار کے اسکل ڈیولپمنٹ کی تعلیم دینے والے ادارے ملک بھر میں قائم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے لئے ایک اعلی سطح کی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو تعلیمی اداروں کا خاکہ، مقامات وغیرہ کے بارے میں بات چیت کررہی ہے اور جلد ہی اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کردے گی۔ یہ کوشش ہے کہ تعلیمی ادارے 2018سے کام کرنا شروع کردیں۔ ان تعلیمی اداروں میں لڑکیوں کے لئے چالیس فیصد ریزرویشن کی تجویز ہے ۔ نقوی نے کہا کہ اقلیتی امور کی وزارت کا اس بات پر پورا زور ہے کہ اقلیتوں کو بہتر تعلیم کے ساتھ ہی مختلف اسکل ڈیولپمنٹ کی تربیت بھی دی جائے ۔ جس سے طلبہ روزگار حاصل کرنے کے لائق بن سکیں۔اقلیتوں کو بہتر تعلیم دلانے اور بہتر روزگار کے لائق تربیت دینے کے لئے اقلیتی وزارت مختلف اسکیمیں چلارہی ہیں۔ انہو ں نے کہا کہ 2017-18 میں 35 لاکھ سے زیادہ طلبہ کو مختلف اسکالرشپ دی جائے گی۔ اس کے علاوہ دو لاکھ سے زیادہ نوجوانوں کو روزگار حاصل کرنے کے لائق تربیت دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ سولہ سے زیادہ گروکل کی طرز کے رہائشی اسکولوں کو منظوری دی گئی ہے ۔ ساتھ ہی جو مدرسے عام دھارے کی تعلیم دے رہے ہیں انہیں بھی مدد دی جارہی ہے۔ نقوی نے کہا کہ مرکزی حکومت نے اس بار اقلیتی وزارت کے بجٹ میں کافی اضافہ کیا ہے ۔ 2017-18کے لئے اقلیتی وزارت کا بجٹ بڑھا کر4195.48 کروڑ روپے کردیا گیا ہے جو گذشتہ بجٹ کے 3827.25 کروڑ کے مقابلے 368.26 کروڑ روپے یعنی 9.6 فیصد زیادہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں اضافہ سے اقلیتوں کے سماجی اقتصادی اور تعلیمی بااختیار بنانے میں مدد ملے گی۔انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ بجٹ کا ستر فیصد سے زیادہ اقلیتوں کے تعلیمی بااختیار بنانے اور اسکل ڈیولپمنٹ کو فروغ دینے پر خرچ کیا جائے گا۔ بجٹ کا بڑا حصہ اسکالرشپ، فیلوشپ اور اسکل ڈیولپمنٹ کی اسکیموں سیکھو اور کماو، نئی منزل، نئی روشنی ، استاد، غریب نواز کوشل وکاس کیندر اور بیگم حضرت محل اسکالرشپ پر خرچ کئے جانے کا التزام ہے ۔
انہوں نے کہا کہ ملٹی سیکٹورل ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت بھی تعلیمی ترقی کی سرگرمیوں پر رقم خرچ کی جائے گی۔ میرٹ کم مینس اسکالرشپ پر 393.5 کروڑ روپے ، پری میٹرک اسکالرشپ پر 959کروڑ روپے ، پوسٹ میٹرک اسکالرشپ پر550کروڑ روپے ، سیکھو اور کماو پر 250کروڑ روپے ، نئی منزل پر 176 کروڑ روپے اور مولانا آزاد فیلوشپ اسکیم پر 100کروڑ روپے خرچ کرنے کا التزام ہے ۔ مولانا آزاد ایجوکیشن فاونڈیشن کے لئے 113 کروڑ روپے کا التزام کیا گیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT