Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / حکومت عوام کے مسائل سے نمٹنے میں ناکام

حکومت عوام کے مسائل سے نمٹنے میں ناکام

یونیورسٹیوں میں وائس چانسلرس کی جائیدادیں خالی : کانگریس
حیدرآباد ۔ 12 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : تلنگانہ حکومت عوام کو درپیش مختلف مسائل سے نمٹنے اور ان مسائل کی یکسوئی میں ناکام ثابت ہوئی ۔ اس کے باوجود گورنر تلنگانہ مسٹر ای ایس ایل نرسمہن نے ریاست میں سب کچھ ٹھیک رہنے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے تحریر کردہ الفاظ کو اپنے خطبہ کے طور پر پیش کیا جب کہ ریاست تلنگانہ کے ساتھ ساتھ آندھرا پردیش کی مختلف یونیورسٹیوں کے خود مسٹر ای ایس ایل نرسمہن چانسلر ہیں ۔ اس کے باوجود ریاست تلنگانہ کی تمام یونیورسٹیوں کے وائس چانسلرس عہدے ایک طویل عرصہ سے ( کم از کم تین سال سے ) مخلوعہ ہیں ۔ لیکن انہوں نے کبھی بھی ان مخلوعہ وائس چانسلروں کے عہدوں کو پر کرنے کی حکومت کو کوئی ہدایت شاید ہرگز نہیں دی ۔ جس کے نتیجہ میں یونیورسٹیوں کی صورتحال روز بروز خستہ ہوتی جارہی ہے ۔ آج یہاں اسمبلی میں گورنر کے خطبہ پر تحریک تشکر پر جاری مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کانگریس رکن اسمبلی مسٹر سمپت کمار نے مذکورہ اظہار کیا اور بتایا کہ آج طلباء کئی ایک مسائل سے دوچار ہیں لیکن گورنر کے خطبہ میں طلباء کے مسائل کا بھی کہیں کوئی تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ مسٹر سمپت کمار نے حکومت بالخصوص چیف منسٹر کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ چیف منسٹر عالیشان و پختہ عمارتوں کو منہدم کر کے اسی مقام پر عصری و عالیشان عمارتوں کی تعمیر کا ارادہ رکھتے ہیں جب کہ خستہ حال عمارتوں کو منہدم کر کے نئی عمارتیں تعمیر کرنے سے چیف منسٹر کوئی دلچسپی نہیں رکھتے ۔ انہوں نے محبوب نگر کلکٹریٹ آفس عمارت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس عمارت میں فرائض انجام دینے والے عہدیداروں و ملازمین کو ہمیشہ اس بات کا خوف لاحق رہتا ہے کہ عمارت کبھی بھی منہدم ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ گذشتہ دنوں حیدرآباد سنٹرل یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ویمولا روہت کے خود کشی واقعہ نے ملک بھر میں ہنگامہ برپا کیا ۔ لیکن اس واقعہ کا بھی گورنر کے خطبہ میں کہیں تذکرہ تک نہیں کیا گیا ۔ اسی دوران سی پی آئی رکن اسمبلی مسٹر رویندر کمار اور سی پی آئی ایم رکن اسمبلی مسٹر ایس راجیا نے بھی مباحث میں حصہ لیتے ہوئے گورنر کے خطبہ کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ گورنر کے خطبہ میں کوئی ایک بات بھی نئی نہیں کی گئی بلکہ حکومت کی تحریر کر کے فراہم کردہ تقریر کو گورنر نے پڑھ کر سنادیا ۔ ان ارکان نے مزید کہا کہ ریاست میں جہاں سنگین خشک سالی جیسی صورتحال پائی جارہی ہے ہر جگہ پانی کی ابھی سے زبردست قلت پائی جارہی ہے ۔ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے کئے جانے والے کسی اقدامات کا گورنر کے خطبہ میں کہیں تذکرہ نہیں کیا گیا ۔ ان ارکان اسمبلی نے خشک سالی حالات اور پانی کی شدید قلت کو دور کرنے کیلئے بڑے پیمانے پر موثر اقدامات کرنے کا حکومت سے مطالبہ کیا ۔ مباحث کے اختتام پر ایوان کی کارروائی کو ڈپٹی اسپیکر نے کل تک کیلئے ملتوی کرنے کا اعلان کیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT