Saturday , July 22 2017
Home / Top Stories / حکومت تین دن میں کرنسی بند کرنے کا فیصلہ واپس لے

حکومت تین دن میں کرنسی بند کرنے کا فیصلہ واپس لے

عوام بغاوت کردینگے ۔ انتخابات میں کامیابی سے آپ دستور سے بالاتر نہیں ہوگئے ۔ دہلی میں ریلی سے کجریوال و ممتابنرجی کا خطاب
نئی دہلی 17 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت کو بڑے کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے کے مسئلہ پر اپوزیشن کی سخت تنقیدوں کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ جہاں پارلیمنٹ میں احتجاج ہو رہا ہے وہیں چیف منسٹر دہلی اروند کجریوال اور چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی نے آج ایوان کے باہر احتجاج کیا اور انہوں نے آزاد پور ترکاری ہول سیل مارکٹ میں ایک مشترکہ ریلی سے خطاب کیا ۔ دونوں چیف منسٹروں نے حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے سے قبل حکومت اور بڑے صنعت کاروں کے مابین ساز باز ہوگئی تھی جو اپنے گھروں میں شادیوں پر سینکڑوں کروڑ روپئے خرچ کر رہے ہیں۔ کانکنی کے تاجر جناردھن ریڈی کی دختر کی شادی کا حوالہ دیتے ہوئے کجریوال نے حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ ایک طرف حکومت عام افراد کو اپنے بچوں کی شادیوں کیلئے 2.5 لاکھ روپئے ہی بینک سے نکالنے کی اجازت دے رہی ہے تو دوسری جانب جناردھن ریڈی نے اپنی دختر کی شادی پر 500 کروڑ روپئے خرچ کئے ہیں۔ کجریوال نے سوال کیا کہ اتنی بھاری رقم کے نوٹس کس نے تبدیل کئے ۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ کرنسی نوٹوں کا چلن بند کرنے کا فیصلہ واپس لے ۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی بے چینی ببہت جلد بغاوت میں بدل جائیگی ۔ ریلی سے خطاب میں کجریوال نے الزام عائد کیا کہ 500 اور 1000 کروڑ کے نوٹ بند کرنے کے پس پردہ ایک سازش ہے جس کے نتیجہ میں سارے ملک میں نراج کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوام کو بیوقوف بنا رہی ہے ۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔

انہوں نے حکومت سے کہا کہ وہ تین دن میں یہ فیصلہ واپس لیں ۔ عوام کے صبر کا امتحان نہ لیا جائے بصورت دیگر عوام بغاوت کردینگے ۔ انہوں نے ملک بھر میں اس مسئلہ پر ہوئی اموات کا حوالہ دیا اور کہا کہ اس کیلئے حکومت ذمہ دار ہے ۔ انہوں نے وزیر اعظم پر بھی کرپشن میں ملوث رہنے کا الزام عائد کیا ۔ چیف منسٹر مغربی بنگال ممتابنرجی نے ریلی سے جذباتی انداز میں خطاب کیا ۔ انہوں نے کہا کہ آج جو صورتحال ہے وہ ایمرجنسی کے دور میں بھی نہیں تھی ۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت اچھے دن آئیں گے کا نعرہ لگا رہی تھی کیا یہی اچھے دن ہیں ؟ ۔ انہوں نے وزْر اعظم سے کہا کہ وہ جلد یہ مسئلہ حل کریں بصورت دیگر انہیں بخشا نہیں جائیگا ۔ ہم ابھی زندہ ہیں۔ انہوں نے وزیر اعظم پر طنز کیا کہ ’’ کچھ دن پلین میں چڑھ کر ودیش کیا گھوم آئے دیش کو پلاسٹک معیشت پر چلانا چاہتے ہیں۔ دیش کی مٹی کو یہاں کے تیرقہ کو بھول گئے ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کسی کو آج انفیکشن ہے تو کیا اسے سات دن بعد انجیکشن دیا جائیگا ؟ ۔ انہوں نے مودی سے کہا کہ آپ نے کامیابی حاصل کی ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ آپ دستور سے بالاتر ہیں۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ ایمرجنسی کے دور میں بھی نہیں ہوا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوئی انانیت کی جنگ نہیں ہے بلکہ یہ ڈکٹیٹرشپ کے خلاف جدوجہد ہے ۔ انہوں نے ادعا کیا کہ ملک کے عوام نریندر مودی میں اپنا اعتماد کھوچکے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT