Monday , October 23 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت سے سلطنت آصفیہ کی تعریف و توصیف کے باوجود مقبروں کی دیکھ بھال میں ناکامی

حکومت سے سلطنت آصفیہ کی تعریف و توصیف کے باوجود مقبروں کی دیکھ بھال میں ناکامی

مکہ مسجد میں واقع مقبروں میں سیاحوں کو توقف کرنے کی اجازت نہیں، محکمہ اقلیتی بہبود کی لاپرواہی آشکار
حیدرآباد ۔ 2 نومبر (سیاست نیوز) مکہ مسجد کے صحن میں واقع آصف جاہی سلاطین کے مقبروں میں عوام کا داخلہ ممنوع قرار دیدیا گیا ہے اور سیاحوں و مصلیان اکرام کو مسجد کے اس حصہ میں توقف کرنے نہیں دیا جارہا ہے جس کی اہم وجہ مکہ مسجد کے صحن میں واقع اس عمارت کی خستہ حالی بتائی جارہی ہے۔ متعلقہ محکموں کی جانب سے اس طرح کے کوئی احکام تو جاری نہیں کئے گئے ہیں لیکن ملازمین مکہ مسجد اس حصہ کے متعلق خدشات کا شکار ہوچکے ہیں چونکہ آئے دن آصف جاہی سلاطین کے مقبروں کے اوپر واقع چھت سے مٹی گرنے لگی ہے۔ شہر حیدرآباد کا نام آتے ہی مکہ مسجد اور چارمینار کا تصور ذہنوں میں ابھرنے لگتا ہے لیکن حکومت، محکمہ آثارقدیمہ اور محکمہ اقلیتی بہبود کی لاپرواہی مکہ مسجد کے وجود کیلئے خطرہ ثابت ہورہی ہے۔ مکہ مسجد کے صحن میں واقع آصف جاہی سلاطین کے مقبرہ بھی تاریخی اہمیت کے حامل ہیں اور مکہ مسجد کے صحن میں ہونے کے باعث مکہ مسجد کو پہنچنے والے سیاح ان مقبروں کے آس پاس کچھ وقت گذارا کرتے تھے لیکن اب انہیں اس حصہ میں جانے سے روک دیا جارہا ہے۔ تاریخی مکہ مسجد کے اندرونی حصہ کی حالت بتدریج ابتر ہوتی جارہی ہے اور متعدد مرتبہ توجہ دہانی کے باوجود مسئلہ جوں کا توں برقرار ہے۔ مکہ مسجد کی مرکزی عمارت کو درپیش مسائل کے حل کیلئے متعدد مرتبہ توجہ دہانی کروائی جاچکی ہے لیکن اس کے باوجود یہ مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔ صحن میں واقع آصف جاہی سلاطین کے مقبروں کے قریب سیاحوں کی بڑی تعداد جمع ہوتی ہے اور اس خوبصورت عمارت کے ساتھ ساتھ مزاروں پر موجود نقاشی کے فن پاروں کا مشاہدہ کرتے ہیں لیکن ایسا محسوس ہورہا ہیکہ مزید چند یوم اس خطہ کو نظرانداز کرتے ہوئے محکمہ اقلیتی بہبود، محکمہ آثارقدیمہ و دیگر متعلقہ محکمہ جات اس عمارت کے منہدم ہونے کا انتظار کررہے ہیں۔ مکہ مسجد کے تعلق سے اختیار کردہ لاپرواہی والے رویہ سے ایسا محسوس ہوتا ہیکہ حکومت اور محکمہ جات کا یہ احساس ہیکہ اس تاریخی مسجد سے حکومت کو کوئی آمدنی نہیں ہے اسی لئے مسجد کو ایسے ہی چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ حقیقت یہ ہیکہ شہر حیدرآباد پہنچنے والے سیاح جو چارمینار کی سیاحت کیلئے پہنچتے ہیں ان کی اکثریت مکہ مسجد کا بھی مشاہدہ کرتی ہے۔ اس بات کا احساس پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ مسجد کے امور محکمہ اقلیتی بہبود کو تفویض کئے گئے ہیں لیکن محکمہ اقلیتی بہبود مسجد کے امور کی انجام دہی میں بڑی حد تک ناکام ثابت ہوتا جارہا ہے۔ موجودہ حکومت کی جانب سے سلطنت آصفیہ کے فرمانرواں کی تعریف و توصیف کی جاتی رہی ہے لیکن عملی طور پر آصف جاہی سلاطین کے مقبروں کو محفوظ کرنے کے کوئی اقدامات نہیں کئے جارہے ہیں جبکہ مکہ مسجد کے صحن میں واقع آصف جاہی سلاطین کے مقبروں میں آصف جاہ سوم نواب میر اکبر علی خان صدیقی سکندرجاہ کے علاوہ آصف جاہ ششم افضل الدولہ نواب میر محبوب علی خان المعروف محبوب علی پاشاہ جیسے عظیم شخصیتوں کی مزارات موجود ہیں۔ تاریخی مکہ مسجد کی تعمیر کا عمل 1694 میں مکمل کیا گیا تھا اور مسجد کی تعمیر کے کافی عرصہ بعد صحن میں آصف جاہی سلاطین کے مقبروں کی یہ عمارت تعمیر کی گئی ہے جس کی حالت انتہائی خستہ ہوچکی ہے۔ اس عمارت کی فرش پر سنگ مرمر کا استعمال کیا گیا ہے جبکہ مزاروں پر موجود سنگ نقاشی کا بہترین نمونہ ہیں جوکہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ مصلیان مسجد کے علاوہ سیاحوں کی جانب سے مسجد کے صحن میں واقع اس حصہ میں داخلہ سے روک دیئے جانے پر افسوس ظاہر کیا جارہا ہے جبکہ اگر محکمہ اقلیتی بہبود اور محکمہ آثارقدیمہ فوری طور پر کارروائی کرتے ہیں تو ایسی صورت میں اندرون 6 ماہ اس عمارت کی چھت کی مکمل داغ دوزی عمل میں لائی جاسکے جس سے عمارت کی حفاظت یقینی ہے۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT