Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت سماجی تحریکوں کی آواز کو ختم کرنا چاہتی ہے

حکومت سماجی تحریکوں کی آواز کو ختم کرنا چاہتی ہے

ورنگل میں انکاؤنٹر فرضی ‘ انقلابی ادیب ورا ورا راؤ کا بیان
حیدرآباد ۔ 17 ۔ ستمبر ( سیاست نیوز ) ضلع ورنگل میں پیش آئے انکاونٹر کو فرضی انکاونٹر قرار دیتے ہوئے انقلابی ادیب وراورا راؤ نے کہا کہ حکومت سماجی تحریکوں اور حقوق کی آواز کو ختم کرنا چاہتی ہے ۔ یاد رہے کہ کل ورنگل کے جنگلاتی علاقہ گویند راؤ پیٹ اور نارائن میں انکاونٹر کرتے ہوئے 23 سالہ شروتی اور 27 سالہ ودیا ساگر ریڈی کو ہلاک کردیا تھا ۔ انسانی حقوق اور سماجی جہد کاروں کے علاوہ انقلابی ادیبوں کی تنظیم ’’ ویراسم ‘‘ نے اس انکاونٹر پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے ۔ ویراسم قائد ورا ورا راو نے انکاونٹر کو فرضی انکاونٹر قرار دیتے ہوئے اس کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا اور حکومت پر الزام لگایا کہ وہ اپنی ناکامی کو چھپانے کی کوشش میں اپنی پالیسی کے خلاف اٹھائی جارہی عوامی آواز کو دبایا جارہا ہے ۔ انہوں نے آلیر کے وقار الدین اور اس کے ساتھیوں کے انکاونٹر کا حوالہ دیا اور کہا کہ پولیس کی ناکامی کو چھپانے اور پولیس و سامراجی طاقتوں کو خوش کرنے کیلئے عدالتی تحویل میں موجود وقار الدین اور ان کے ساتھیوں کو انکاونٹر کے نام پر ہلاک کیا گیا ۔ جبکہ شروتی اور ساگر کو مائنگ مافیا کے خلاف آواز کو ختم کرنے سامراجی طاقتوں کی خوشنودی کیلئے دونوں کو ہلاک کیا گیا ۔ انہوں نے حیرت انگیز انکشافات کرتے ہوئے کہا کہ شروتی کو جسمانی اذیت کے لیے تھرڈ ڈگری ہراسانی کے بعد آئسیڈ ڈال کر ہلاک کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ 15 ستمبر کی صبح انکاونٹر کا اعلان کیا گیا تاہم 2 تا 3 تین دن قبل ہی انہی گرفتار کرتے ہوئے انتہائی درجہ کی ہراسانی کا شکار بنایا گیا ۔ انہوں نے پولیس کے رویہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے انہیں سرکاری قاتل قرار دیا جو فرض کو بھلا کر سرکاری آلہ کار بنے ہوئے ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ انکاونٹر میں ہلاک شروتی اور ساگر ماوسٹ پارٹی سے وابستہ تھے ۔ انہوں نے ریاستی حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ حکومت تلنگانہ سنہرے تلنگانہ کی آڑ میں حق کی آواز کو دبارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فرضی انکاونٹر کی ذمہ دار ریاستی حکومت ہے ۔جو ماوسٹ پارٹی کی دشمن بنی ہوئی ہے ۔ انہوں نے چیف منسٹر تلنگانہ کے چندرا شیکھر راو پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کے سی آر ، چندرا بابو نائیڈو کے نقش قدم پر چل رہے ہیں ۔ سنہرے تلنگانہ کے قیام اور تشکیل ریاست سے قبل کئے گئے تمام وعدوں کو انہوں نے فراموش کردیا ۔ انہوں نے ریاستی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ عوام دشمن پالیسیوں پر عمل پیرا ہے ۔ قبل ازیں انہوں نے انکاونٹر میں ہلاک ماوسٹوں کے افراد خاندان سے ملاقات کی اور کہا کہ شروتی اور ساگر کے پوسٹ مارٹم کے وقت پولیس اور حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے سماجی اور عوامی تحریکوں سے وابستہ افراد سے اپنی دشمنی کو ظاہر کیا ہے ۔ گذشتہ روز ورنگل کے ایم جی ایم ہاسپٹل میں ان دو ماوسٹوں کی نعشوں کا پوسٹ مارٹم کیا گیا اور نعش ورثہ کے حوالے کردی گئیں ۔ اس موقع پر ہاسپٹل کے قریب پولیس نے عوام کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کرنے کی بھی اطلاع ہے ۔ ایم ٹیک سال آخر کی طالبہ شروتی ماوسٹ کریم نگر ، کھمم اور ورنگل رینج کی کمیٹی میں سرگرم تھی اور ساگر بھی اسی رینج کا سرگرم ماوسٹ تھا ۔ شروتی کے والد سدرشن ویراسم کارکن ہے ۔ سماجی جہد کاروں ، عوامی تنظیموں اور انسانی حقوق تنظیموں سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ انکاونٹر سے ثابت ہوتا ہے کہ حکومت تلنگانہ میں دوبارہ سرگرم ہورہے ۔ ماسٹوں کو تباہ کرنا چاہتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT