Friday , July 28 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت درگاہ حسین شاہ ولیؒ اراضی پر دعویٰ ترک کرے

حکومت درگاہ حسین شاہ ولیؒ اراضی پر دعویٰ ترک کرے

چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو قائد اپوزیشن محمد علی شبیر کا مکتوب
حیدرآباد۔ 14 فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے چیف منسٹر چندر شیکھر راؤ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے درگاہ حسین شاہ ولی ؒ کی اراضی کے سلسلے میں حکومت کی دعویداری ترک کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 21 فروری کو سپریم کورٹ میں اس مقدمہ کی سماعت کے موقع پر تلنگانہ حکومت کو چاہئے کہ وقف اراضی پر اپنے مقدمہ سے دستبرداری اختیار کرلے تاکہ مکمل اراضی وقف بورڈ کی تحویل میں آئے۔ چیف منسٹر کو روانہ کردہ مکتوب میں محمد علی شبیر نے اسمبلی میں چیف منسٹر کے وعدوں کو یاد دلایا اور کہا کہ اسمبلی کے سرمائی اجلاس میں کے سی آر نے انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن کے کنٹرول میں موجود اراضی اور 800 ایکر کھلی اراضی وقف بورڈ کے حوالے کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اس وعدہ کی تکمیل کیلئے واحد راستہ یہی ہے کہ حکومت سپریم کورٹ میں حلف نامہ داخل کرتے ہوئے وقف بورڈ کے حق میں دستبردار ہوجائے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو 21 فروری سے قبل ریوینیو، انڈسٹریل انفراسٹرکچر کارپوریشن اور دیگر متعلقہ محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس طلب کرتے ہوئے اس سلسلے میں فیصلہ کرنا چاہئے۔ وقف بورڈ کو اس مقدمہ کی پیروی میں لاکھوں روپئے خرچ کرنے پڑ رہے ہیں۔ ریاست کا یہ منفرد مقدمہ ہے جس میں حکومت خود ایک سرکاری ادارہ کے خلاف مقدمہ لڑ رہی ہے۔ محمد علی شبیر نے اپنے مکتوب میں کانگریس دور حکومت میں درگاہ حضرت اسحق مدنی ؒ، وشاکھاپٹنم کی اراضی وقف بورڈ کو حوالے کرنے کی مثال پیش کی۔ 1999ء میں این چندرا بابو نائیڈو نے یہ اراضی این ٹی پی سی اور ایچ پی سی ایل کو برقی پراجیکٹس کے قیام کیلئے حوالے کی تھی۔ کئی برسوں تک یہ مقدمہ سپریم کورٹ میں زیردوران رہا تاہم مختلف تنظیموں کی نمائندگی پر اس وقت کے چیف منسٹر ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی اور ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کی حیثیت سے محمد علی شبیر 2008ء میں مسئلہ کی یکسوئی کیلئے اہم سیاسی فیصلہ کیا۔ مختلف محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے ضلع اور ریاستی سطح پر جاری مقدمات اور سپریم کورٹ کے مقدمہ سے وقف بورڈ کے حق میں دستبرداری اختیار کرلی تھی، اس طرح 5,287 اراضی وقف بورڈ کے حق میں آگئی۔ حکومت نے 7 مارچ 2008ء کو جی او ایم ایس 10 جاری کرتے ہوئے اراضی حوالے کی تھی۔ اس کارروائی کو مثال بناتے ہوئے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ منی کونڈہ جاگیر کی 1654 ایکر اوقافی اراضی وقف بورڈ کے حوالے کرسکتے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT